شاہ صاحب کا بیوپار اور سورۃ بقرہ والی گائے
میرے بھائیو! اس بیل کو غور سے دیکھ لو پوری تسلی کر لو۔ میری کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ میرے نزدیک تو یہ اندھا بھی ہے گو نگا بھی بہرہ بھی لنگڑا بھی لونڈا اور کان کٹا بھی غرض کہ ہر عیب اس میں موجود ہے اور تم نے ان سب عیبوں سمیت اسے خریدنا ہے۔ کل میں تمہاری طرف سے کوئی اعتراض نہیں سنوں گا۔ محمود الحسن شاہ کی حویلی میں دیوان صاحب سے آئے ہوئے تین بیوپاریوں اور شاہ صاحب کے درمیان ایک بیل کا سودا ہو رہا تھا۔ بیل شاہ صاحب کی ملکیت تھا سیاہ کالی رنگت کے اس بیل کو اس کی نتھ کے دونوں اطراف سے دور سے ڈال کر دائیں بائیں دو کھونٹوں کے ساتھ باندھا گیا تھا اچھا بھلا موٹا تازہ صحت مند بیل تھا لیکن شاہ صاحب بار بار اس کے اندھے گونگے بہرے لنڈے اور کان کٹے کی تکرار کیے جا رہے تھے۔
بہر حال تھوڑی سی لے دے کر بعد ڈیڑھ سو روپے میں سودا طے ہو گیا۔ شاہ صاحب نے پیسے وصول کر کے اپنی جیب میں ڈالے اور بیل کے دونوں رسے کھول کر اُن کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے تاکید کی کہ تم دو لوگوں نے اسے پکڑ کر احتیاط سے چلنا ہے۔ اسے جب بھی موقع ملا اس نے بھاگ کر میری حویلی میں آجانا ہے۔ تم لوگوں نے اسے نتھ کے دونوں طرف سے پکڑ کر لے جانا ہے۔ شاہ صاحب اُن کے چلے جانے تک بار بار احتیاط سے لے جانے کی تقریر دہراتے رہے۔
بہرحال بیوپاری بیل کو لے کر حاجی شیر چلے گئے۔ سودے کے عینی شاہدین بھی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے اور شاہ جی اپنے کام کاج میں لگ گئے۔ شاہ جی بیل کی فروخت پر خوش نظر آرہے تھے۔ اگلی صبح لوگ باگ ابھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہی تھے کہ دیوان صاحب کے تینوں بیوپاری کل والے بیل کو واپس لے کر آرہے تھے۔ آج اس بیل میں کل والی بات ہی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ کل تو جاتے وقت ایسے پھنکار رہا تھا کہ دو لوگوں کو قابو کرنا مشکل ہو رہا تھا اور آج ایک ہی شخص نے اس کے گلے میں رسہ ڈال کر اُسے پکڑ رکھا تھا اور وہ بڑی عاجزی اور تابعداری سے کان لٹکائے ٹھوکریں کھاتا ہوا پیچھے پیچھے چلا آ رہا تھا۔
انہوں نے بیل لاکر شاہ جی کی حویلی میں ٹھان پر باندھ دیا اور خود وہاں پر بچھی ہوئی چارپائیوں پر بیٹھ کر شاہ جی کا انتظار کرنے لگے۔ شاہ جی کو اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ کل والے بیوپاری بیل واپس کرنے آئے ہیں۔ لیکن وہ اُن کا سامنا کرنے سے کنی کترا رہے تھے۔ گھنٹے ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد اُن میں سے ایک آدمی نے شاہ صاحب کے گھر کا دروازہ آ کھٹکھٹایا۔ حسبِ توقع شاہ صاحب گھر میں موجود نہیں تھے۔ اُن کے بیٹے کو بیوپاریوں نے اپنی آمد کے متعلق بتایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ یہ خبر شاہ صاحب تک پہنچائی جائے۔ ہم اُن کا انتظار کر رہے ہیں۔ شاہ صاحب اڑھائی تین گھنٹوں کی تاخیر کے بعد سر پر طرہ باندھے ہوئے اپنی حویلی میں پہنچے۔
اس عرصے میں انہوں نے کل کے سودے کے دستیاب عینی شاہدین کو بھی اپنی حویلی میں بلا لیا تھا۔ حویلی میں داخل ہوتے ہی پوچھا ہاں بھئی کیا بات ہے۔ بیل کو واپس کیوں لے آئے ہو۔ انہوں نے کہا کہ شاہ جی یہ تو دونوں آنکھوں سے اندھا ہے اُسے تو نظر کچھ نہیں آتا تو وہ دوسرے حاضرین سے مخاطب ہوئے کہ تم بتاؤ جب کل سودا ہو رہا تھا۔ تو میں نے کیا کہا تھا میں نے انہیں بتایا نہیں تھا کہ بیل اندھا ہے اور سودا ہونے کے بعد اسے واپس نہیں لوں گا۔ اب یہ لوگ کس منہ سے بیل واپس کرنے آئے ہیں۔ شاہدین نے شاہ صاحب کی تائید کی کہ سودے کے وقت یہی بات طے ہوئی تھی کہ خریدا ہوا بیل دوبارہ واپس نہیں ہو گا۔
بیوپاریوں نے اپنی وضاحت کی کہ آپ نے کہا تھا کہ یہ بیل اندھا، بہرہ، لولا، لنگڑا، لنڈا اور کن کٹا ہے۔ حالاں کہ اندھے پن کے علاوہ کوئی اور خامی اس میں موجود نہیں تھی۔ ہم نے سوچا کہ آپ ویسے ہی یہ بات کر رہے ہیں۔ اگر آپ سیدھے سبھاؤ ہمیں بتاتے کہ بیل اندھا ہے تو ہم اسے کیوں خریدتے۔ آپ نے ہم سے دھوکا کیا ہے۔
اسی بات پر کافی دیر چخ چخ ہوتی رہی آخر کار شاہ صاحب بولے دیکھو بھائیو! سوہتھ رسہ اور سرے پہ گانٹھ اب ایک ہی بات کروں گا۔ اگر منظور ہو تو واہ بھلی وگرنہ تم اپنے گھر اور ہم اپنے گھر۔ وہ بولے جی بتائیں شاہ جی بولے آپ کو اس وعدہ خلافی پر بیس روپے ہرجانہ ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے فوراً ہی کہا ہمیں منظور ہے۔ شاہ جی نے ڈیڑھ سو روپے میں سے بیس روپے کاٹ کر ایک سو تیس روپے واپس کر دیے۔ وہ اسی بات کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہوئے خوش خوش واپس چلے گئے۔
محمود شاہ ہمارے گاؤں کے سربراہ نمبر دار تھے۔ چھ فٹ قد، دبلا پتلا جسم موٹی موٹی سرخی مائل آنکھیں جن میں اکثرسرمہ رکھا کرتے تھے۔ ستواں ناک گہری پکی رنگت، سفید مخروطی داڑھی، شلوار قمیض میں ملبوس سر پر پگڑی باندھے چال میں رقص کا سا انداز لیے گاؤں کی گلیوں میں چلتے پھرتے دکھائی دیتے۔ کام کے معاملے میں وہ ہرفن مولا تھے۔ سربراہ نمبردار تو تھے ہی گاؤں سے ملحق تھوڑی سی زمین تھی جس پر وہ باقاعدہ زمیندارا کیا کرتے تھے۔
علاقے کے مشہور بیوپاری تھے۔ ڈھورڈنگروں کا کاروبار اُن کا پسندیدہ مشغلہ بھی تھا اور ذریعہ روز گار بھی۔ تھانہ کچہری میں بھی اُن کا اثر و رسوخ تھا۔ عموماً لوگوں کے یہاں پر پھنسے ہوئے دیرینہ کام شاہ صاحب کی سفارش سے چٹکی بجاتے ہی ہوجایا کرتے۔ عموماً تو یہ سفارش زبانی کلامی ہی ہوتی۔ لیکن بعض اوقات ساتھ میں کرنسی کی پف لگا کر اسے مزید مضبوط اور با اثر بنا دیا جاتا۔ تھانہ کچہری میں جاتے وقت شاہ صاحب اپنے لباس کا خصوصی دھیان کیا کرتے۔
کلف لگے ہوئے طرے کے ساتھ سفید شلوار قمیض میں ملبوس پاؤں میں دیسی کھسہ پہن کر گھوڑی پر سوار ہوتے تو واقعی گاؤں کے نمبر دار ہی لگتے۔ شاہ صاحب کی یہ گھوڑی سارادن کمہاروں کی کھوتیوں کے ساتھ مل کر گاؤں کے چھپڑ کے کناروں پر چرتی ہوئی گھوڑی کی بجائے ایک ٹیر سی معلوم ہوا کرتی تھی۔ لیکن جونہی وہ اسے جھاڑ پونچھ کر اس پر چمڑے کی زین کستے اور چمڑے کی ہی خوبصورت سی لگام ڈالتے تو اُن کی یہی ٹیر بھی ایک دم گھوڑی کا روپ دھار لیتی۔
اُن کے طرے کو لگایا جانے والا کلف آٹے کو پانی میں گھول کر گھر میں ہی تیار کر لیا جاتا ویسے بھی اُن دنوں دکان سے سودا سلف لانے سے گریز کیا جاتا تھا۔ لوگ صابن مقامی طور پر اُگنے والی ایک جڑی بوٹی بوئیں سے خود گھر میں ہی تیار کر لیا کرتے۔ چینی کی جگہ گھر کا گڑ شکر بلکہ دیسی کھانڈ تک موجود ہوتی۔ لسی مکھن دہی دودھ اور گھی کی دستیابی کے لئے ہر گھر میں ایک دو ڈھور ڈنگر موجود ہوتے۔ گندم چاول، دالیں، چنا، سرسوں، اور دیگر ہمہ قسم کی موسمی سبزیاں حسب ِ ضرورت اپنی زمینوں پر اگا کر دکان سے خریداری کی علت سے دیہاتی اپنے آپ کو بے نیاز کر دیتے۔ بلکہ اُن دنوں یہ بات زبان زد ِ عام ہوا کرتی کہ اگر نمک کو بھی اُگایا جاسکتا، تو ہمیں دکان پر جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔
گو کہ شاہ صاحب علاقے کے مشہور و معروف بیوپاری تھے۔ لیکن انہیں گنتی بیس سے اوپر نہیں آتی تھی۔ عام طور پر قیمت کا تعین ایسے کیا جاتا۔ 5 کم چھ بیسی کا مطلب ہوتا کہ چھ بیسیوں سے پانچ روپے کم یعنی 115 روپے۔ اسی طرح دس اوپر آٹھ بیسی۔ تین کم سات بیسی کی طرز پر قیمتوں کا تعین کیا جاتا۔
کورے ان پڑھ ہونے کے لیے باوجود پورے گاؤں سے آبیانہ اور مالکانہ کی صورت میں ٹیکس وصول کرتے اور آنے آنے کا حساب کرتے۔ لوگوں کے درمیان چھوٹے موٹے جھگڑوں کو پنچایت کے ذریعے ختم کروانا اُن کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ بلکہ بابا حاجی شیر کی مسجد میں اگر جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے کوئی مولوی دستیاب نہ ہوتا تو شاہ صاحب وہاں پر جمعہ بھی پڑھوا دیا کرتے۔ انہیں بیک وقت دو بیویوں کے خاوند ہونے کا اعزاز حاصل تھا اور اُن دونوں کو ایک ہی گھاٹ پر پانی پلاتے یہ الگ بات ہے کہ گھاٹ کو مٹی کی ایک چھوٹی سے دیوار سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔
بکرا عید کی آمد آمد تھی شاہ صاحب قربانی کے لیے ایک گائے خرید کر لائے۔ گائے نحیف و نزار بھی تھی اور ضعیف العمری کا شکا بھی۔ شاہ صاحب کی کوششوں کے باوجود لوگ اس میں حصہ رکھنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ لیکن شاہ صاحب مستقل مزاجی سے اپنے کام میں جتے رہے۔ جیسے جیسے عید ِ قربان نزدیک آتی جا رہی تھی۔ شاہ صاحب کی بے چینی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ کیوں کہ ابھی تک تلاش بسیار کے باوجود ایک بھی حصہ فروخت نہیں ہوسکا تھا۔
آخر کار شاہ صاحب نے پینترا بدلا اور انہوں نے لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ اس گائے کا سلسلہ نسب اس مشہور معروف گائے سے جا ملتا ہے۔ جس کا ذکر سورۃ البقرہ میں ہے۔ اس مقدس اور متبرک گائے کی قربانی کا ثواب کسی بھی جانور کی قربانی سے زیادہ ہے اور ایک حصے کی قیمت بھی صرف ایک سو روپیہ ہے۔ یہ سودا تو کم خرچ اور بالا نشین ہے۔ پیسے تھوڑے خرچ کرو اور ثواب زیادہ کماؤ۔ اس کی رنگت قرآن مجید میں بتائی گئی رنگت جیسی زرد تو ہر گز نہیں تھی بلکہ ہلکی سی سرخی مائل تھی۔ لیکن کچھ لوگ اس کی کم قیمت اور شاہ صاحب کی طرف سے کی جانے والی تعریفوں سے متاثر ہو کر اس کے حصے خریدنے پر تیار ہو گئے۔
ایسے ہی ایک شخص نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شاہ صاحب اس بوڑھی گائے کا گوشت گلنا مشکل ہو گا۔ شاہ صاحب نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا کہ تم فکر مت کرو۔ گال تو میں ایسے دوں گا آپ کو ایک پڑیا میں ایک خاص سفوف دوں گا۔ وہ تھوڑا تھوڑا گوشت پکاتے وقت اس میں ڈال دینا۔ گوشت فوراً گل جائے گا۔ خدا خدا کر کے گائے کے ساتوں کے ساتوں حصے ہی فروخت ہو گئے تھے۔ قربانی والے دن گائے کو ذبح کیا گیا۔ اس کے گوشت کے سات برابر حصے کیے گئے۔ شاہ صاحب نے آدھا کلو میٹھا سوڈا خرید کر اس کی سات برابر پڑیاں بنا لیں۔ جو بھی حصہ دار اپنے حصے کا گوشت لیتا شاہ صاحب اسے ایک عدد میٹھے سوڈے کی پڑیا بھی اس تاکید کے ساتھ عنایت فرماتے کہ جب گوشت پکانے لگو تو اس میں چٹکی بھر یہ پاؤڈر بھی ڈال دینا گوشت بہت اچھے طریقے سے پک جائے گا۔ یہ تو پتہ نہیں کہ گوشت پکا یا نہیں پکا لیکن شاہ صاحب منافع کے ساتھ گائے کی قیمت وصول کرنے میں کامیاب و کامران ہوچکے تھے۔


