سٹے سے کمائی کے 101 طریقے

اگر آپ واقعی اسی نیت سے یہاں پہنچے ہیں، جو عنوان کی سرخی ہے تو معذرت۔ یہ صرف ”ڈیجیٹل دانہ“ ڈالا ہے۔ اصل موضوع مختلف نوعیت کی ٹریڈنگ (بالخصوص پاکستان اسٹاک ایکسچینج) اور وہاں سٹے بازی ہونے یا نہ ہونے پر بحث ہے۔ جس سے کسی کا متفق ہونا یا نہ ہونا اس کی اپنی مرضی ہے۔
گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر نئی تحریر بھیجنے کے لئے پچھلی تحریروں کا پٹارا کھولا تو کتاب ”کیف الحال“ سے ایک پچیس سال پرانی تحریر سامنے آئی۔ ”حج میں کمائی کے ایک سو ایک طریقے“ ۔
ہنستے ہنستے اسے کھولا ہی تھا کہ یاد آیا کہ پچھلے دنوں ”ہم سب“ پر ہی ایک تحریر پڑھی تھی، جس میں پاکستانی اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی تیزی کو سٹے کا شاخسانہ قرار دیا گیا تھا۔ اور ساتھ یہ دعوی بھی کہ جب ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھا ہوا ہے تو اسٹاک مارکیٹ کی یہ تیزی محض سٹے کے پیسوں کا شاخسانہ ہے، جو رئیل اسٹیٹ کی کالی کمائی سے اب اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو گیا ہے۔ لکھنے والے نے جہاں متعدد ایران توران کی باتیں اور الزامات لگائے ان سے صاف اندازہ لگ رہا تھا کہ یہ باتیں محض سنی سنائی اور زبان خلق کا نقارہ، زیادہ ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں اتنا اندھیر بھی نہیں ہے۔
ہر شخص کہ علم میں ہونا چاہیے کہ پاکستانی اسٹاک مارکیٹ ایک مکمل ڈاکومینٹڈ جگہ ہے۔ یعنی یہاں انویسٹ ہونے والے ہر پیسے کا ریکارڈ ہوتا ہے اور ایف بی آر بہ آسانی شیئر ہولڈر یا انویسٹر سے پوچھ سکتا ہے کہ قبلہ یہ پیسہ کہاں سے آیا۔ یہاں کالا دھن آ تو سکتا ہے لیکن اس سے پھر وہ پیسہ ٹیکس کے چکر میں شامل ہو جاتا ہے یعنی اسے چھپانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ یہ صورت حال رئیل اسٹیٹ، سونا چاندی یا کرنسی کی ذخیرہ اندوزی کے مقابلے میں ”اب“ قدرے مختلف ہے۔
آج سے سات آٹھ سال پہلے رشوت لینے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی تھا کہ آپ اپنی بیگم بچوں کے نام سے اسٹاک مارکیٹ میں اکاؤنٹ کھولیں اور جس نے آپ کو پیسے دینا ہیں اسے اسٹاک مارکیٹ کا اکاؤنٹ نمبر دے دیں۔ وہ شخص اس اکاؤنٹ میں کیش یا چیک جمع کرا دے گا اور یوں رقم اسٹاک مارکیٹ کے بروکر کے اکاؤنٹ میں چلی جائے گی۔ آپ شیئر خریدیں یا وہ رقم ایسے ہی رہنے دیں۔ چند سال بعد جب آپ واپس نکالیں گے تو وہ حرام کی کمائی سفید ہو چکی ہوگی اور آپ فخر سے کہیں گے کہ اسٹاک مارکیٹ سے کمایا ہے۔ لیکن اب کیش صرف پچیس ہزار سے زیادہ جمع نہیں کرایا جاسکتا اور چیک آپ کے اپنے اکاؤنٹ سے ہونا چاہیے۔
تو صاحبان اب مقامی بلیک منی یہاں کیوں آئے گی؟ اور آ گئی تو کیسے چھپے گی۔ غیر ملکی کرنسی کے الگ معاملات ہیں، لیکن اس کے لئے پیسے کو باہر بھیج کر واپس لانا ہو گا۔
ایک اور بات لوگوں کے علم میں ہونی چاہیے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج روزانہ مارکیٹ ”بند“ ہونے کے بعد اپنی ویب سائٹ پر ظاہر کرتی ہے کہ کتنا ”نیا“ مقامی سرمایہ آج مارکیٹ میں داخل ہوا اور کتنا ”نکال“ لیا گیا۔ اسی طرح کتنا ”نیا“ غیر ملکی سرمایہ (یعنی فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ) آج مارکیٹ میں داخل ہوا اور کتنا ”نکل“ گیا۔
روزانہ شائع ہونے والے یہ اعداد یا اطلاع مارکیٹ میں ہونے والی تیزی اور گراوٹ میں یقیناً بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن یہ اعداد روزانہ کے ہی نہیں پچھلے کئی سالوں سے ویب سائٹ پر اب بھی موجود ہیں۔
مجھے علم نہیں کہ حالیہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ میں کب اور کتنا نیا مقامی سرمایہ داخل ہوا۔ اگر ہوا تو یہ بذات خود ایک خوش آئند بات ہے۔ کیونکہ اس کا واضح مطلب ہے کہ کچھ کالا دھن (شاید) کہیں اور سے اب ڈاکومینٹڈ اکانومی میں آ گیا یعنی ایف بی آر کے ریڈار پر آ گیا۔ اور آ گیا تو اب کہاں جا سکے گا۔ اب آتے ہیں اس معاملے پر کہ پاکستانی معیشت کا بھٹہ بیٹھا ہوا ہے اور حکومتی اہل کار فارغ ترین (بالفرض) لوگ ہیں۔ پھر بھی اسٹاک مارکیٹ سارے ریکارڈ توڑ رہی ہے۔
کسی بھی چیز کے سستے یا مہنگے ہونے کا انحصار اس کی قیمت پر ہوتا ہے۔ مثلاً زندہ مرغی کی قیمت۔ اگر رقم کا عدد بڑھ رہا ہو تو ہم کہتے ہیں کہ مرغی مہنگی ہو رہی ہے۔
اسٹاک مارکیٹ کی ”قیمت“ کو انڈیکس کہتے ہیں یعنی اگر انڈیکس بڑھ یا گھٹ رہا ہے تو اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر تیزی یا گراوٹ کا رجحان ہے۔ پہلا سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ یہ انڈیکس کیا بلا ہے؟ جس کے اوپر جانے سے عطا تارڑ اور حکومتی بیان بازوں کی باچھیں کھلی ہوئی ہیں اور حزب مخالف کے چہروں پر تلملاہٹ طاری ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج تین مقامی (کراچی، لاہور اور اسلام آباد) اسٹاک ایکسچینج کو مدغم کر کے بنائی گئی تھی جس میں سب سے بڑا حصہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا تھا۔ چونکہ ہر ایکسچینج کی قیمت یا اس کا چہرہ اس کا انڈیکس ہوتا ہے اور اس انڈیکس کا ایک نام بھی ہوتا ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس ”ہنڈریڈ انڈیکس“ یا ”کے ایس ای ہنڈریڈ“ کہلاتا تھا۔ اور یہ نام پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بھی فی الوقت چہرہ ہے۔
دوسرا سوال کہ ہنڈریڈ انڈیکس کیا ہے۔ تو عرض ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بلا مبالغہ ہزاروں کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ لیکن کام کی ”چند سو“ ہی ہیں۔ ان میں سے بھی ”ایک سو“ اہم ترین کمپنیوں کی قیمت کو ملا کر ایک اوسط بنایا گیا۔ اور فرض کریں ہر کمپنی کا حصہ اس میں سے صرف ایک فی صد مانا گیا۔ اور پہلے دن ہر ایک کی قیمت ایک روپیہ ہی تھی۔
اس پہلے دن اسٹاک ایکسچینج کی مالیت ”سو 100“ رہی ہوگی۔
ان سو 100 کمپنیوں میں بڑے بڑے بنک، انشورنس کمپنیاں، سیمنٹ کے بڑے نام، ٹیکسٹائل یونٹ، کھاد اور چینی بنانے کے کارخانے، روز مرہ کی کھانے پینے کی چیزوں اور الیکٹرانکس کی مصنوعات بنانے والی، بجلی پیدا کرنے والی اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں تو شامل ہیں ہی۔
تین اہم شعبے اور بھی ہیں۔
پہلا تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں (جن کے اپنے تیل کے کنویں ہیں یا وہ اس میں حصہ دار ہیں ) جیسے ”او جی ڈی سی“ ، پی پی ایل، پاکستان آئل فیلڈ اور ماری پٹرولیم وغیرہ۔ یہ کمپنیاں اپنے مقامی کنویں سے خام یا کچرا تیل نکال کر دوسری طرح کی کمپنیوں کو دیتی ہیں، جن ہیں آئل ریفائنری کہا جاتا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اٹک ریفائنری، بائیکو اور دوسری کئی آئل ریفائنریاں رجسٹرڈ ہیں (ان میں ایک زمانے میں ہیسکول بھی تھی جو کرونا کے بعد سٹے اور فراڈ کی زد میں آئی تھی آج کل اس کا کیا حال ہے، نہیں پتہ) ۔ ریفائنری خام تیل کو پٹرول، ڈیزل یا مٹی کے تیل میں بدل کر ایک تیسری طرح کی کمپنی کے حوالے کرتی ہے، جسے آئل مارکیٹنگ کمپنی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جن کے پاس پٹرول پمپ ہوتے ہیں۔ جیسے ”پی ایس او“ ، بائیکو، شیل اور اٹک پٹرول وغیرہ۔ یعنی ہنڈریڈ کمپنیوں میں دس بارہ کی روٹی روزی اور ترقی کا تعلق سیدھا سیدھا ”تیل“ سے وابستہ ہے۔
2022 کے وسط سے روس یوکرین پر حملہ آور ہے۔ جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں ساٹھ ڈالر سے ایک سو بیس تیس تک گئیں اور اب بھی پچاسی نوے پر گھوم رہی ہیں۔ تو اس بے انتہا تیزی کا پاکستان کی معیشت کو یقیناً جہاں بے انتہا نقصان ہوا، کیا تیل کی صنعت سے وابستہ پاکستان کی بارہ سے زائد کمپنیاں خسارہ میں رہیں! ظاہر ہے نہیں بلکہ ان کے منافع میں بھی اسی حساب سے اضافہ ہوا ہو گا۔
گویا دو سال میں ہنڈریڈ انڈیکس کی بارہ فی صد کمپنیوں نے دن دوگنی رات چوگنی کمائی کی ہوگی تو کیا اس سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چہرے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
گزرے کل میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اگر یہ اثر نہیں آ پایا تو جیسے ہی سیاسی استحکام آنا تھا اس انڈیکس نے اپنی جگہ واپس پہنچ جانا تھا۔ یعنی ان بارہ کمپنیوں کے شیئر کی قیمتوں میں اضافہ اور یوں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ”انڈیکس“ میں بھی (ان کمپنی کے حصے کی وجہ سے ) ۔
دوسری طرف یہ ساری اندھی کمائی (جو جائز ہے ) ، وہ کہاں جائے گی۔ ظاہر ہے بنکوں میں۔ یوں ملکی معیشت کا بے شک بیڑا غرق ہو رہا ہو۔ بنکوں کی کمائی آسمان کو چھو رہی تھی۔ جس کا دوسرا سبب انتہائی بلند یا زیادہ شرح سود بھی تھا۔
یوں اسٹاک مارکیٹ میں موجود ”سو کمپنیوں“ میں موجود بنک جن میں مسلم کمرشل، یونائیٹڈ، حبیب بنک، بنک آف پنجاب، الائیڈ، عسکری جیسے کم از کم دس بنک موجود ہیں، کیا خسارے میں جا رہے ہیں۔ حکومت پاکستان اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ان بنکوں سے مہنگی شرح سود پر یہی رقم قرض کی صورت میں لے لیتی ہے جو لگ بھگ تیل والی کمپنیوں کا ہی منافع تھا اور یوں تمام بنک بیٹھے بٹھائے سال میں کم از کم بیس فی صد منافع کما گئے۔ خود سوچ لیں کہ سو میں سے ان پچیس کمپنیوں کو پچھلے دو سال میں منافع ہوا یا نقصان یعنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ان ایک چوتھائی کمپنیوں نے انڈیکس کو مضبوط کیا ہو گا یا گرایا ہو گا۔
پچھلے دو سال میں کھاد ہو یا چینی کے کارخانے کیا کسی نے نقصان اٹھایا؟ تو یوں یہ تعداد تیس سے کم نہیں ہوئی۔
اب آتے ہیں خسارہ اٹھانے والی ممکنہ کمپنیاں : اسٹیل، سیمنٹ، آٹو اور شاید ٹیکسٹائل کے کارخانے۔
پاکستان میں امیر خاندان گروپ کی شکل میں کاروبار کرتے ہیں۔ ہر گروپ نے اپنا سرمایہ مختلف طرح کے کاموں میں استعمال کیا ہوتا ہے۔ مثلاً میاں منشا کا نشاط گروپ لے لیں۔ ان کے پاس ”ہنڈریڈ انڈیکس“ میں نشاط کے نام سے مختلف ٹیکسٹائل (نشاط ملز اور نشاط چونیاں ) کمپنیاں ہی نہیں۔ ایک بنک مسلم کمرشل بنک بھی ہے۔ یہ آدم جی انشورنس کمپنی کے بھی مالک ہیں۔ جب ملک میں تعمیراتی کام زور شور سے جاری تھا تو یہ ”ڈی جی خان سیمنٹ“ کے مالک ہو گئے۔ بجلی بنانے کے کارخانوں کی بات آئی تو ان کے پاس ”لال پیر“ ہے، جب کہ اب ہنڈائی اور الیکٹرک گاڑیاں بھی یہی گروپ بنا رہی ہے۔ یہ تو وہ سات کمپنیاں ہیں جو مجھے یاد ہیں اور اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ ہیں۔
یہی حال داؤد گروپ، لکی گروپ، فوجی اور ”بیسٹ وے“ گروپ کا بھی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان سب نے اپنی ہر ذیلی کمپنی کی آمدنی اپنے ہی بنک میں رکھی ہوتی ہے اور ہر کمپنی نے اضافی سرمایہ اپنے ہی دوسری کمپنیوں میں لگایا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی نشاط مل نے اگر آج منافع ہو گیا تو اس منافع سے بچنے والی زائد رقم سے مسلم کمرشل بنک اور آدم جی انشورنس میں سرمایہ کاری کردی۔ یوں آج اگر نشاط مل کا کام ٹھپ ہے تو گزرے کل کی بنک اور انشورنس میں کی گئی سرمایہ کاری ”نشاط مل“ کی بیلنس شیٹ کو آج بھی ”دوسری آمدنی“ کی وجہ منافع میں دکھائے گی۔ خسارے میں وہ رہتے ہیں جو صرف ایک ہی کاروبار کر رہے ہیں۔ جیسے آٹو انڈسٹری والے (وہ بھی جو ایک زمانے میں اندھی کمائی کرچکے اور منافع کو صحیح جگہ نہ لگا سکے ) ۔
میاں منشا کے نشاط سے ہٹ کر ریٹائرڈ فوجیوں کی بہبود کے لئے چلنے والی ”فوجی فاؤنڈیشن“ کی کمپنیوں کو دیکھتے ہیں۔ ہنڈریڈ انڈیکس میں عسکری بنک، فوجی فرٹیلائزر (بڑا فوجی) ، فوجی فرٹیلائزر (بن قاسم) ، فوجی سیمنٹ، عسکری سیمنٹ، فوجی فوڈ چند نام ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ کیا یہ سب دس سے زائد ادارے کیا خسارے میں چل رہے تھے؟ ظاہر ہے نہیں، تو ان کے منافع کا اثر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں اضافے کا سبب کیا نہیں بنے گا۔
اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ڈالر کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور ایسی صورت میں غیر سرمایہ کار ڈالر نکال لیتے ہیں جس سے ہر کمپنی کے شیئر گر جاتے ہیں۔ چاہے وہ کتنا ہی منافع کما رہی ہو۔ اب جب کہ ڈالر بمقابلہ روپیہ لگ بھگ حالت استحکام میں ہے تو غیر ملکی سرمایہ بھی واپس آ رہا ہو گا۔ اور ہر آنے والا ڈالر انڈیکس میں مزید اضافے کا سبب بنتا ہے۔
اب آتے ہیں اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا سٹے سے تعلق پر۔ تو دوسرے مضمون کا انتظار کریں۔ کیوں کہ میرے سامنے فی الوقت گولڈ کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں۔
دوسرے مضمون میں آپ کو وہ گر سکھاؤں گا کہ تیل اور گولڈ میں سرمایہ کاری سے کیسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ سٹے کے بغیر۔

