مذہبی انتہا پسندی


مذہبی انتہا پسندی جدید دور کی دنیا میں پاکستان کے انسانی حقوق کی صورتحال کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان میں ہندو، مسلمان، سکھ، مسیحی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو اکثر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ پاکستان میں اپنے گھروں اور کام کی جگہوں پر خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

آج ہم مذہبی انتہا پسندی کی تاریخ اور اس کی وجوہات کو تلاش کرنے کے کوشش کرتے ہیں۔ انتہا پسندی کا پتہ 1970 کی دہائی سے لگایا جا سکتا ہے۔ جیسے پاکستان کے لیے اندرونی اور بیرونی طور پر ایک ہنگامہ خیز دہائی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ جس سے متاثر ایک سلسلہ دوسری فوجی حکومت 1969 تا 71 اور بنگلہ دیش کی شکست، بھٹو کی پین اسلام ازم تاریخ، تیسری فوجی حکومت ( 1977۔ 88 ) ، جنرل ضیاء کا انقلاب ِاسلامائزیشن، امریکی قیادت میں افغان جہاد اور ایرانی انقلاب یہ دب وہ واقعات ہیں جس نے پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ جس کے آفر شاکس ابھی تک ہم بھگت رہے ہیں۔

اسی لیے آج ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں پرتشدد انتہا پسندی کے پس منظر میں ایک اور نئی قسط 9۔ 11 کے بعد نئے سرے سے شروع ہے جو کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اسی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی منفی بیرونی حیثیت کے طور پر ، پاکستان کے انسانی اور سماجی سرمائے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں پاکستان کی جنتا کو صدمے کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ انتہا پسندوں کے استحصال کا شکار ہوئی اور جس سے ملک میں امن اور ہم آہنگی کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔

مذکورہ بالا تمام واقعات نے ایسے لوگوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جنہوں نے مذہب، نسل، فرقہ ورانہ تعصبات کے نام پر حالات کو خراب کیا اور اپنے مخالفین جیسے مذہبی گروہوں، سول سوسائٹی، ریاست کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے خود ساختہ جواز کو پیش کیا اور پوری کی پوری ریاست کو خطرے میں ڈال دیا۔ اور یہی نہیں ملکی ادارے غیر ملکی عناصر کی اپنی انتہا پسندی اور تشدد کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے مختلف شدت پسند بیانیہ کے استعمال کو جائز قرار دیا۔

تاریخی ادب میں یہ بات عیاں ہے کہ مذہب کو مخصوص اسٹیک ہولڈرز نے ایک مخصوص سیاسی سیٹ اپ میں اپنی نظریاتی شناخت کے احیاء کے طور پر پکارا ہے، اس حقیقت سے قطع نظر کہ اس طرح کے شخصی مظاہر معاشرے کے لیے کتنے برے ہو سکتے ہیں، پھر بھی ایک بہت بڑی تعداد نے معاشرے میں تشدد کے تصور کی پرورش کی۔ موجودہ دور جیسا کہ حالیہ برسوں میں مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے ملک کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ حقیقی طور پر ، پاکستان میں اسی فرقہ ورانہ جھڑپوں میں ہزار جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ تباہی جاری ہے۔

اسی انتہا پسندانہ بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی اداروں میں اس پس منظر میں ایک نئی بحث شروع تب ہوئی جب آرمی پبلک سکول کا انتہائی افسوسناک واقع پیش آیا۔ حکومت پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ نیشنل ایکشن پلان اصلاً دو اجزا پر مشتمل ہے۔ ایک جزو وہ ہے جس کا تعلق دہشت گردی کے خاتمے سے ہے۔ دوسرا جزو انتہا پسندی کے خاتمے کو مخاطب بناتا ہے۔ انتہا پسندی ایک ذہنی اور فکری عمل ہے جس کے زیرِ اثر انسان کی نفسیات بنتی ہے۔ دہشت گردی اس کا عملی اظہار ہے۔ ایک انتہا پسند ذہن ایک خاص نفسیاتی کیفیت میں جب انسانی جان و مال کو ہدف بناتا ہے تو دہشت گردی جنم لیتی ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ انتہا پسندی کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔

اس لئے اس بات کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی گئی کہ دونوں کو بیک وقت ہدف بنایا جائے۔ نیشنل ایکشن پلان کا بنیادی تصور بھی یہی ہے۔ آج دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی، ان کے مراکز ختم ہو چکے اور ہم بڑی حد تک دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اس لعنت سے ہم نے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔ تاہم کچھ عرصے بعد ایک آدھ واقعہ ایسا ہو جاتا ہے جو قوم کو ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کر دیتا ہے اور کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

اس زمرے میں سیاسی و عسکری قیادت کا متفقہ خیال یہی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعض ایسے پہلو ہیں جن پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔ اس کمزوری کے باعث دہشت گردوں کی باقیات کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ کسی واقعے سے معاشرے کو اضطراب میں مبتلا کر دیں۔ دراصل ایسے واقعات کا تعلق انتہا پسندی کے ساتھ ہے جس کا خاتمہ ابھی نہیں کیا جا سکا۔ اس سے وہ لوگ جو اِدھر اُدھر چھپے بیٹھے ہیں، فائدہ اُٹھاتے اور واردات کر گزرتے ہیں

Facebook Comments HS