پاکستان اور بھارت کے الیکشن پر ایک نظر
پاکستان اور بھارت دونوں ایک برطانیہ کی کالونی رہے ہیں۔ 1947 کے بعد دونوں ملک ایک آزاد حیثیت کے طور پر دنیا کے نقشے پر سامنے آئے ہیں۔ دونوں ملک ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں جو جنوبی ایشیا میں کسی قسم کا توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں میں پارلیمانی جمہوریت قائم ہے۔ اسی جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں ملکوں میں الیکشن ہوتے ہیں۔ تاکہ جمہوریت کو مضبوط کیا جا سکے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کے اندر بھارت جیسی جمہوریت کو پنپنے کے لیے موقع فراہم نہیں کیا جا رہا۔ بھارت میں 1951 میں پہلا الیکشن ہوا جس میں 53 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ جبکہ پاکستان میں اسی سال لاہور میں مارشل لا لگا کر جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا جس سے مارشل لاء کا راستہ ہموار ہوا۔ پاکستان میں 1951 سے لے کر 1958 تک کئی وزیراعظم کرسی پر براجمان رہے مگر افواج پاکستان کا سربراہ ایک ہی رہا۔ 8 فروری 2024 کو شہری اگلے 5 سال کے لیے حکومت انتخاب اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2018 ء کے الیکشن کے مقابلے میں اس مرتبہ 2024 ء کے انتخابات میں 12 لاکھ زیادہ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ مجموعی طور پر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 79 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے کل 855 حلقوں پر 17 ہزار 758 امیدوار الیکشن میں حصہ لیا۔ ماضی کی طرح اس الیکشن میں بھی دھاندلی اور مینڈیٹ کو چوری کرنے کا الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
جبکہ انڈیا میں 19 اپریل یعنی جمعہ کے روز سے عام انتخابات منعقد ہوئے ہیں۔ انتخابات کا یہ عمل اگلے چھ ہفتوں تک جاری رہے گا اس میں کل 44 دن لگے گے۔ جس کے دوران 96 کروڑ 90 لاکھ اہل ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ ملک میں 2500 سے زاہد سیاسی جماعتیں ہیں جن میں صرف 10 سیاسی جماعتوں 86 % لوک سبھا کی نشستوں پر کنٹرول حاصل کر لیتی ہیں۔ انڈیا میں اتنے لمبے عرصے تک الیکشن کیوں ہوتے ہیں؟ انڈیا دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ تو اتنے بڑے پیمانے پر ایک دن میں الیکشن کرنا مشکل عمل ہے۔ دوسرا دور دراز علاقے جہاں آمد و رفت کے مسائل ہیں۔ اس سارے معاملات کے باوجود الیکشن میں کیسی قسم کی دھاندلی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں نتیجے تسلیم کرتے ہیں۔ انڈیا کے الیکشن میں سب سے اہم بات لاکھوں کی تعداد میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا آئیڈیا 1977 میں سامنے آیا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں انتخابات میں پہلی بار 1982 میں استعمال کی گئی تھیں۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان مشینوں کے استعمال میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ جن میں شہریوں کے پاس امیدواروں کو چننے کے ساتھ ساتھ ایک راستہ یہ بھی موجود ہوتا ہے کہ وہ کہہ سکیں کہ وہ کسی کو بھی منتخب نہیں کرنا چاہتے یہ ایک اچھا راستہ ہے۔ کہ لوگوں کو جہموریت پہ کتنا یقین ہے۔ 1951 سے لے کر اب تک بھارت میں ایک تسلسل کے ساتھ الیکشن ہوتے آ رہے ہیں اور ہر اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے انڈیا کے 20 کروڑ اقلیتی مسلمانوں اور کم ذات ہندووں کے خلاف امتیازی سلوک کرتے ہیں اور اپنے سخت گیر ہندو ووٹرز کو خوش کرنے کے لیے انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وقفے وقفے سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے مگر اس سب کے باوجود بھی انڈیا ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں کبھی الیکشن اپنے وقت پر ہوئے ہی نہیں ہیں اگر الیکشن اپنے وقت پر ہو بھی جاتے ہیں لیکن مخالف سیاسی جماعتوں نے کبھی اس کے نتائج کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا تو کبھی سلیکٹڈ وزیراعظم اور کبھی تھرڈ امپائر کی آواز گونجنا شروع ہو جاتی ہے۔ وطن عزیز میں تقریباً 76 برسوں میں ایک بھی وزیر اعظم اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔ ان 76 برسوں میں 22 وزیر اعظم آئے۔ سیاسی جماعتوں میں خود بھی جہموریت موجود نہیں۔ ایک سیاسی جماعت کو چھوڑ کر باقی تمام سیاسی جماعتوں میں شخصی جہموریت ہے۔ جو سیاسی جماعتیں ملک میں جہموریت کی بات کرتے ہیں لیکن خود اپنی جماعت کے اندر جہموریت قائم نہیں کر سکتے۔ جو ملک کی جہموریت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
ملک میں موجود ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے جہموریت اور آئین کو اپنی پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں۔ جس سے ملک اور عام آدمی کو ہی نقصان پہنچتا ہے۔ نتیجہ ہر سال آئی ایم ایف کی امداد پر ملک چلایا جاتا ہے اگر ہر ادارہ اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر اپنے اختیارات کا استعمال کرے۔ الیکشن میں دھاندلی جسے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ الیکشن کے تسلسل سے جہموریت کو فروغ ملے گا۔ مگر یہ تب ہو گا جب ہر شخص ملک کی ترقی میں اپنا اخلاقی، مذہبی، قومی اور قانونی کردار ادا کرے گا۔


