کم عمری کی شادی اور تبدیلی مذہب
سال جنوری 2023 سے دسمبر 2023 کے دوران پنجاب بھر میں پنجاب پولیس نے چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ کے تحت ٹوٹل 5 مقدمے درج کیے ہیں۔ جس کا مطلب ایک تو یہ ہے کہ پولیس مذکورہ قانون سے نا بلد ہے یا دوسرا پولیس کے مطابق چائلڈ میرج کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔
ادارہ برائے سماجی انصاف کا سالانہ شمارہ انسانی حقوق کا جائزہ بیان کرتا ہے کہ صرف اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی 25 لڑکیاں 14 سال سے کم اور 78 لڑکیاں 14۔ 18 سال کے درمیان ایسی تھیں جن کے اغوا کے کیسز کم عمر ہونے کے باوجود شادی کے سرٹیفکیٹ کی بنا پر خارج ہو گئے۔ اس کے علاوہ اکثریتی بچیوں کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی اس سے الگ ہیں۔
جس کے پیش نظر لاہور ہائیکورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے 95 برس پرانے قانون میں ترمیم کا حکم دے دیا۔ اور چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے تحت لڑکے کی شادی کی عمر 18 اور لڑکی کی 16 سال ہے جس میں عدالت نے لڑکی اور لڑکے کی عمر میں فرق کی شق کو کالعدم قرار دے دیا۔
کے تحت یو این جنیوا آفس سے گورنمنٹ کو AL PAK 06 / 2022 اس سے پیشتر 26 اکتوبر 2022 دستاویز نمبری ایک ڈاک آئی جس سپیشل رپورٹر نے لکھا کہ ”ہمیں یہ سن کر سخت پریشانی ہوئی ہے کہ 13 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کو ان کے خاندانوں سے اغوا کیا جا رہا ہے، ان کے گھروں سے دور جگہوں پر سمگل کیا جا رہا ہے، بعض اوقات ان کی عمر سے دوگنا مردوں سے شادی کی جاتی ہے، اور اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، یہ سب بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہمیں بہت تشویش ہے کہ ایسی شادیاں اور تبدیلی مذہب ان لڑکیوں اور خواتین یا ان کے خاندانوں پر تشدد کے خطرے کے تحت ہوتی ہے۔ ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان کارروائیوں کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرے اور ان کی معقول اور ملکی قانون سازی اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی وعدوں کے مطابق تحقیقات کرے۔ ماہرین نے کہا کہ مجرموں کو مکمل طور پر جوابدہ ہونا چاہیے۔“
2 اپریل 2024 کو سنی اتحاد کونسل کے ایم پی اے شیخ شاہد جاوید نے پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کروائی کہ ”چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ میں ترمیم کر کے بچیوں کی نکاح کی عمر کم از کم 18 سال کی جائے اور نکاح کے لیے شناختی کارڈ لازمی قرار دیا جائے، مزید جرم کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف جرم ناقابل ضمانت تسلیم کیا جائے، تاکہ کم عمر بچیوں پر ہونے والے ظلم کو روکا جائے۔“
آئی پی پی کی نمائندہ رکن پارلیمنٹ سارہ احمد نے 3 اپریل 2024 کو پنجاب اسمبلی میں کم عمری کی شادی کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کی قرارداد جمع کروائی۔ ”قرار داد میں رکن پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ عوام کو کم عمری کی شادیوں کے سنگین خطرات اور نتائج سے آگاہ کیا جائے اور جب تک کسی بھی لڑکی کی عمر اٹھارہ سال اور اس کا شناختی کارڈ نہ بن جائے تب تک اس کی شادی نہ ہو۔“
مذکورہ بالا حالات میں اپریل 2024 میں چار بچیوں کے شادیاں میڈیا کی زینت بن چکی ہیں جن کی عمریں 10 سال سے 13 سال کے درمیان ہے۔ مگر تا حال کوئی بھی بچی بازیاب ہو کر واپس اپنے والدین تک نہیں پہنچ سکی، ۔ ممکنہ اندازہ یہی ہے کہ گزشتہ وارداتوں کی طرز پر لڑکیوں سے شادیوں کے بعد ان کا مذہب تبدیل کروا دیا گیا ہو گا۔ اور انہیں اپنی عمر سے دوگنا بڑے مرد کی جنسی حواس کا نشانہ بننے کے لئے غیر قانونی شوہر کے سپرد کر دیا گیا ہو گا۔
موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی پہلی تقریر میں خواتین کی حفاظت اور ان کے حقوق کی جنگ لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا اور منصب سنبھالنے کے بعد سے کافی متحرک دکھائی دے رہی ہیں۔ مگر شاید محترمہ اپنی جماعت کے منشور میں کیے گئے وعدے سے نظر چراتے ہوئے، اقلیتوں کی بچیوں کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں۔
ہائی کورٹ کے حکم اور ممبران اسمبلی کی قراردادوں کی روشنی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو نا صرف کم عمری کی شادی بلکہ جبری تبدیلی مذہب کے مسئلے کو زیر غور لاکر، قانون سازی کے ذریعے اکثریتی اقلیتی بچیوں کے تحفظ کی یقینی بنا کر ، خواتین کی نمائندہ ہونے کے وعدے کو وفا کرنا چاہیے۔


