دوپہر کا چاند ؛ ایک تاثر
”دوپہر کا چاند“ نذیر قیصر کی شاعری کا گیارہواں مجموعہ ہے۔ اس تازہ کتاب کے مقدمے اور غزلوں کو پڑھتے ہوئے میں نے محسوس کیا ہے ان کے لیے شاعری محض فنی اظہار نہیں ہے زندگی کرنے کا اسلوب ہے۔ وہ جو بلھے شاہ نے کہا تھا کہ ”رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی“ تو اس کی ایک تفسیر آپ کو یہاں ملے گی۔ اپنے اشعار میں اور ’پہلا حرف‘ کی نثر میں بھی، متن تشکیل دیتے ہوئے اس کی بدلی ہوئی فضا میں اتر جانے اور پورے وجود کے منقلب ہونے کے ساتھ وہاں زندگی بسر کرنے کا انہیں احساس ہے۔ وہی بلھے شاہ کے لفظوں میں ”رانجھا میں وچ، میں رانجھے وچ، ہور خیال نہ کوئی“ ایسا لطیف احساس میں کم کم شاعروں کے ہاں دیکھ پایا ہوں۔ میں نے اچھے بھلے شاعروں کے ہاں دیکھا رکھا ہے کہ انہیں اپنے تخلیقی عمل کی بھیدوں بھری راہ گزر کی بابت کچھ لکھنا پڑ جائے تو اپنی ہی اسلوبی اور شعری منطق سے باہر نکل کر کہیں اور اوبڑ کھابڑ راستوں پر چل دیتے ہیں۔ اپنے تخلیق عمل کا اپنے وجدان سے ہر سطح پر معاملہ اور اس سارے معاملے کے شعور کی عطا کسی کسی کا بخت ہوتی ہے۔ نذیر قیصر اس کا شعور رکھتے ہیں کہ:
’کوئی اسم کوئی عبارت معنیٰ سے خالی نہیں۔ ہر لفظ خیال ہوتا ہے اور کبھی خیال میں کوئی سوال بھی ہوتا ہے جو تمام مفہوم و معانی کے بت کدے کو مسمار کر کے شاعر کو نئی پیکر تراشی پر آمادہ کرتا ہے۔ ‘
ان کی زندگی بسر کرنے کا آہنگ ہو یا شاعری کا، ان میں کوئی تفریق یا دوئی نہیں ہے اس کا اکتشاف ان کے وجود پر اتر چکا ہے۔ ’پہلا حرف‘ میں وہ ہم پر اس کا انکشاف یوں کر رہے ہیں :
’زندگی اور شاعری ایک دعوت نامہ ہے۔ ایک ایسا دعوت نامہ جس پر کوئی تاریخ کوئی دن اور کوئی وقت درج نہیں ہوتا۔ اس دعوت نامہ پر تاریخ، دن اور وقت ہم نے خود لکھنا ہوتا ہے اور جب ہم تاریخ اور وقت لکھتے ہیں تو پہلا دن طلوع ہوتا ہے، پہلی شام اترتی ہے اور ہم زندگی اور شاعری کی دعوت میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ جشن ہمارا اپنا ہے۔ ‘
وہ مزید لکھتے ہیں :
’جو شاعر زندگی کے دعوت نامے پر دن، تاریخ، وقت درج نہیں کرتا۔ زندگی اور شاعری کے جشن کا دروازہ اس پر نہیں کھلتا۔ وہ اپنی بجھی ہوئی مشعل لیے دروازے سے باہر اونگھتا رہتا ہے۔ ‘
میں نے جب جب نذیر قیصر کی غزلیں پڑھیں مجھے لگا کہ میں وہاں ہوں ہی نہیں جہاں میں اور میرا روز مرہ ہے اور اس زمان و مکان میں بھی نہیں جو ہماری اردو غزل کو محبوب رہا ہے اور کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ابھی تک محبوب ہے۔ وہی ایک خاص قسم کی سوگواریت، تنہائی اور احساس زیاں کا ماحول اور پرانی شاعری کی ڈکشنری سے چنے ہوئے الفاظ کا مجموعہ۔ میں یہ دیکھ رہا تھا کہ نذیر قیصر کی غزل احساس اور اظہار کے اتنے نئے قرینوں کے ساتھ موجود تھی کہ پوری فضا بدل گئی تھی۔ امیجری کے نگینے مصارع کی بنت میں کچھ اس کمال قرینے سے جڑے ہوئے تھے جیسے کوئی ماہر جوہری طلائی زنجیری میں مہین نگینے جڑ کراس میں پھولوں کی لڑی کی سی دھج رکھ دیتا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ ان کے ہاں ہر شعر محض اور صرف یک موضوعی تشکیل کا شاخسانہ نہیں رہتا اپنی خاص جمالیات مرتب کرتا ہے اور اسی جمالیاتی وتیرے سے پوری غزل کو ایک رُخ بھی عطا کر رہا ہوتا ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ ان کو پڑھتے ہوئے ایک غزل کے ہر شعر سے دوسرے شعر کا سفر ایک فضا سے دوسری فضا میں اترتے ہوئے جھٹکوں کا نہیں ہوتا ایک وجدانی تاثر سنبھال کر رکھتی ہے۔ زبان کا ایسا تخلیقی استعمال کہ اس کے جمال کے ساتھ معنوی ارتعاش کسی پرندے کی طرح فضا میں پر پھیلائے غوطہ لگا کر قاری کے وجود میں جا اترتا ہے اور دیر تک رگوں میں بہتے لہو کے اندر یوں لرزش پیدا کرتا رواں ہو جاتا ہے جیسے یہ نذیر قیصر نے شعر نہ کہا ہو ستار کے تنبے کی جواریوں پر سے گزرتی تنی ہوئی تاروں کو چھیڑ کر ساری لرزش اِدھر اتار دِی ہو۔
نذیر قیصر ایسا شاعر ہے جس کے لیے ہر روز زندگی نئے پن کے ساتھ طلوع ہوتی ہے اور یہ سوال بھی لے کر آتی ہے کہ شاعری اس نئی زندگی کی چھلکتی صراحی سے اپنے لیے نئے پن اور تازگی کا پیالہ کیسے بھرے گی۔ محبوب ظفر کے نام لکھی گئی ایک غزل میں وہ کہتے ہیں :
آسمانوں سے مرے پیالے میں
اک ستارہ جو گرا ہے کیا ہے
زندگی روز نئی ہوتی ہے
شاعری میں جو نیا ہے کیا ہے
جس کے حیات پیالے میں روز آسمانوں سے ستارے اترتے ہوں اُس کے ہاں زندگی اور شاعری کو بارگاہ جشن ہونا ہی تھا۔ نذیر قیصر اس بارگاہ جشن میں سجدہ شکر ادا کرتے ہیں اور اس عطا کے بدلے اسے ماتم کدہ نہیں ہونے دیا۔ وہ غزل کے اس شہر میں نہیں ہیں جو اجڑا ہوا ہے اور جس کی گلیاں بے چراغ ہیں۔ غزل کی نازک اندام صنف اس پر کچھ یوں مہرباں ہوئی ہے ایک الگ وضع کا روشن چراغ اس شاعر کے ہاتھ میں تھما دیا ہے :
روشن ہیں اس کے نقش قدم میری خاک پر
شعلہ ہے اس کی شاخ کا میری مشعال پر
وہ اسی مشعال کی لَو میں اپنی غزل کا حسین جسم تراشتے ہیں۔ انہیں اس کے لیے کہیں دور نہیں جانا پڑتا۔ وہ کرم خوردہ کتابوں میں متروک ہو کر مردہ پڑے لفظوں کو اچک کر یا دشتِ وحشت میں پڑی روایت کے اسلوبی کلیشے سے یا پھر محض اور صرف نئے ہونے کی جھونک میں چونکانے کو مصرع سازی کا دھندا نہیں کرتے، اپنے وجود میں اترتے ہیں کہ یہیں سے ان کی شاعری ہری بھری ہوتی ہے۔ یہیں رہ بس کر وہ شہر خواب کا دروازہ کھولتے ہیں ؛ یہیں فراق اور وصال کے موسم ان پر گزرتے ہیں اور ان پر گزرے دن ہوں یا راتیں یہیں کسی پرندے کی طرح پھڑپھڑا کر ان کے دل کی دھڑکن ہو جاتی ہیں۔
نذیر قیصر کی شاعری میں پھڑپھڑا کر لہو میں اترتے یا پھر گنبدوں پر سے گزرتے ہوئے پرندے، نیلے پانیوں سے یا پھر کونجوں کی ڈار سے نکلا ہوا چاند، کھیت میں پڑا ہوا یا ندی میں اترتا ہوا آسمان، ٹھنڈی میٹھی ہوائیں اور بارش کا پہلا خط، کسی طاق پر یا محراب میں رکھا ہوا دیا، گلاب ہوتی ہوئی ایک کونپل، سوئے ہوئے شہر میں خوابیدہ پڑے پرانے خواب اور گھاس کے بستر پر نیند میں پڑی زندگی کا پھول ایسی فضا بنا رہے ہیں کہ ایک ایک حرف کی لو روشن ہو جاتی ہے۔ اپنی اس تخلیقی کرامت کا شاعر کو احساس ہے۔ تب ہی تو وہ کچھ کہنے سے پہلے اسی اعجاز کی سلامتی کی دعا بھی مانگ رہے ہوتے ہیں :
حرف کی لو سے روشنی ہو جائے
شاعری بھی پیمبری ہو جائے
مجھ پہ دیوان اتارنے والے
میرا جینا بھی شاعری ہو جائے
مجھ سے لپٹے اگر وہ شاخ غزل
رات بھر میں ہری بھری ہو جائے
وہی بات جو مولانا روم نے کہی تھی، اقبال نے ’شمع و شاعر‘ میں دوہرائی، نذیر قیصر تک آئی تو ان کے من میں بھی سما گئی ہے۔ ’شاعری جزویست از پیغمبری۔ انہوں نے اپنے شعر کا رشتہ غالب اور یگانہ سے بھی جوڑا ہے۔ کہتے ہیں :
قیصر وہ خوش نصیب ہوں میں جس کی میز پر
غالب پڑے ہوئے ہیں یگانے پڑے ہوئے
واقعہ یہ ہے کہ غزل کی پوری روایت پر ان کی نظر ہے اس روایت کو محترم جان کر بھی وہ اپنی الگ راہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اس کا سبب یہی ہے کہ ان کی غزل کی محبوبہ بچھڑی ہوئی ہے، نہ بے وفا۔ وہ خود بھی ستم گر اور حیلہ جو نہیں ہیں لہٰذا ان کی غزل کا آسمان بے رحم ہے نہ زمین سنگ دل۔ ان کی غزل بہت سلیقے سے اس دنیا سے رشتہ توڑ لیتی ہے جو عارضی سرائے یا گناہ کا گھر ہو کر جبر مسلسل کی صورت ہماری شعری روایت کے طور پر ظاہر ہوتی رہی ہے۔ ان کی غزل خیال اور حسیات دوں سطح پر بدل کر اپنی شعری لغت اور فضا بھی بدل لیتی ہے۔ وہ زندگی کی لغت سے شاعری کا مینی فیسٹو اٹھاتے ہیں ؛ اس کی تجسیم اپنے خوابوں سے کرتے ہیں، یوں جیسے کوئی خود اپنے آپ کو تراش رہا ہو۔ یہ توفیق ان پر خدا کی طرف سے ارزانی ہوئی ہے ؛ اس کا احساس انہیں ہے اسی لیے تو کہہ رہے ہیں کہ ’اگر خدا توفیق نہ دے تو بندہ کافر بھی نہیں ہو سکتا ۔‘ وہ جان ڈیون کا کہا سن کر گرہ میں باندھ رکھا ہے کہ ’کسی کو معلوم کرنے کے لیے مت بھیجو کہ گھنٹیاں کس لیے بجائی جا رہی ہیں۔ یہ گھنٹیاں تمہارے لیے ہی بج رہی ہیں۔ ‘ عجب وجدانی گھنٹیاں ہیں کہ جب یہ بجتی ہیں تو ان کے سبز اور خوش نما بخت والے وجود پر شاعری کی کونپلیں نکل آتی ہیں۔ :
حرف سے کونپلیں نکل آئیں
میرا لکھا پڑھا قبول ہوا
”شعر شور انگیز“ جلد دوم میں شمس الرحمن فاروقی نے لکھا تھا کہ مصنف خود معنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ تو بس ایسے سیاق و سباق بناتا ہے اور ایسی ترتیب پیش کرتا اور امکانات کو بروئے کار لاتا ہے کہ فن پارہ بامعنی ہو جائے۔ نذیر قیصر کی شاعری انہی حوالوں سے بامعنی ہے اور اس کی قبولیت اور مقبولیت کے پیچھے بھی یہی راز پنہاں ہے کہ وہ بن بن کر نہیں امکانات نہیں بناتے، خواب میں جاگتے ہیں اور پھر خوابوں سے آگے یوں نکلتے ہیں نئی اور بامعنی ترتیب خود بخود تخلیق ہوتی جاتی ہے۔
میں شاعر ہوں خواب میں جاگ کے چلتا رہتا ہوں
میں نے اپنے خواب سے آگے جانا ہوتا ہے
۔


