غزہ کی گڑیا


تین سال کی ندا دودن سے رو رہی تھی۔
میری للی، میری گڑیا کہاں ہے؟
وہ اور اس کے بہن بھائی ماں باپ سب بچے گئے تھے۔
لیکن ان کے اپارٹمنٹ کی عمارت ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی۔
باپ بھی ایک ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا۔
کوئی رہنے کی جگہ نہیں،  روزی کمانے کا ذریعہ نہیں۔
کوئی حال نہیں،  کوئی مستقبل نہیں۔

چاروں طرف موت اور مفلسی کا بھیانک رقص زوروں پہ تھا۔
باپ گڑیا ڈھونڈنے کے لئے عمارت کے ملبے کی طرف چل پڑا۔
ننگے ہاتھوں ہی سے پتھروں کو ہٹانا شروع کر دیا۔
اس کے ہاتھ شل ہو رہے تھے۔
سردی کے باوجود پسینے چھوٹ رہے تھے۔
اگر للی گڑیا نہیں ملی تو وہ کیسے واپس جائے گا۔
کیسے وہ اپنی گڑیا کو چپ کرائے گا۔
اس نے تھوڑی دیرایک پتھر پہ بیٹھ کر آرام کیا۔
پھر اس نے دوسری جانب سے ملبے کو ہٹنا نا شروع کر دیا۔
کچھ چھوٹے، کچھ بڑے پتھر ادھر ادھر دھکیلتا رہا۔
مٹی کو اپنے ہاتھوں سے ہی ہٹاتا رہا۔
شام ڈھل رہی تھی، روشنی کم ہو رہی تھی۔
آج وہ گڑیا کے بغیر واپس نہیں جائے گآ۔
ندا کو للی چاہیئے کوئی اور گڑیا نہیں۔
اس نے ماتھے سے پسینہ صاف کیا۔
غور سے ملبے کی طرف دیکھا۔
اسے ایک ہاتھ نظر آیا پتھروں کے بیچوں بیچ۔
ہاں شاید یہی ندا کی گڑیا ہے!
اس کا سانس پھول رہا تھا، ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔
اس نے گڑیا کو دیکھ کر ایک چیخ ماری۔
اس گڑیا کو اس نے اپنے کفیہ میں لپیٹ لیا اور گود میں اٹھا لیا۔
آنسوؤں کا ایک سیلاب امڈ آیا تھا۔
وہ ہسپتال کی طرف جا رہا تھا۔
پھر اسے اپنی گڑیا کا خیال آیا۔
اب وہ بہتے ہوئے اشکوں کے ساتھ ساتھ مسکرا بھی رہا تھا۔

Facebook Comments HS