ثمرا کوثر کی کتاب علیم الحق حقی اور تصوف پر ایک نظر


muhammad usman hocha

راجپوت اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی ثمرہ کوثر نے ساہیوال کی تحصیل چیچا وطنی کے ایک گاؤں میں انکھ کھولی۔ بچپن ہی سے لکھنے اور پڑھنے کا بہت شوق تھا پانچویں کلاس کے بچے جب کھیل کود میں مصروف ہوتے ہیں تب انہوں نے نسیم حجازی کا ناول محمد بن قاسم کو پڑھ لیا تھا۔ جیسے جیسے شعور کی پختگی ہوئی تو پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی طرف بھی راغب ہوئی۔ ان کی ابتدائی تحریریں آنسو اور پھول کے عنوان سے گجرانوالہ کے ایک ماہ نامہ سے شائع ہوئیں اور پھر لکھنے کا سلسلہ چل نکلا۔ انہوں نے روزنامہ بیٹھک ملتان کے علاوہ مختلف تحقیقی اور تنقیدی جرائد میں اپنے منہ قلم سے بہت سے سرچ آرٹیکل لکھے زیر نظر کتاب ”علیم الحق حقی اور تصوف عشق کا عین اور عشق کا شین کے تناظر میں سمرا کوثر کا ایم فل کا تحقیقی مقالہ ہے جو انہوں نے سینیئر ہیڈ ماسٹر ڈاکٹر امتیاز احمد کی زیر نگرانی لکھا اور اب کتابی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں ہے کتاب کا دیباچہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج میلسی کے صدر شعبہ اردو شفیق الرحمن الہ آبادی نے لکھا ہے۔ جبکہ پیش لفظ خود مصنفہ نے لکھا ہے۔ مذکورہ کتاب کو انہوں نے پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔

1علیم الحق حقی۔ ایک تعارف
2 تصوف کیا ہے۔
3تصوف کے مراحل عہد بہ عہد
4 علیم الحق حقی اور تصوف ناولوں کے تناظر میں
5حاصل تحقیق

پہلے باب میں ثمرہ کوثر علیم الحق حقی کے خاندانی پس منظر پیدائش، تعلیم، ملازمت اور ادبی زندگی کے آغاز کے بارے میں رقم کرتی ہے۔ علیم الحق حقی نے ادبی زندگی کا آغاز چودہ برس کی عمر میں شاعری سے کیا اور علیم شام تخلص اپنایا۔ وہ خود ”عشق کا شین“ جلد اول کے صفحہ نمبر اٹھ پر لکھتے ہیں

” اپ سب جانتے ہیں کہ بنیادی طور پر میں شاعر ہوں کہانی کا میڈیم تو میں نے بہت دیر بعد اپنایا میری کچھ نظمیں اور اشعار تو اپ نے پڑھے ہوں گے شعر کو میں اظہار ذات سمجھتا ہوں اور وہ مجھے بہت ذاتی لگتا ہے۔

علیم شام نے بہت سی غزلیں 50 کے لگ بھگ نظمیں اور رباعیات کے علاوہ ایک طویل نظم بعنوان ”زندگی“ بھی لکھی۔ ایک غزل ملاحظہ ہو۔

گما میں صدیوں کا فاصلہ ہوں
یقین میں قربت کی انتہا ہوں
جو دیکھے تو میں اجنبی ہوں
جو سوچے تو میں اپ سا ہوں
میری بقا ہی میری فنا ہے
میں خود ہی ہوں زاد راہ اپنا
چراغ ہوں اور ہوا کے کاغذ پہ
داستان اپنی لکھ رہا ہوں

اردو ادب کے اس چراغ نے ہوا کے کاغذ پر ان تحریروں کو لکھا جس نے انھیں امر کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عشق کے عین کے پیش لفظ میں معروف قلم کار محی الدین نواب نے لکھا تھا۔

”اگر اس کتاب پر مصنف کا نام لکھا ہوا نہ ہوتا تو میں اسے اسمانی صحیفہ سمجھتا۔“

ثمرہ کوثر نے علیم الحق حقی کے 104 فن پاروں کی فہرست دی ہے۔ جس میں ناول، افسانے، سفر نامے کہانیاں اور چند تراجم بھی شامل ہیں۔ دوسرے باب میں سمرا کوثر نے تصوف کے لغوی اصطلاحی معنی کے ساتھ ساتھ مختلف محققین اور نقادوں کی آرا کی روشنی میں تصوف کی تمام گرہیں کھولنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ میں تصوف کی ابتدا اور صوفیہ کرام کے اوصاف کو بیان کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ فلسفہ تصوف چھ بنیادی مقاصد کا مجموعہ ہے صوفیا کرام نے ان چھ مقاصد کو دو مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ تین کا ظاہر سے اور تین کا قلب سے۔ پہلے مرحلے میں تزکیہ نفس، وفائے قلب، اطاعت حق۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں محبت الہی، رضائے الہی اور معرفت الہی ہے۔ موسی خان جلال زئی اپنی کتاب ”فلسفہ تصوفِ اسلامی“ میں صفحہ نمبر 31 پر رقم طراز ہیں۔

” تصوف قرآن و حدیث سے نکلی ہوئی ایسی شاہراہ ہے جو افراط و تفریط کے عین درمیان واقع ہے جسے صراط مستقیم کہا جاتا ہے۔ اس پر چلنے سے انسان خدا تک پہنچ جاتا ہے۔

تصوف کو ایسی شاہراہ قرار دیا گیا ہے جو انسان کو دیدار الہی تک لے جاتی ہے۔

تیسرے باب میں ثمرہ کوثر نے تصوف کے مراحل کا عہد بہ عہد جائزہ لیا ہے۔ سب سے پہلے انھوں نے دنیا کی قدیم تہذیب چینی تہذیب کا ذکر کیا ہے۔ اس تہذیب میں انھوں نے یانگ جو تاوٴ، کنفیوشس، لاؤزی 570 ق م 604 ق م کا فلسفہ تاوٴ ازم، ڈاؤزم کو موضوع بنایا ہے۔ مجموعی طور پر چینی تصوف میں جو نکات ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ ا1ترک دنیا، اللہ کا قرب 2 ترک خواہشات سے انسان حقیقی قرب پا سکتا ہے۔ تیسرا لا عملی بہترین عمل۔ چوتھا روح انسانی روح ازلی کا پرتو ہے۔ پانچواں صوفیا جادوئی قوتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ چھٹا خدا کو داخلی بصیرت کے ذریعے ہی پہچانا جا سکتا ہے اس کے لیے علم کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے بدھ ازم کے بارے میں رقم کیا ہے مہاتما بدھ نے زندگی کی چند صداقتوں کا ذکر کیا ہے جن میں زندگی دکھ ہے۔ دکھ کی وجہ خواہشات ہیں۔ خواہشات کو ختم کر سکتے ہیں۔ گوتم بدھ نے انسان کی شخصیت کو روحانی اور مادی دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان کے نزدیک متصوفانہ فکر میں تین عوامل اہمیت کے حامل ہیں۔ سِل: مضبوط نفس، ضبط نفس۔ سمادی : ذہنی اور فکری افعال کو ایک مرکز پر مرکوز کرنا۔ پننا : وہ دانش جو مسائل تکالیف کی اصل تک پہنچ جاتی ہے۔

بدھ مت میں و دانتی یوگ ازم، مرتاضیت، رہبانیت اور تیاگ ازم شامل ہے۔ اس کے بعد ثمرہ کوثر نے ہندی یا و دانتی تصوف کے اعمال و افکار کا جائزہ لیا ہے۔ ثمرہ کوثر نے اس باب میں مختلف تہذیبوں اور قوموں کے تصوف کو موضوع بنایا ہے جس میں یونانی تصوف، یہودی تصوف، مسیحی تصوف اور اسلامی تصوف کا ذکر کیا ہے۔ اسلامی تصوف کا دیگر مذاہب کے تصوف کے ساتھ تقابل کیا گیا ہے۔ انھوں نے اسلامی تصوف پر روشنی ڈالنے کے لیے صوفیا کو چار ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور 43 ہ سے 150 ہ دوسرا دور 151 ہ سے 400 ہ تیسرا دور 401 ہ سے 750 تک چوتھا دور 751 ہ سے عصر حاضر تک۔

شفیق الرحمن الہ آبادی اس باب کے بارے میں دیباچے میں لکھتے ہیں۔

ُُمصنفہ نے اس باب میں تصوف کے مرتبے پر فائز اولیا ء، عارف، ابدال اور مجذوب کی صفات کے علاوہ تصوف کے مقامات توبہ، درع، زہد، فکر، صبر، شکر، توکل اور رضا پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ مصنفہ نے ادیان عالم میں متصوفانہ رجحانات تصوف کی تاریخ، ادوار اور برصغیر میں صوفیا کرام کے افکار و صوفیانہ سلاسل بیان کرنے کے بعد اخر میں ادب اور تصوف کے تعلق کے حوالے سے لکھا ہے۔

ثمرہ کوثر چوتھے باب میں علیم الحق حقی اور تصوف کے عنوان سے قلم بند کیا ہے۔ انھوں نے اس باب میں عشق کا عین اور عشق کا شین کا تصوف کے حوالے سے جائزہ لیا ہے اس جو تین حروف کا مجموعہ ہے عین شین اور کاف ان تین الفاظ کی معنویت وہ یوں، عیاں کرتی ہے

ُُعشق ایک ایسا لفظ ہے جو تین حروف عین شین اور کاف سے تخلیق ہوا ہے اس کا ہر حرف اس کے احوال اور محبت کی حکایت بیان کرتا ہے۔ عشق کا عین کو عمل سے عبارت کیا جاتا ہے اور شین شدت سے معصوم ہوا ہے اور کاف سے قبولیت کی سند ملتی ہے۔ عین کا ایک معنی چشم ہے اور چشم کو عشق کا تخم تصور کیا جاتا ہے۔ معین کا ایک معنی آفتاب بھی ہے ایسا آفتاب جسے کوئی زوال نہیں ہے جو درد کے افق سے طلوع ہو کر درد مندوں کے دل میں غروب ہو جاتا ہے ایسا نور کامل جو بے کاروں کو کامل بناتا ہے اور اس کا نور عشق کی علامت ہے عشق کا دوسرا لفظ شین ہے جس کے معنی دانت ہیں اس لفظ کو زیادہ تر بے وفائی سے منسوب کیا جاتا ہے یہ ایسا بے وفا ہے جو کسی جان اور دل پر رحم نہیں کرتا۔ عشق کا تیسرا لفظ کاف ہے اور قاف کے متعلق ارشاد باری تعالی قرآن مجید میں ہے۔ ق و القرآن المجید اس سے مراد کاف قدرت کی قسم یا کوہ کاف کی قسم، کوہ کاف ایک پہاڑ ہے جس نے تمام دنیا کو گھیرا ہوا ہے۔ اس کو کاف سے ساری دنیا کی بقا اور اس کا نفع وابستہ ہے۔ بالکل ایسے ہی عشاق کے راستے کی بقا محبوب کی عنایات اور نوازشات پر ہوتی ہے۔ جس طرح کوہ کاف نے عالم کو گھیرا۔ اس طرح حرف ق نے سب کو اپنے حکم دائرے میں قید کیا ہوا ہے۔

علیم الحق حقی اور تصوف صفحہ نمبر 181 اور 182

ثمرہ کوثر نے علیم الحق حقی کے ناولوں عشق کا عین اور عشق کا شین میں تصوف کے پہلوؤں کو تلاش کیا ہے انھوں نے تصوف کے تاروں پود کو تلاش کرنے اور اپنے قلم کے ذریعے صفحہ قرطاس کرنے کی کوشش کی ہے عشق کا عین پر تصوف کا جائزہ لیتے ہوئے وہ لکھتی ہیں

” علیم الحق حقی نے یہ ناول کائنات کی لازوال جذبے عشق کے تحت لکھا۔ جس میں عشق مزاجی کی منزلوں سے سفر کرتا ہوا عشق حقیقی کی منزلوں پر پہنچ کر اپنی معراج کو پا لیتا ہے۔ ایک ایسے باپ کی لازوال کہانی جو سچا عاشق رسول ہے، جو اپنی اولاد کو عشق کی گھٹی دینا چاہتا ہے۔ اس کی تمنا ہے کہ عشق کا جو سبق اس کو اس کے باپ دادا نے پڑھایا وہ اس کا بیج اپنی نئی نسل میں لگا کر اس کی آبیاری کرے۔ ”

علیم الحق حقی اور تصوف صفحہ نمبر 182

ثمرہ کوثر ناول کے کردار پیر بخش اور اس کے بیٹے الہی بخش کے کرداروں میں تصوف کے پہلوؤں کو ڈھونڈتی ہے اور بڑی چابک دستی سے اسے صفہ قرطاس کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ انھوں نے بہت ہی سادہ اسلوب میں ناولوں میں تصوف کو اپنی ذہنی بصیرت سے عیاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ صائمہ ممتاز ثمرہ کوثر کے بارے میں کتاب کے سر ورق پر لکھتی ہیں

انھوں نے نہ صرف تصوف کی تعریف ہو توضیح اور عہد بہ عہد اس کے مراحل پہ روشنی ڈالی ہے بلکہ علیم الحق حقی کے ناولوں میں متصوفانہ عناصر کا بڑی چابک دستی سے سراغ لگایا ہے جو ان کے وسعت مطالعہ موضوع پر دسترس ادب سے گہری رغبت، گہرا مشاہدہ، تحقیقی شعور اور تنقیدی بصارت پر زبردست دال ہے۔ ان کی تحریر پڑھ کر سرشاری کا احساس ہوتا ہے ان کا اسلوب نہایت شستہ اور سہل ہے

ثمرہ کوثر نے عشق کا شین جو چھ جلدوں پر مشتمل ہے اور جسے علیم الحق حقی نے لکھنے میں تیرہ برس لگا دیے اس کا جائزہ مقالہ نگار نے بڑے لگن اور شوق سے کیا ہے اور موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی ہے انھوں نے تصوف کے حوالے سے نہ صرف اس ناول کا بغور مطالعہ کیا ہے بل کہ ناول کا جائزہ گہرائی اور گہرائی سے پیش کیا ہے۔ شفیق الرحمان الہ آبادی ثمرہ کوثر کے بارے میں دیباچے میں لکھتے ہیں۔

ثمرہ کوثر نے مذکورہ ناول کا بغور مطالعہ کر کے ان کے کرداروں میں پوشیدہ صوفیانہ افکار کی توضیح اس انداز سے کی ہے کہ قاری کو تفہیم میں کوئی دقت پیش نہیں اتی۔

عشق کے شین ناول میں ثمرہ کوثر ناول میں پائے جانے والے پراسراریت جادوئی حقیقت نگاری صوفیانہ رنگ اور مجذوبیت ایسے تمام واقعات کو اپنے قلم کے ذریعے صفہ قرطاس کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ثمرہ ناول میں پائے جانے والے کردار پرتاب سنگھ، مجذوب ٹھاکرانی، بیوہ عورت اور اس کی تین بیٹیوں کے ذریعے ناول میں پائے جانے والے صوفیانہ رنگ کو اپنی ذہنی بصیرت سے نہ صرف خود دیکھتی ہے بلکہ کتاب کے قاری کو دکھاتی بھی ہے۔ انھوں نے اس ناول کا بڑی چابک دستی کے ساتھ بغور مطالعہ کیا اور تصوف کے تمام پہلوؤں کو عیاں کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کی ہے۔ پانچویں باب میں انھوں نے حاصل تحقیق کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ علیم الحق حقی کے دونوں ناولوں میں تصوف بدرجہ اتم موجود ہیں ثمرہ کوثر کی یہ پہلی کتاب نہ صرف تصوف کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے بل کہ اس کے ذریعے مختلف تہذیبوں میں موجود تصوف کے ارتقا کو سمجھا جا سکتا ہے

Facebook Comments HS