صرف قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں

دوسری جنگِ عظیم کے بعد جہاں یورپ کی سرحدوں پر نیٹو نامی فوجی اتحاد کھڑا کیا گیا تھا تو وہیں تاریخی سلک روٹ پر سرخ آندھی کو روکنے کے لئے جہادی تنظیموں کی آبیاری کی گئی۔ مسلح مذہبی تحریکیں ہوں یا تھیوکریٹک ریاستیں، یہ امر طے شدہ کہ وہاں بالآخر کسی ایک خاص مسلک کی ہی اجارہ داری قائم ہوتی ہے۔ صرف ایران ہی نہیں، کئی مثالیں موجود ہیں۔ یہ فطری عمل تھا کہ ایرانی انقلاب کے بعد وہاں قائم ہونے والے حکومتی بندوبست میں اکثریتی مذہبی فکر ہی بالادست رہی۔
اسّی کی دہائی میں جبکہ ایک طرف امریکی چھتری کے نیچے افغان محاذ پر جہادی بر سرِ پیکار تھے تو دوسری طرف عراق کے خلاف جنگ میں ایران کی مذہبی حکومت کو اسرائیل کے ذریعے امریکی ہتھیاروں کی زیرِ زمین سپلائی جاری رہی۔ ہدف ہر دو کا بالترتیب اشتراکیوں کی پیش قدمی اور ایران میں اقتدار پر اُن کے قبضے کو روکنا تھا۔ تاہم اسی کے نتیجے میں بہت جلد خطے میں مسلکی عداوت کی چنگاریاں سلگنے لگیں۔ سرد جنگ کا خاتمہ ہوتے ہوتے وطنِ عزیز بھی انہی متحارب مسلح گروہوں کے مابین میدانِ کارزار بن چکا تھا۔
شاہ کے دور میں امریکہ کی علاقائی پالیسیوں کے زیرِ اثر ایران کے تعلقات نا صرف امریکی عرب اتحادیوں بلکہ اسرائیل کے ساتھ بھی دوستانہ رہے۔ تاہم انقلاب کے بعد ایران کی علاقائی پالیسی میں اسرائیل کی مخالفت اور خطے میں مسلکی نظریات کے فروغ کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گئی۔ کہا گیا کہ کچھ نیا نہیں ہوا بلکہ ایران ایک بار پھر سولہویں صدی کے صفوی حکمرانوں کی ہی قدیم پالیسی پر عمل پیرا ہوا تھا۔ تاہم اس کے برعکس دوسری رائے یہ رہی کہ ’پراکسیز‘ کے ذریعے ایران کا ہدف خطے میں کسی خاص ’فکر‘ کو پھیلانا نہیں بلکہ محض ’پاور پروجیکشن‘ کے ذریعے علاقائی ’لیڈر شپ رول‘ کو برقرار رکھنا ہے۔
ہم مسلک آذربائیجان کے مقابلے میں آرمینیا کی امداد کو اس تناظر میں ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ مذہبی عقائد کے فروغ کی بظاہر فوقیت پانے والی پالیسی کا خارجہ محاذ پر استعمال ایک ’ہتھیار‘ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیل کے ساتھ ایران کی مخاصمت کو بھی اسی سعی مسلسل کی ہی ایک کڑی کہا جاتا ہے۔ چنانچہ بظاہر یہی وہ قومی ہدف ہے کہ جس کے حصول کے لئے ایران میں ایک ہی وقت میں متعدد علاقائی حریفوں کے خلاف سرگرم عمل مختلف ’پراکسیز‘ کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے کے لئے ایک باقاعدہ تنظیم سرکاری سطح پر موجود ہے۔
امریکی حملے میں جنرل قاسم کی شہادت کا سبب ان کا اسی تنظیم کا سربراہ ہونا بتایا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں جہاں حزب اللہ اسرائیل کے خلاف سرگرم عمل رہتی ہے تو اسرائیل بھی ایرانی اہداف کو ایران کی سرحدوں کے اندر اور باہر نشانہ بناتا چلا آیا ہے۔ تاہم اب تک دونوں ممالک نا صرف یہ کہ ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کو ایک متعین حدود کے اندر رکھتے چلے آئے ہیں بلکہ ایسی کسی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے سے بھی ہمیشہ انکاری رہے ہیں۔
دوسری طرف یمن میں اگر ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے کئی برسوں سے سعودیوں کا ناک میں دم کیے رکھا ہے تو ایران کا الزام ہے کہ سعودیوں کی پشت پناہی کے ساتھ ہی مسلح جتھے پاک ایران سرحد پر اس کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ چنانچہ بظاہر اسی کے ردعمل میں ایران کی سر زمین پر ان دہشت گرد کو پناہ دستیاب رہتی ہے کہ جو ہمارے ہاں خونریزی کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ اس سب کے بیچ حال ہی میں جنرل قاسم کی برسی کے موقع پر سینکڑوں بے گناہ ایرانیوں کی شہادتوں کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم دو لتِ اسلامیہ کے خراسانی بازو نے قبول کی ہے کہ جو عراق اور شام میں اپنی بیخ کنی کے پیچھے ایران کا کردار دیکھتی ہے۔
حال ہی میں اسرائیل غزہ کے نہتے شہریوں کے خلاف جن ناقابلِ بیان جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے، پوری دنیا میں انسانیت دوست عوام بلا امتیازِ رنگ و نسل و مذہب اس بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ غزہ نامی چھوٹی سی بستی نہیں جو میلوں پر پھیلے ملبے کے ڈھیر میں بدل چکی ہے۔ درحقیقت یہ ’سفید آدمی کا بوجھ‘ کاندھوں پر اٹھائے نام نہاد ’آزاد دنیا‘ کا وہ نظریاتی تکبر ہے جو خاک میں مل چکا ہے۔ عالمی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے خدا کی زمین کو تاراج کرتی چلی آ نے وال ’مہذب قومیں‘ ایک بار پھر خود اپنے عوام کی جانب سے ’ویت نام کے سے ردِ عمل‘ سے دور چار ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف حالیہ جارحیت کے ذریعے دنیا کی توجہ اسرائیلی مظالم سے بٹانا ہی مقصود تھا۔ ایران مگر دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتا چلا آیا ہے۔ تاہم شام میں اپنے سفارت خانے پر اسرائیلی جارحیت کے بعد اس کے لئے خاموش رہنا ممکن نہیں تھا۔ مقامِ شکر ہے کہ متعدد عوامل کی بناء پر حالات یوں بے قابو نہیں ہوئے اور ایران نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کے جن بظاہر نفسیاتی اہداف کا تعین کیا تھا انہیں بخوبی حاصل کیا ہے۔
اہم جغرافیائی محل وقوع پر واقع ایک عظیم ریاست ہونے کے باوجود اسے قومی بدقسمتی نہ کہا جائے تو اور کیا ہے کہ گزرتے عشروں عالمی سطح پر تو درکنار، علاقائی معاملات میں بھی ہم عضو معطل بن کر رہ گئے ہیں۔ قومیں مذہبی جذبات کو وقتی مفادات کے حصول کے لئے برانگیختہ کرتی ہیں۔ تاہم اکثر اوقات بوتل سے برآمد ہونے والے جن پر قابو پانا ممکن نہیں رہتا۔ ہم پاکستانیوں کا مفاد اسی میں ہے کہ صورت حال کو مذہبی رنگ دینے کی بجائے یاد رکھا جائے کہ قوموں کی دوستی یا دشمنی نہیں، مفادات مستقل ہوتے ہیں۔
سعودی عرب ہمارا قدیم قابلِ بھروسا دوست جبکہ ایران ہمارا ہمسایہ اور فطری اتحادی ہے۔ حال ہی میں چینی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور سعودی تناؤ میں آنے والے کمی کے نتیجے میں ہمارے لئے ایک متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے وسیع امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ اشتراکِ عمل کے ذریعے بلوچستان میں سرمایہ کاری سے پہلے وہاں قیام امن لازم ہے۔ باہم اعتماد سازی کے ذریعے ایران اس باب میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ہر سال ایرانی پٹرول کی غیر قانونی سمگلنگ کی مالیت 10 ارب امریکی ڈالر کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ صرف اس ایک پہلو کو پیش نظر رکھا جائے تو پاک ایران تجارتی امکانات کی وسعت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پاک، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں ہمارا دم توڑتا توانائی کا سیکٹر بحال ہو سکتا ہے۔ نتیجے میں صنعتوں کی بحالی معاشی خود انحصاری کے درخشاں دریچے کھول سکتی ہے۔ کسی بھی آزاد قومی ریاست کی اس سے بڑھ کر اور بدنصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ تمام تر مواقع دستیاب ہونے کے باوجود وہ قومی مفادات کے حصول میں آزاد نہ ہو۔ وطنِ عزیز کو اللہ تعالیٰ نے خیرہ کن وسائل سے نواز رکھا ہے۔ اس سب کے باوجود مگر ہم آج بھی خود کو ان دائمی بیڑیوں میں جکڑا ہوا پاتے ہیں کہ ساٹھ کی دہائی میں نام نہاد ’آزاد دنیا‘ کے ساتھ غیر فطری اتحاد کی شکل میں جنہیں ہم نے بالاصرار پہنا تھا۔

