انڈین انتخابات اور مودی

19 اپریل سے بھارت میں لوک سبھا یعنی مرکزی قانون ساز ایوان کے انتخابات شروع ہوچکے ہیں۔ یہ پولنگ سات مختلف مراحل میں ہوگی، پہلا مرحلہ 19 اپریل جب کہ آخری مرحلہ یکم جون 2024 کو ہو گا۔ انتخابات کے دوران 97 کروڑ سے زائد افراد ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں، بھارت بھر میں 10 لاکھ سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد کا عملہ خدمات سر انجام دے گا۔ بھارت کی 28 ریاستوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ سمیت 8 مرکزی علاقوں میں بھی لوک سبھا کے انتخابات ہوں گے۔ انتخابات کے دوران 2700 سے زائد سیاسی جماعتیں اور 8 ہزار سے زائد امیدوار اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے 543 میں سے 270 نشستیں درکار ہوں گی، کوئی بھی جماعت کسی دوسرے گروپ کے ساتھ اتحاد کر کے بھی حکومت بنا سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن کو ہر اس جگہ پولنگ بوتھ لازمی بنانا ہوتا ہے، جہاں رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہوں۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے عملے کو پولنگ اسٹیشنز یا بوتھ تک پہنچنے کے لیے، پیدل، اونٹوں، گدھا گاڑیوں، بیل، ٹرین، بسوں، جہاز اور ہیلی کاپٹر سمیت کشتیوں پر سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔ بھارت میں سب سے بلند پولنگ بوتھ آندھرا پردیش میں چینی سرحد کے قریب بنایا گیا ہے، جہاں ممکنہ طور پر ایک یا دو ووٹرز ووٹ کاسٹ کریں گے۔ پہلے مرحلے میں 19 اپریل کو مجموعی طور پر 21 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں پولنگ ہوگی اور مجموعی طور پر 102 نشستوں پر ارکان کا انتخاب ہو گا۔
دوسرے مرحلے میں 26 اپریل کو 13 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں 89 سیٹوں پر پولنگ ہوگی۔ تیسرے مرحلے میں 7 مئی کو بھی 12 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں 94 سیٹوں کے لیے پولنگ ہوگی۔ چوتھے مرحلے میں 13 مئی کو 96 نشستوں کے لیے 10 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں ووٹ کاسٹ کیے جائیں گے۔ پانچویں مرحلے میں 20 مئی کو سب سے کم 49 نشستوں کے لیے 8 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں پولنگ ہوگی۔ چھٹے مرحلے میں 25 مئی کو 57 سیٹوں کے لیے 7 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں پولنگ ہوگی۔
ساتویں مرحلے کے لیے یکم جون کو 57 نشستوں پر 8 ریاستوں اور مرکزی علاقوں میں پولنگ ہوگی۔
بھارت کی آبادی لگ بھگ ایک ارب چالیس کروڑ ہے ’جس میں 97 کروڑ ووٹرز کے لیے دس لاکھ سے زیادہ پولنگ سٹیشنز پر پولنگ ہوگی۔ لوک سبھا کی 543 نشستیں ہیں۔ مختلف ریاستوں میں رقبے اور آبادی کے لحاظ سے نشستیں متعین ہیں۔ سب سے زیادہ نشستیں اتر پردیش (یو پی) میں 80 ہیں۔ مہارشٹرا کی 48 اور مغربی بنگال کی 42 نشستیں ہیں۔ باقی صوبوں (ریاستوں ) کی نشستیں ان تینوں سے کم ہیں۔ کسی جماعت کو اکثریت کے لئے 272 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ بی جے پی کی سربراہی میں بننے والے 38 جماعتی اتحاد این ڈی اے کو برتری حاصل ہے اور یہ کہ نریندر مودی مسلسل تیسری بار بھارتی وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔ مودی نے نہایت چالاکی سے ہندو مذہبی جذبات کو ابھارا ہے اور ہر وہ کارڈ کھیلا ہے جس سے اسے کامیابی مل سکتی ہے۔
بھارت میں مسلم دشمنی لیڈر بننے کی ضامن ہے۔ بھارت میں اسی فیصد آبادی ہندو جبکہ مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ 16 فیصد (کم و بیش 22 کروڑ) ۔ سیاسی طور پر 1970ء سے سے اب تک ایوانوں میں مسلمانوں کی نمائندگی محض پانچ فیصد ہے۔ قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں نے کوئی مسلم نمائندہ جماعت بنانے سے گریز کیا۔ انہیں یہی بہتر لگا کہ دیگر سیکولر سیاسی جماعتوں مثلاً کانگریس وغیرہ میں مدغم ہوجائیں ’لیکن ان جماعتوں کی اپنی پالیسیاں تھیں۔ مسلمانوں کو سیاسی میدان سے بتدریج تین طریقوں سے نکالا جاتا رہا۔ 1۔ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ ہی نہ دیے گئے اگر دیے گئے تو ان کی کامیابی کے لیے کوششیں نہ کی گئیں۔ 2۔ حلقوں کی سیاسی حد بندیاں اس طرح کی جائیں کہ مسلم ووٹ مختلف حلقوں میں تقسیم ہو جائے۔ 3۔ ووٹروں کو ووٹ ڈالنے ہی سے روک دیا جائے۔ یہ تینوں حربے اب تک ہر الیکشن میں استعمال کیے جاتے رہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت بھر میں مسلمانوں کا کوئی بڑا سیاسی رہنما ہے نہ مسلمانوں کی اپنی یا ہم خیال سیاسی جماعت موجود ہے۔ وہ کبھی جنتا دل کا ساتھ دیتے ہیں‘ کبھی لالو پرشاد یادیو کا ’کبھی کانگریس کا اور کبھی بنگال کی ممتا بینرجی کا۔ الیکشن 2024 ء میں بھی مسلمانوں کا کوئی واضح لائحہ عمل نظر نہیں آتا۔ ہر جگہ کی اپنی اپنی پالیسی ہے۔ یہ وہ تقسیم ہے جو، بی جے پی کو ایک بار پھر کامیابی سے ہمکنار کیا چاہتی ہے۔ ہر بار مودی نے برسر اقتدار آتے ہی مسلم دشمن اقدامات کیے۔ کشمیر کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ ہو یا شہریت کے متنازع قوانین یا این آر سی اے اور سی اے اے جیسے کالے قوانین۔ ایک بار پھر یہی سب کچھ بدتر انداز میں ہونے جا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں بھارتی میڈیا پر مودی کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ بھارتی یوٹیوب نیوز چینلز بھی غلط معلومات اور اسلامو فوبیا سے متعلق من گھڑت خبریں چلا رہے ہیں۔ یہ چینلز منفی مواد کے ذریعے حزب مخالف کے رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہوئے مودی سرکار اور بی جے پی کو خوش کر رہے ہیں۔ مودی سرکار نے ہندوتوا پالیسی کے فروغ کے لیے اسلامو فوبیا مہم شروع کر رکھی ہے۔ فیس بک اور واٹس ایپ پر 13 سے زائد ہندوتوا گروپس محض اسلامو فوبیا کو ہوا دے رہے ہیں۔ بھارت میں مذہبی جنونیت اور انتہاپسندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مذہبی انتہاپسندی میں بھارت دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔
مودی حکومت نے ہندو انتہاپسندوں اور آر ایس ایس کے غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ اقلیتوں کو ہندوستان میں سکھ کا سانس نہ لینے دیں۔ انسانیت سوز مظالم کے ساتھ ان کے گھروں کو گرا دیا جاتا ہے، مساجد کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور انہیں شہید کر دیا جاتا ہے۔
گزشتہ ستر سال کے دوران 50، 000 کے قریب بھارتی مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ ان میں مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ پچیس ہزار شہید ہونے والے مسلمان شامل نہیں ہیں۔ نریندر مودی کی کامیابی مزید یقینی بنانے کے لیے انڈین اسٹیبلشمنٹ کوشاں ہے کہ بھارت بھر میں کوئی ایک امیدوار بھی ایسا نہ رہے جو مودی کو چیلنج کر سکے چنانچہ ان انتخابات سے دو ماہ پہلے جھاڑ کھنڈ کے وزیر اعلیٰ (ہیمنت سورن) اور چار ہفتے قبل دہلی کے ہر دل عزیز نوجوان وزیر اعلیٰ، اروند کجریوال، کو مودی حکومت کی مالیاتی کرائم ایجنسی نے گرفتار کر لیا۔ مودی کی مرکزی حکومت نے ہیمنت سورن پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس نے رانچی میں سرکاری زمین ہڑپ کر رکھی ہے اور کجریوال پر تہمت عائد کی ہے کہ بطور وزیر اعلیٰ انھوں نے مودی حکومت کی وضع کردہ ایکسائز پالیسیوں کے برعکس، دہلی میں شراب پالیسی میں من مرضی کی ترمیمات کر کے خود بھی کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے، اپنے چند مقربین ساتھیوں کو بھی کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا ہے اور اپنی پارٹی (AAP) کے خفیہ فنڈز میں بھی بے حد اضافہ کیا ہے۔
مودی حکومت نے دہلی کے وزیر اعلیٰ کو سنگین الزامات کے تحت اس لیے زندان میں ڈالا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کجریوال کو ہرانے کی سکت نہیں۔ اور یہ کہ بھارتی پنجاب اور دہلی میں مقتدر ”عام آدمی پارٹی“ (AAP) کو انتخابات میں پسپا کیا جا سکے۔ برسر اقتدار مودی حکومت اپنے تین مخالف وزرائے اعلیٰ (ہیمنت سورن، بھگونت مان اور کجریوال) ہی کو انتخابات میں کامیابیوں سے دور رکھنے کے لیے یہ غیر جمہوری حربے استعمال نہیں کر رہی بلکہ مودی نے بھارت بھر میں اپنی سب سے بڑی حریف جماعت، کانگریس، کے فنڈز بھی منجمد کر دیے ہیں تاکہ نہ بانس ہو اور نہ بجے گی بانسری۔ مودی کے حکم پر بھارتی محکمہ انکم ٹیکس نے کانگریس پارٹی کے بینک اکاؤنٹس ( ایک ارب 35 کروڑ روپے ) منجمد کر دیے ہیں۔ کانگریسی مرکزی رہنما، راہل گاندھی، نے واویلا مچاتے ہوئے کہا ہے کہ ”پارٹی بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے کے بعد ہم اتنے لاچار ہو گئے ہیں کہ ہمارے پارٹی لیڈرز انتخابی دوروں کے لیے نہ جہازوں میں سفر کر سکتے ہیں، نہ ریلویز میں، یہ سب کالے کرتوت نریندر مودی کے ہیں۔“ مخالفین کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر یہی کہا جا سکتا ہے :
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
بھارت کے ایک معروف ٹاک شو میں دو شرکت کنندگان نے مودی حکومت کے مذکورہ ہتھکنڈوں بارے سوال اٹھایا تو بی جے پی کے طرف جھکاؤ رکھنے والے اینکر نے ترنت جواب دیا: ”جب ایسے ہی ہتھکنڈے پاکستانی انتخابات میں بروئے کار لائے جاتے ہیں تو اس وقت آپ کو چپ کیوں لگ جاتی ہے؟ کجریوال کی خاتون وزیر آتشی نے کہا ہے کہ :“ مودی حکومت کجریوال اور AAP کے دیگر وزرا کو جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کر کے دراصل انتخابات چوری کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ ”کیجریوال نے جیل میں بیٹھ کر انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے

