تحریک تحفظ آئین اور آصف علی زرداری کا پیغام مفاہمت
بالآخر عام انتخابات کے انعقاد کے دو ماہ بعد ہی اپوزیشن کے 6 جماعتی اتحاد نے حکومت گرانے کے لئے بلوچستان سے تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پشین میں جلسہ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ جلسہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا آغاز ہے لیکن یہ جلسہ پشتون ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی جو اب اس نو زائیدہ اتحاد کے صدر بن گئے ہیں کے والد عبدالصمد اچکزئی کی برسی کے سلسلے میں تھا جسے تحریک تحفظ آئین پاکستان کا جلسہ بنا دیا گیا جلسہ میں پشتون ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں کے ہاتھوں میں اٹھائے پارٹی جھنڈوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پشتون ملی عوامی پارٹی کا شو تھا۔
خدا کی قدرت ہے۔ کل تک عمران خان جس شخص کی نقلیں اتارا کرتے تھے اور طنز و تشنیع کے تیر چلاتے تھے۔ وہ عمران خان کی رہائی کی تحریک کی قیادت کر رہا ہے۔ محمود خان اچکزئی اور سردار اختر مینگل جو عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے دست و بازو تھے۔ آج تحریک تحفظ آئین پاکستان کی آڑ میں عمران خان کی رہائی کے لئے میدان عمل میں اترے ہیں۔ سر دست محمود خان اچکزئی کی قیادت میں قائم ہونے والا اتحاد متاثرین فارم 47 پر مشتمل ہے۔
تمام تر کوششوں کے باوجود جمعیت علما اسلام تاحال اس اتحاد کا حصہ نہیں بنی اس کی ایک وجہ تو مولانا فضل الرحمن کے پی ٹی آئی کی قیادت کے طرز عمل بارے تحفظات ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمنٰ کسی ایسے اتحاد میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں جس کی قیادت کسی اور کے ہاتھ میں ہو اگرچہ مولانا فضل الرحمنٰ فارم 47 کے زخم خوردہ ہیں اور نواز شریف، آصف علی زرداری سمیت مقتدرہ سے نالاں ہیں لیکن وہ کسی کا کھیل کھیلنے کی بجائے اپنا کھیل کھیلنا پسند کریں گے۔
مولانا فضل الرحمن کے لئے اس اتحاد کے جلسہ میں بیٹھنا ممکن نہیں جہاں پی ٹی آئی کے بے مہارے کارکن ان کے خلاف نعرے لگا رہے ہوں پشین میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پہلے جلسہ میں ہی پی ٹی آئی کے شرکاء نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف نعرے لگا کر ان کی تحریک میں عدم شرکت کا جواز فراہم کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت کو اپنی تقریر میں پارٹی کارکنوں سے یہ کہہ کر کہ مولانا سے ہماری بات چیت چل رہی ہے مولانا فضل الرحمن کے خلاف نعرے بازی سے روک دیا تاہم جمعیت علما اسلام کی قیادت نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی نعرے بازی پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علما اسلام کے مرکزی ترجمان حمد اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے قابل احترام رہنماؤں کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کے خلاف نعرے بازی باعث شرم ہے۔ ایک طرف محمود خان اچکزئی یہ کہہ رہے ہیں کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا پلیٹ فارم کسی کو گالی دینے کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ابتدا میں ایسی حرکت کر دی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ اس دوران پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر جو پچھلے دو ماہ سے مولانا فضل الرحمن کو اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نے اس واقعہ کے بعد ایک بار پھر مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا ہے اگرچہ اسد قیصر نے مولانا فضل الرحمن کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی اگرچہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پشین کے جلسہ کے بعد لاہور میں 29 اپریل 2024 ء کو آئندہ اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے۔ فی الحال تحریک تحفظ آئین پاکستان مختلف شہروں میں جلسہ جلسہ کھیلے گی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس میں ایکشن پلان کی منظوری دی جائے گی۔
ایک طرف تحریک تحفظ آئین پاکستان شہباز شریف حکومت گرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تو دوسری طرف حکومت نے صدر مملکت آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کروا کر نئے پارلیمانی سال کا آغاز کرا دیا ہے۔ صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے ناخوشگوار ماحول میں خطاب ایک رسک تھا۔ حکومت کو اس بات کا بخوبی علم تھا۔ پی ٹی آئی صدر مملکت کے خطاب کے دوران نہ صرف ہنگامہ آرائی کرے گی بلکہ مار کٹائی اور ہاتھا پائی ہو سکتی ہے لیکن صدر آصف علی زرداری نے ہنگامہ آرائی کی پروا کیے بغیر تقریر کا رسک مول لیا پی ٹی آئی کے حامی ارکان نے وہی کچھ کیا جو ماضی میں صدر عارف علوی کے ساتھ اس وقت اپوزیشن کرتی رہی ہے۔
ایسا دکھائی دیتا ہے۔ صدر مملکت کے خطاب کے دوران ہنگامہ آرائی ہمارا سیاسی کلچر بن گیا ہے۔ عمران خان کی تصاویر اٹھائے پی ٹی آئی کے حامی ارکان گو زرداری گو کے نعرے لگا کر اڈیالہ جیل میں سرکاری مہمان کو یہ باور کرا رہے تھے کہ پارلیمان میں ان کی کمی ان کی تصاویر اٹھا کر پوری کر دی گئی ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں نے بیک وقت دو کشتیوں میں پاؤں رکھے ہیں۔ اس کے ارکان پارلیمان میں بھی براجمان ہیں اور موجودہ حکومت کو گرانے کے لئے بھی ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں۔
بہر صدر مملکت نے اپوزیشن کو مفاہمت کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملک کو حالیہ بحران سے نکالنا ہو گا۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔ درپیش مشکلات میں ہم اختلافات لے کر نہیں چل سکتے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ ایسا سیاسی ماحول بنانا ہو گا جس میں حدت کم اور روشنی زیادہ ہو ہم سب کو ایک قدم پیچھے ہٹنا ہو گا لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کو آصف علی زرداری کا فلسفہ سیاست اسی طرح سمجھ نہیں آ رہا جس طرح 2018 ء میں شہباز شریف نے پارلیمان میں عمران خان کو میثاق معیشت کی تجویز پیش کی جسے انہوں نے حقارت سے مسترد کر دیا تھا۔
لہذا صدر مملکت کی کسی اچھی بات کا پی ٹی کی جانب سے مثبت جواب آنے کا امکان نہیں شنید ہے۔ اڈیالہ جیل میں سرکاری مہمان کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ وہ دھمکیوں پر اتر آئے ہیں اور کہا ہے کہ اگر ان کی اہلیہ کو کچھ ہو گیا تو فلاں شخص کو نہیں چھوڑوں گا۔ ادھر بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدابخش میں ذوالفقار علی بھٹو کی 45 ویں برسی سے خطاب کرتے ہوئے معنی خیز انداز میں کہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو قبر سے حکومتیں بنا اور گرا رہے ہیں۔
کچھ سیاست دان پاکستان قومی اتحاد (پی این اے ) 2 بنانا چاہتے ہیں۔ 1977 ء میں دائیں بازو کی جماعتوں نے عام انتخابات میں دھاندلی کی آڑ میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ اب بھی بعض سیاست دان الیکشن سے متعلق دھاندلی کا ڈھول بجا کر سیاسی و معاشی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بھی تحریک چلانے کے خواہشمند سیاست دانوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی دعوت دی ہے جس پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے مثبت جواب موصول نہیں ہوا عمران خان کے جیل جانے سے پی ٹی آئی کی قیادت ایسے افراد کے ہاتھوں میں آ گئی ہے جو بڑے فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ عمران خان کو تصادم کی راہ پر لے کر چلنے والے ان کی رہائی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

