اس ملک پر رحم کیا جائے!
وزیر اعظم شہباز شریف نے اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم نامزد کیا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی وزیر خارجہ ہیں۔ گو کہ آئین میں ایسے کسی عہدے کی ممانعت نہیں ہے لیکن پاکستانی آئین میں نہ تو اس عہدہ کا ذکر ہے اور نہ ہی اس کے کردار کے حوالے سے کوئی وضاحت موجود ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے سابقہ دور حکومت میں سیاسی رشوت کے طور پر پرویز الہیٰ کو یہ عہدہ دیا تھا۔ اس لیے یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کرنے کا مقصد بھی سیاسی ہے۔
اسحاق ڈار کو نواز شریف کے قریب سمجھا جاتا ہے، کابینہ میں ان کی شمولیت درحقیقت نواز شریف کی ’اشک شوئی‘ کے لیے ہی تھی۔ انہیں ان کی پسندیدہ وزارت خزانہ دینے کی بجائے وزیر خارجہ بنایا گیا حالانکہ وہ اس عہدے کے کسی بھی طرح اہل نہیں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے جن زعما کو پارٹی میں نواز شریف کے قریب سمجھا جاتا ہے، اتفاق کی بات ہے کہ ان میں سے کوئی بھی عام انتخابات میں قومی اسمبلی کا رکن منتخب نہیں ہوسکا۔ یہ بھی حیران کن ہے کہ حال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ایسے کسی لیڈر کو قومی اسمبلی کے کسی حلقے سے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ اس کی حکمت شہباز شریف بطور پارٹی صدر زیادہ بہتر طور سے جانتے ہوں گے لیکن عام طور سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ایک طرف حکومت کا حصہ ہے تو دوسری طرف اس کی صفوں میں انتشار دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم بنانے کا نوٹیفکیشن ایک ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ورلڈ اکنامک فورم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب میں موجود تھے۔ اس لیے سوال تو پیدا ہو گا کہ دارالحکومت سے غیر حاضری کے باوجود یہ اعلان کرنے کی کون سی اشد ضرورت تھی۔ کیا یہ اعلان چند روز بعد نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ یہ جاننا بھی اہم ہے کہ اسحاق ڈار کو یہ عہدہ دینے کا فیصلہ پارٹی کے کون سے فورم یا کابینہ کے کس اجلاس میں کیا گیا۔ اور اسی وقت اس کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی۔ یوں تو شہباز شریف بھی وزارت عظمی کے عہدے کے اہل نہیں ہیں۔ ان کی تقریریں اور سربراہ حکومت کے طور پر ان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ اس سے پہلے اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد شہباز شریف وزیر اعظم بنے تھے اور 16 ماہ تک حکومت کے سربراہ رہے۔ اس دور میں ملکی معیشت کو جن دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا اور مسلم لیگ (ن) نے اس کی جو سیاسی قیمت ادا کی ہے، اس کا ذکر شہباز شریف بار بار اپنی تقریروں میں کرتے رہے ہیں۔
البتہ 8 فروری کو ہونے والے متنازعہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اتنی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی کہ اس نے پیپلز پارٹی کے تعاون سے حکومت قائم کرلی۔ شہباز شریف خود مانتے ہیں کہ وہ ایک ناکام وزیر اعظم تھے۔ ان کی 16 ماہ کی کارکردگی ان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے البتہ اس مدت میں بھی انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات مستحکم کرنے اور خود کو ’تابعدار ونڈر بوائے‘ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ وزیر اعظم کے طور پر وہ آرمی چیف کی توصیف میں جیسے زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں، اسے خوشامد کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ شہباز شریف نے اس خوشامد کا عملی نمونہ اپنے سابقہ دور میں ’سرمایہ کاری میں سہولت کاری کی خصوصی کونسل‘ قائم کر کے دیا۔ یہ کونسل قائم کرنے کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں تھا کہ آرمی چیف کو ملکی معیشت کا اہم ترین اسٹیک ہولڈر اور سرپرست بنا دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کونسل نگران حکومت کے دور میں بھی قائم رہی اور اب بھی اسے ملکی معاشی بحالی کے نام نہاد منصوبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔
تمام تر کوششوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں اتنی نشستیں حاصل نہیں ہو سکی تھیں کہ وہ حکومت بنانے کے قابل ہوتی۔ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے آزاد ارکان نے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی تھی حالانکہ سپریم کورٹ کے ایک افسوسناک اور متنازعہ فیصلہ کے نتیجہ میں تحریک انصاف کو انتخابی نشان سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔ اس کامیابی نے سیاسی تبصرہ نگاروں پر یہ واضح کر دیا تھا کہ عمران خان کو پاکستانی عوام میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہے اور انہیں قید کرنے یا تحریک انصاف کو نشانہ بنانے کے باوجود عمران خان کی سیاسی مقبولیت میں کمی واقعہ نہیں ہوئی۔ ایک رائے کے مطابق عمران خان کی مقبولیت میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے لیکن اگر اس اندازے کو عام انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں تک ہی محدود رکھا جائے تو بھی کسی شک و شبہ کے بغیر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اب بھی پاکستانی ووٹروں کی اتنی بڑی تعداد ہی تحریک انصاف کی حامی ہے جو 2018 کے انتخابات میں ان کے ساتھ تھی۔
تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان کی اس بے نظیر کامیابی کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے اس پارٹی کو حکومت سازی کا نہ موقع دیا اور نہ ہی یہ اعلان کیا کہ کہ اسے چونکہ اکثریت حاصل نہیں ہو سکی، اس لیے وہ حکومت بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ سیاسی لحاظ سے یہ حکمت عملی مسلم لیگ (ن) کے لئے سود مند ہوتی اور وہ اپوزیشن پارٹی کے طور پر بھرپور پارلیمانی کردار ادا کر سکتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی قسم کے مشترکہ پلیٹ فارم پر شریک نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ سابقہ حکومت میں حلیف ہونے کی بنا پر اگر دونوں پارٹیوں کو ملک کے سنگین مسائل کا ادراک تھا تو ایسا انتخابی تعاون لازمی تھا۔ اس کے برعکس بلاول بھٹو زرداری نے اپنی انتخابی مہم مسلم لیگ (ن) پر شدید نکتہ چینی کی بنیاد پر چلائی۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد بھی بلاول بھٹو زرداری تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔
دوسری طرف نواز شریف طویل جلاوطنی ترک کر کے انتخابات سے تھوڑی دیر پہلے وطن واپس آئے تھے اور مسلم لیگ (ن) بجا طور سے یہی تاثر دے رہی تھی کہ مستقبل کی کسی بھی حکومت کے سربراہ نواز شریف ہی ہوں گے۔ پارٹی کے ترجمان واشگاف الفاظ میں نواز شریف کو ملکی معیشت کی ’واحد امید‘ قرار دیتے رہے تھے۔ البتہ انتخابات کے بعد اگر اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی تحریک انصاف کا سیاسی خواب پورا نہیں ہوا تو دوسرے نمبر پر آنے والی مسلم لیگ (ن) بھی نواز شریف کو وزیر اعظم بنوانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی بجائے شہباز شریف کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔
ان تینوں مجبور پارٹیوں کو ملانے میں اسٹیبلشمنٹ کے اس سیاسی ایجنڈے نے بنیادی کردار ادا کیا تھا کہ ملک میں ایک ’قابل اعتبار‘ حکومت قائم ہونی چاہیے جو ملکی معیشت کی بحالی کے لیے یکسو ہو کر کام کرسکے۔ یوں تو سارے سیاست دان کسی حد تک اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری قبول کرنے پر آمادہ رہتے ہیں لیکن حکومت سازی کے عمل سے واضح ہو گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو شہباز شریف جیسے ’ہیرے‘ ہی کی تلاش تھی۔ نواز شریف کے ساتھ عسکری قیادت کی چپقلش بہت پرانی ہے اور عمران خان کے ساتھ طویل ’رفاقت و شراکت‘ کے بعد ’دشمنی‘ کا نیا نیا رشتہ استوار ہوا تھا۔ خاص طور سے 9 مئی کے واقعات نے فوج کے ساتھ تحریک انصاف کے تعلقات میں ایسی دوری پیدا کردی کہ اب وہ پی ٹی آئی سے کسی قسم کا تعلق و رابطہ رکھنے پر آمادہ نہیں ہے۔
شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے کے طور پر ایک ایسی حکومت کے وزیر اعظم بنے ہیں جسے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں ہے اور اسے اعتماد کا ووٹ دے کر اقتدار میں لانے والی پیپلز پارٹی بھی صرف اس موقع کی تلاش میں ہے جب وہ آصف زرداری کے خواب کی تکمیل کے لیے بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنانے کی کوشش کرے۔ تاہم طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات نے ایک طرف نواز شریف کی امیدوں پر اوس ڈالی ہے تو دوسری طرف آصف زرداری کا خواب بھی پوری طرح شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ البتہ شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ دے کر انہوں نے ایک طرف ملک کی صدارت حاصل کرلی تو دوسری طرف ’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ‘ کے مصداق اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف سے مایوس ہو کر حکمرانی کا متبادل تلاش کرے گی۔
انتخابات کے بعد ملک میں مستحکم و فعال حکومت قائم کرنے کا خواب پورا نہیں ہوسکا۔ اگرچہ فوج کا اب بھی یہی خیال ہے کہ وہ ایک ’کٹھ پتلی‘ وزیر اعظم کے ذریعے ملک کو درپیش تمام مسائل حل کر لے گی۔ البتہ اس حقیقت کو فراموش کیا جا رہا ہے کہ پاک فوج ماضی میں متعدد بار براہ راست اقتدار پر قابض رہ کر بھی یہ مقصد حاصل نہیں کر سکی۔ اسی طرح عمران خان کی نگرانی میں ہائبرڈ حکومت کے ذریعے بھی ملک کو مزید تباہی کی طرف بڑھنے سے نہیں روکا جا سکا تو نام نہاد ہائبرڈ۔ 2 کے ذریعے کیسے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔
البتہ یہ سچ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ فروری کے انتخابات کے بعد اسٹیبلشمنٹ حکومت سازی کے معاملہ میں صرف اس لیے اپنی خواہش پوری کرنے میں کامیاب ہوئی ہے کیوں کہ تمام بڑی سیاسی پارٹیوں نے عوام سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنے سے گریز کیا۔ تحریک انصاف نے سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود حکومت سازی کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی سیاسی لچک دکھاتے ہوئے معاملات سنبھالنے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) بہر صورت اقتدار حاصل کرنا چاہتی تھی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے پر تیار نہیں تھی، خواہ اس کے لیے اسے اپنے رہبر اعلیٰ کی خواہشوں کا خون ہی کرنا پڑا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی درست سیاسی فیصلہ کرنے کی بجائے مستقبل میں موقع ملنے کی امید پر شہباز شریف کو وزیر اعظم مان لیا۔
اب مسلم لیگ (ن) داخلی کشمکش کا شکار ہے۔ اسی کے نتیجہ میں اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم بنوایا گیا ہے۔ نواز شریف گروپ شاید امید کر رہا ہے کہ اس طرح اسے حکومتی فیصلوں میں زیادہ دسترس حاصل ہو جائے گی۔ البتہ نواز شریف جب تک اپنی ہی پارٹی میں کارکنوں کے حقوق کو تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں کریں گے اور مسلم لیگ (ن) کو فیملی انٹر پرائز کی بجائے حقیقی سیاسی تحریک نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک جوڑ توڑ کی سیاست بیک فائر کرتی رہے گی اور اس کا نقصان ملک کو ہو گا۔ نواز شریف اگر اقتدار کی جوڑ توڑ میں حصہ دار بننے کی بجائے پارٹی کو جمہوری بنیاد پر استوار کرنے کے لیے کام کرسکیں تو ملک میں ایک نیا سیاسی کلچر متعارف ہو سکتا ہے۔ مؤرخ ملکی تاریخ لکھتے ہوئے نواز شریف کے ایسے کردار کو نظر انداز نہیں کرسکے گا۔ تاہم یہ فیصلہ تو ہر فرد کو خود ہی کرنا پڑتا ہے کہ کیا وہ اپنے عہد کے بعد بھی زندہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ البتہ نواز شریف کی طرح اس کا موقع ہر کسی کو نہیں ملتا۔
ملک کو درپیش حالات میں البتہ سب عناصر سے یہی درخواست کی جا سکتی ہے کہ اس قوم پر رحم کیا جائے۔ اب یہ قوم مزید تجربوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اپنا وقت گزار دینے والے اسحاق ڈار جیسے لوگوں سے امیدیں وابستہ کرنے کی بجائے پارٹیاں تازہ دم نوجوان کارکنوں کو موقع دیں اور مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس سیاسی ایجنڈا عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ لوگوں میں نئی امید پیدا ہو۔


