وانا وزیرستان: کچھ نہیں بدلا
وزیرستان وزیر، محسود، داوڑ، برکی، سلیمان خیل اور دوتانی اقوام کا مسکن ہے۔ ڈیورنڈ لائن کا وجود میں آنے کی وجہ سے 1894 ء میں مقامی آبادی نے ملا پیوندہ کی قیادت میں انگریز راج کے خلاف مسلح جد و جہد کے باعث گوروں نے وزیرستان کو ساؤتھ اور نارتھ میں تقسیم کیا۔ خیبرپختونخوا کی پچھلی حکومت نے ساؤتھ وزیرستان کو اپر اور لوئر ساؤتھ وزیرستان میں تقسیم کیا۔
سلیمان پہاڑی سلسلے سے شمال کی جانب جانے والی ایک شاخ وانا وزیرستان کو وادی نما شکل دیتا ہے۔ ایک طرف درہ گومل وانا وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان رابطے قائم رکھتی ہے جبکہ الٹ میں چلغوزوں سے بھری پہاڑی سلسلہ وانا وزیرستان کو افغانستان سے ملاتی ہے۔ وانا وزیرستان کی آمدنی زراعت سے ہے اور پہلے زراعت کے لئے کاریز سسٹم زیر استعمال تھا۔
سن دو ہزار ایک میں افغان مہاجرین وانا وزیرستان آ کے آباد ہو کے یہاں کے غیر آباد زمینوں کو بھی آباد کرنے لگے۔ ناخواندگی، افرادی قوت کی کثرت، آبادی میں یک دم اضافے کی وجہ سے لوگ روزگار کے لئے خلیجی ممالک کی طرف چل بسے۔ زراعت کے لئے زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال سے پانی کی سطح نیچے گرتا چلا گیا جس کا نتیجہ کاریز سسٹم خشک کی صورت میں جبکہ بعد میں ٹیوب ویل سے ہوتی ہوئی بات سولر پینل تک پہنچ گئی مقامی آبادی کی لاپرواہی و ناسمجھی اور حکومت و انتظامیہ کی عدم دستیابی و عدم دلچسپی کی وجہ سے یہی سولر پینل واٹر ٹیبل کے لئے بنی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گئی و ہونے جا رہی ہے۔ اب تک ان کے نتائج لوگوں کے باغات سوکھ جانے اور سوکھنے کی شکل میں مل چکی اور رہی ہیں۔ سابقہ رفتار کے حساب سے آبادی بھی بڑھتی گئی و رہی ہے جبکہ روزگار پہلے سے کم تھی اور مزید کمی آ گئی و آ رہی ہے جس کا نتیجہ بدامنی اور چوری و ڈکیتی کی شکل میں دیکھنے کو مل چکا و مل رہا ہے۔ بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور والدین اپنے کام میں ہاتھ بٹھانے کے واسطے بچوں کو اسکولوں سے نکال رہے ہیں۔ اکثر لوگوں نے روزگار کے لئے خلیج ممالک کی طرف پہل شروع کی ہے۔ والدین کی غیر موجودگی میں بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے نہ ہونے کا نتیجہ بچوں کا غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث اور نشہ آور مواد کا عادی بن گئے۔
پچھلے دو تین سالوں سے واٹر ٹیبل کی سنگین نوعیت کا اندازہ ہونے کے بعد مقامی آبادی نے مختلف پلیٹ فارمز پر آواز اٹھانا شروع کی ہے۔ اب تک واٹر ٹیبل کا مسئلہ جو کے تو پڑا ہے۔ واٹر ٹیبل کو مزید گرنے سے بچانے کے لئے ایمرجنسی بنیادوں پر ڈیمز بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ پہاڑوں کے بیچ واقع ڈھلوان نما ہمواری میں واقع وانا وزیرستان میں کافی بارشیں ہوتی ہیں۔ چھوٹے و بڑے ڈیمز بنانے کے لئے یہاں تمام مواقع موجود ہے۔ ڈیمز سے بننے والی پن بجلی کی وجہ سے مقامی طور پر لؤڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔ ڈیمز بنانے سے لوگوں کو اپنے ہی علاقے میں روزگار مل سکتے ہیں۔ پہاڑوں سے پانی کے ساتھ آنے والی زرخیزی بھی ضائع ہونے سے بچ جاسکتا ہے۔ کاشت اور آبپاشی کے لئے زیر زمین پانی کی بجائے منظم نہری نظام کا جال بچھانے سے پہلے آباد زیر کاشت زمینوں کے ساتھ قابل کاشت غیر آباد زمینوں کو بھی آباد کیے جا سکتے ہیں۔
مقامی آبادی کو روزگار کے اور مواقع دینے کے لئے حکومت اگر یہاں کیڑے مار ادویات اور کھاد بنانے کی فیکٹریاں لگا دے۔ تو روزگار کے ساتھ مقامی آبادی کو آسان قیمتوں پر زراعت کے سامان بھی مل سکتے ہیں۔ ڈیمز سے بنی پن بجلی ان ہے فیکٹریاں کی انرجی ضروریات بھی پوری کر سکتی ہے۔ میوہ جات کی اسمبلی اور پروسیسنگ بھی اگر مقامی طور پر کیا جائے تو روزگار کے اور ذرائع کھل سکتے ہیں۔ مقامی آبادی کو روزگار دینے کے لئے وانا وزیرستان کے خشک پہاڑوں میں زیتون کے درخت اگانا بہترین آپشن ہے۔ زیتون سے تیل نکالنے کے لئے فیکٹری اگر یہاں لگا دے تو بے روزگاری پر قابو پا سکتے ہیں۔ حکومت اگر کسان کی بہبود چاہتی ہے تو جدید سائنسی لیبارٹریوں میں کلچر شدہ پودوں کو وانا وزیرستان کے کسان کو فراہم کرے۔ ایسے پودے جس میں پانی قلت کی برداشت ہو، جو زیادہ دیرپا پھل دے سکے اور جن کی عمر زیادہ ہو۔
یہاں گھنے جنگلات کی وجہ سے اگر فرنیچر انڈسٹری پر بات کرے تو اسی سیکٹر سے بھی مقامی آبادی کو روزگار مل سکتا ہے۔ وزیرستان کے جنگلات سے عالمی معیار کے اچھے فرنیچر بن جانے کی بڑی گنجائش ہیں۔ اس کے لئے فیکٹریاں اگر مقامی طور پر قائم کی جائے تو لوگوں کو بھی روزگار مل سکتا ہے۔ وانا وزیرستان کے تقریباً سبھی گھروں میں چھولے اور سردیوں میں کمروں کی گرمائش کے لئے لوگوں کو لکڑیاں جلانا پڑتی ہے جس کی وجہ سے جنگلات سکڑتے جا رہے ہیں۔ جنگلات اور جنگلی حیات کی تحفظ کی خاطر انتظامیہ کو چاہیے کہ محکمہ جنگلات کو فعال کرے۔ کسانوں کی مدد اور قرض کے لئے زرعی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے برانچز کو مقامی طور پر قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسان برادری کا مدد اور مداوا ہو سکے۔



