چیمپئنز ٹرافی کا سیاسی معرکہ
پاکستان تقریباً 30 سال بعد آئی سی سی ٹورنامنٹ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ پاکستان نے اس سے قبل 1996 میں مشترکہ طور پر بھارت اور سری لنکا کے ساتھ مل کر عالمی کپ کی میزبانی کی تھی۔ چیمپینز ٹرافی 2025 کا انعقاد فروری/مارچ میں پاکستان میں ہونے جا رہا ہے۔
کیا بھارت چیمپینز ٹرافی میں شرکت کرنے پاکستان آئے گا؟ یہ سوال سب سے اہم ہے۔
اگر پاکستان بھارت کے مابین کرکٹ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان اور بھارت کے مابین آخری دو طرفہ سیریز 2012 / 13 کے اختتام پر کھیلی گئی۔ اس سیریز میں پاکستان نے ون ڈے میں بھارت کو 2۔ 1 سے شکست دی تھی۔ اور ٹی ٹونٹی سیریز 1۔ 1 سے برابر رہی تھی۔ اس کے بعد سے دونوں ٹیموں کے درمیان دو طرفہ سیریز تعطل کا شکار ہیں۔
بھارت نے پاکستان کا آخری دورہ 2008 میں ایشاء کپ کے موقع پر کیا تھا۔
گزشتہ برس پاکستان کو ایشاء کپ کی میزبانی ملی۔ لیکن بھارت کے شرکت نہ کرنے کی وجہ سے وہ بھی ہائبرڈ ماڈل کے تحت سری لنکا اور پاکستان دو ممالک میں منعقد ہوا۔
گزشتہ برس ہونے والے عالمی کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے چھ سال بعد بھارت کا دورہ کیا۔ یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا 2016 کے بعد پہلا دورہ تھا۔
اگر پاکستان میں کرکٹ کی بات کی جائے تو اس وقت بھارت کے علاوہ تمام ٹیمیں پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ جن میں سر فہرست آسٹریلیا، ساؤتھ افریقہ، انگلینڈ، اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں شامل ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے حالیہ پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چیمپینز ٹرافی کے انعقاد کے لیے گراؤنڈز کی تزئین و آرائش کا کام جلد مکمل کر لے گا۔
دوسری طرف بھارتی وزیر کھیل اور اطلاعات انورنگ ٹھاکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ” بھارتی ٹیم چیمپینز ٹرافی میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کرے گی“ ۔ لیکن حالیہ سال بھارت میں الیکشن کا سال ہے۔ تو اس طرح ہے بیانات کا ایک مقصد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بھی ہو سکتا ہے۔ حال ہی میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما نے بھی پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے کی خواہش اظہار کیا۔ 2005 / 6 کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے مابین ٹیسٹ کرکٹ کا انعقاد نہیں ہو رہا ہے۔
گزشتہ ماہ آئی سی سی وفد نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔ اور مختلف اسٹیڈیم کا دورہ بھی کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان چیمپینز ٹرافی سے قبل سٹیڈیم کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کر لے گا۔
اگر دیکھا جائے تو اس صورتحال میں صرف دو چیزیں ممکن ہیں۔ ایک تو یہ کہ مکمل طور پر چیمپینز ٹرافی کا انعقاد پاکستان میں کیا جائے یا دوسری صورت یہ ہے کہ پاکستان میزبان کے طور پر اس کا انعقاد متحدہ عرب امارات میں کرے۔ اس صورت میں پاکستان کو مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ ہائبرڈ ماڈل کی صورت میں بھی چیمپینز ٹرافی کا انعقاد ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ کیونکہ 8 ٹیمیں شرکت کریں گی۔ دو گروپس کی صورت میں۔ آدھے میچز کا انعقاد انعقاد پاکستان میں اور آدھے کسی دوسرے ملک میں کھیلنا نہایت مشکل ہو گا۔ اور اس کے اخراجات بھی بے انتہا ہوں گے۔
اس کے بعد 2031 تک پاکستان کو کسی دوسرے ایونٹ کی میزبانی ملنا ممکن نہیں۔ کیونکہ آئی سی سی 2031 تک کے تمام آئی سی سی ایونٹس کے میزبانوں کا اعلان کر چکا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کو بھی علم ہے۔ یہ آئی سی سی ایونٹ ہے اس میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں آئی سی سی کو بھی اسپانسر شپ کی صورت میں نا قابل تلافی نقصان ہو گا۔ آئی سی سی کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ بھارت آئی سی سی چمپینز ٹرافی میں شرکت کرے۔ یہ پاکستان کے تماشائیوں کی بھی خواہش ہے کہ وہ روہت شرما، ویرات کوہلی اور ہاردک پانڈیا جیسے کھلاڑیوں کو پاکستان کی سر زمین پر کھیلتے ہوئے دیکھیں، جیسے گزشتہ برس بھارتی شائقین نے بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، اور محمد رضوان کو بھارتی میدانوں میں کھیلتے ہوئے دیکھا۔ یہی کرکٹ کی انفرادیت ہے کرکٹ سے ملکوں کے مابین خوش گوار تعلقات کی فضاء قائم ہوتی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ پاکستان شائقینِ کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے میزبان کے طور پر چیمپینز ٹرافی کی میزبانی پاکستان میں ہی کرے۔ کیونکہ یہ پاکستان کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ دنیا کے سامنے یہ موقف پیش کر سکے پاکستان ایک پر امن ملک ہے۔ اور اس لوگ کرکٹ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔

