کھیل انڈوں کا ہوا
لڑنا لڑانا اچھی بات نہیں۔ اس کام میں دونوں فریق خسارے میں رہتے ہیں۔ ایک کی چونچ اور دوسرے کی دم گم ہو جاتی ہے۔ لڑائی سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ دانا لوگ تو آنکھیں لڑانے سے بھی گریز کرتے ہیں کیوں کہ اس کھیل میں بھی دھول دھپے کا اندیشہ رہتا ہے۔ لڑائی کی ایک صورت البتہ ایسی ہے جس میں عزت محفوظ رہتی ہے، خواہ آپ سادات ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ایک معصوم سی صورت ہے۔ یوں سمجھیے کہ بازیچۂ اطفال ہے۔ اس میں انڈے لڑائے جاتے ہیں۔
کوئٹہ اور پشاور میں یہ کھیل بے حد مقبول ہے۔ اس میں پہلے انڈوں کو ابالا جاتا ہے، ان پر اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے رنگ کیے جاتے ہیں اور پھر ان رنگارنگ ’پہلوانوں‘ کو میدان میں اتارا جاتا ہے۔ جیسے جام سے جام ٹکراتے ہیں، فریقین انڈوں کو باہم ٹکراتے ہیں۔ جس کا انڈا ٹوٹ جائے، اس کا دل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ”نقصانِ خایہ“ الگ ہوتا ہے کہ اسے وہ ٹوٹا ہوا انڈا، فاتح کو انعام کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے۔ (زیادہ شرمانے کی ضرورت نہیں۔ لغاتِ قدیم میں ”خایہ“ کے ایک معنی ”انڈے“ کے بھی بیان ہوئے ہیں )
حریف کشتی سے قبل، اپنے انڈوں کو دانتوں سے ٹکرا کر اس کی مضبوطی کا اندازہ کرتے ہیں اور اپنے سب سے مضبوط ’پہلوان‘ کو پنجہ آزمائی کے لیے روانہ کرتے ہیں۔ ایک طرف سے رستم نکلتا ہے اور دوسری جانب سے سہراب۔ گھمسان کا رن پڑتا ہے۔ چرخِ کہن کانپ اٹھتا ہے۔ شورِ قیامت برپا ہوتا ہے۔ سب دیکھ دیکھ ان کو بجاتے ہیں تالیاں۔ آغا حشر کے ڈرامے میں وہ سسپنس کہاں جو اس معرکے میں ہوتا ہے۔
وہ اگر ’معرکۂ پدر و پسر‘ تھا تو عین ممکن ہے کہ یہ انڈے بھی ایک ہی مرغی کے ’فرزند‘ ہوں لیکن دونوں کو معلوم نہ ہو کہ وہ آپس میں ’بھائی‘ ہیں۔ (سن اے خرد مند، ہم جو دو بھائی تھے۔) آخر میں جب یہ راز فاش ہو تو تماشائیوں کے دل مسوس کر رہ جائیں لیکن کسی کو خبر نہ ہو کہ دنیا کے اسٹیج پر ایک عظیم المیہ رونما ہو چکا ہے۔
ہم سوچ رہے ہیں کہ اس عظیم المیے کو ضبطِ تحریر میں لے آئیں اور ایک ڈراما لکھ ماریں لیکن ہمیں آغا حشر کی نکونامی منظور نہیں۔ ہمارے لیے تو یہ دائیں ہاتھ کا کھیل ہے (بائیں ہاتھ سے ہم خاصے بدخط واقع ہوئے ہیں) لیکن جس شخص نے اپنی ساری زندگی کو بے ثمر کیا ہو اور اس فنِ لطیف کی ریاضت میں بسر کیا ہو، اس کا احترام برحق ہے، اس لیے سردست ہم ڈراما لکھنے سے باز آتے ہیں۔
برطانیہ کے ایک گاؤں ”سواٹن“ میں جون کے مہینے میں ایک میلہ منعقد ہوتا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کی طرف گل یا ثمر نہیں، تخمِ مرغ پھینکتے ہیں۔ اصولاً تو یہ کھیل مرغوں اور مرغیوں کو کھیلنا چاہیے کہ انڈوں پر اولین حق ان کا ہے کہ وہ انہی کی کاوشوں کا ثمرہ ہوتے ہیں مگر شاید انہیں اس کھیل میں کوئی دل چسپی نہیں ہے کیوں کہ کم از کم ہم نے تو نہیں دیکھا کہ کسی میدان میں مرغانِ شہر جمع ہوں اور ایک دوسرے کی جانب انڈے اچھال رہے ہوں۔
خیر، دیکھا تو ہم نے انسانوں کو بھی نہیں کہ وہ یہ کھیل کھیل رہے ہوں، سنی سنائی بات ہے اور سنا یہی ہے کہ گاؤں کے ایک میدان میں اتنے لوگ جمع ہوتے ہیں کہ مرغ دھرنے کی جگہ نہیں رہتی۔ کچے انڈوں سے مختلف کھیل کھیلتے ہیں۔ ایک کھیل یہ ہے کہ دو دو افراد پر مشتمل چند ٹیمیں بنائی جاتی ہیں۔ ہر فرد ایک مخصوص فاصلے سے اپنے ساتھی کی جانب انڈا اچھالتا ہے، وہ اسے آگے بڑھ کر ہاتھ میں دبوچ لیتا ہے۔ مزا تو جب ہے ”انڈوں“ کو تھام لے ”ساتھی“ ۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ انڈا سلامت رہے۔ اس کھیل میں انڈے ٹوٹتے بھی ہیں، کبھی دست میں، کبھی فرش پر ۔ رفتہ رفتہ کھلاڑیوں کے باہمی فاصلے بڑھائے جاتے ہیں اور وہ ٹیم فاتح قرار پاتی ہے جو طویل فاصلے سے انڈوں کو بسلامت دست برد کرتی ہے۔
ایک کھیل اور بھی دل چسپ ہے کہ اس میں انڈوں سے کسی ’بے گناہ‘ کو ’سنگ سار‘ کیا جاتا ہے۔ تاک تاک کر اسے انڈے مارے جاتے ہیں، کوئی انڈا سر سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے، کوئی کج جبیں پر زرد لکیر چھوڑ جاتا ہے اور کوئی تن کو داغ داغ کر دیتا ہے۔ کچھ نشانے خطا بھی جاتے ہیں۔ ہدف کو نشانہ بنانے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ انجان بھی، احباب بھی۔ ہم نے ایک شعر میں اس خیال کو بہت دل کش انداز میں بیان کیا ہے :
ایک انڈا جو دستِ یار میں ہے
پھول بننے کے انتظار میں ہے
واللہ، کیا نازک خیالی ہے۔ ہم نے قلم کے ساتھ ساتھ انڈا بھی توڑ دیا ہے۔ آج کل کے شاعروں میں ایسی نازک خیالی اور مضمون آفرینی مفقود ہے۔ اگر مشاعروں میں داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے کے بجائے شاعروں پر انڈے برسائے جائیں تو اردو شاعری کا معیار بہتر ہو سکتا ہے۔

