مولانا مودودی مرحوم کی عصر کی محفل: چند یادیں
سنہ 1967 ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا اور اقبال ہوسٹل میں دو سال قیام کیا۔ میرا ایک روم میٹ تنویر احمد تھا جو بعد ازاں بہت گہرا دوست بن گیا۔ تنویر کا سارا خاندان جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد جماعت کے رکن تھے۔ ایک خالو چودھری رحمت الہٰی جماعت اسلامی کے جنرل سکریٹری تھے۔ ایک اور خالو سید مراد علی شاہ رکن جماعت ہی نہیں مولانا مودودی کے بہت بے تکلف دوست بھی تھے۔ ان کا بیٹا زاہد بخاری کالج میں مجھ سے تین سال سینئر تھا اور اسلامی جمعیت طلبہ کا کالج میں ناظم تھا۔
تنویر نے مجھے بتایا کہ مولانا مودودی صاحب عصر سے مغرب کے درمیان اپنے گھر کے لان میں ایک محفل کرتے ہیں جس میں شرکت کی عام اجازت ہوتی ہے۔ ایک روز میں بھی تنویر کے ساتھ اس مجلس میں گیا۔ لان میں انگریزی حرف یو کی شکل میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ سامنے کی طرف مولانا کی کرسی تھی جس کے سامنے ایک چھوٹی سی میز رکھی ہوتی تھی۔ مولانا عصر کی نماز ادا کر کے تھوڑی دیر کے لیے اندر جاتے اور پھر باہر آتے۔ ان کے ایک ہاتھ میں پاندان اور دوسرے ہاتھ میں اگال دان ہوتا۔
مجھے زندگی میں پہلی مرتبہ مولانا کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ سرخ و سپید رنگت، سر اور داڑھی دودھیا سفید۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص طرح کا وقار اور تمکنت تھی جو دیکھنے والے کو متاثر کرتی تھی۔ اس کے بعد فرسٹ ایر کے زمانے میں دو تین بار اس محفل میں جانے کا اتفاق ہوا لیکن کبھی اس میں بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔ یہ ایک بے تکلف گپ شپ کی محفل ہوتی تھی، ہلکے پھلکے تبصرے، کچھ چٹکلہ بازی۔ کبھی کبھار کوئی شخص علمی سوال بھی پوچھ لیتا تھا۔ اس محفل کی کچھ روداد جماعت اسلامی کے ہفت روزہ رسالے ”آئین“ میں شائع ہوا کرتی تھی۔
ایک بار دیکھا کہ ایک ملازم لڑکا مولانا کے لیے پانی کا گلاس لے کر آیا۔ وہ گلاس اوپر سے قوس کی شکل میں ٹوٹا ہوا تھا۔ مولانا نے اس گلاس سے پانی پیا تو کسی شخص نے کہا، مولانا! ایک حدیث میں ٹوٹے ہوئے پیالے میں پانی پینے سے منع کیا گیا ہے۔ مولانا نے مسکرا کر جواب دیا، آپ دیکھ نہیں رہے کہ یہ گلاس ہے پیالہ نہیں۔ اور اقبال نے کہا ہے "جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں”۔ اس کے بعد کہا، مٹی کے پیالے میں تریڑ (اصل لفظ یاد نہیں آ رہا۔ مولانا نے یقیناً تریڑ نہیں کہا ہو گا) آ جاتی ہے جس میں گندگی جمع ہو جاتی ہے۔ اس لیے منع کیا گیا تھا۔ گلاس میں یہ ٹکڑا ٹوٹ کے الگ ہو گیا ہے۔ اس میں گندگی جمع ہونے کا کوئی خدشہ نہیں۔ مزید فرمایا کہ یہ گلاس بہت پرانا ہے اور مجھے بہت عزیز ہے۔ ہمارا ملازم بہت گھامڑ ہے۔ اس سے ایک روز یہ ٹوٹ گیا ہے۔
ایک روز تنویر نے مجھے یہ بتایا کہ کوئی گورا صحافی مولانا کا انٹرویو کرنے آ رہا ہے۔ ہم دونوں بھی اچھرہ پہنچ گئے۔ صحافی تو کوئی نہ آیا لیکن ایک گورا فوٹوگرافر آیا اور اس نے مولانا کی مختلف زاویوں سے کتنی ہی تصویریں کھینچیں۔ جب وہ چلا گیا تو مولانا نے پوچھا یہ کون تھا؟ کسی نے کہا، ٹائمز کا فوٹوگرافر تھا۔ مولانا نے استفسار کیا، کس ٹائمز کا؟ اس کے بعد مولانا نے ٹائمز نام کے تین چار اخبارات و جرائد کے نام لیے، لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ جب وہ تصویریں کھینچ رہا تھا تو کسی نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کون ہے؟ دوسری طرف مولانا کا رویہ بھی عجیب لگا۔ مولانا تصویر کو ناجائز کہتے تھے اور ان کا کہنا ہوتا تھا کہ وہ خود سے تصویر نہیں کھنچواتے تھے لیکن تصویر بنانے والے کو کبھی منع بھی نہیں کرتے تھے۔
اگلے برس جب میں سال دوم میں تھا تو اس زمانے میں ہمارے اخباروں میں اس قسم کی خبریں چھپنا شروع ہو گئی تھیں کہ فلاں شخص کو پکڑ کر اس کی جبری نس بندی کر دی گئی۔ ایوب خان کے زمانے میں فیملی پلاننگ کے پروگرام پر بہت زور دیا جا رہا تھا اور جماعت اسلامی اسی شد و مد کے ساتھ اس کی مخالفت کرتی اور خاندانی منصوبہ بندی کو خلاف اسلام قرار دیتی تھی۔ ایک دن جب تنویر اور میں مولانا کی محفل میں گئے تو مولانا کے دائیں ہاتھ لگی کرسیوں کی قطار میں مولانا کے کافی قریب بیٹھ گئے۔ اس وقت میں نے ہمت کر کے پہلی اور شاید آخری بار مولانا سے سوال پوچھا کہ اگر کوئی بندہ رضاکارانہ طور پر اپنی نس بندی کرا لے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔ مولانا نے جواب دیا، اگر آپ رضاکارانہ طور پر اپنی ناک کٹوا لیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ اس جواب پر لوگ ہنس پڑے اور میں شرمندہ سا ہو گیا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ مجھے مولانا کا یہ جواب پسند نہیں آیا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مولانا نے سوال کو ٹال دیا ہے۔
مولانا کی ایک اور محفل میں حاضری جنوری سنہ 1970 میں ہوئی۔ اس حاضری کا ایک خاص پس منظر تھا۔ اسی مہینے کئی سال کے تعطل کے بعد پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے الیکشن ہوئے تھے۔ اس الیکشن میں جمعیت کی طرف سے حافظ محمد ادریس صدر، تنویر عباس تابش نائب صدر اور حفیظ خان سکریٹری کے امیدوار تھے۔ بائیں بازو کی تنظیموں کے صدارتی امیدوار جہانگیر بدر تھے۔ اس الیکشن میں جمعیت کا پینل ایک دو کے علاوہ سبھی سیٹیں جیت گیا لیکن نتیجہ متنازعہ ہو گیا۔ جہانگیر بدر کے حامیوں کا کہنا تھا کہ اسے دھاندلی کر کے ہرایا گیا تھا۔ اس کے ووٹ بڑی تعداد میں رد کر کے حافظ ادریس کو جتوایا گیا ہے۔ جب ہنگامہ بڑھ گیا تو یونیورسٹی نے ہائیکورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمشن بنانے کا اعلان کیا۔ جمعیت والوں کو کسی نے کہہ دیا کہ وہ جج صاحب اس ٹریبونل کے سربراہ تھے جس نے مولانا مودودی کو سزائے موت سنائی تھی۔ جمعیت کا ایک وفد حافظ ادریس کی سربراہی میں اس مسئلے پر گفتگو کرنے رات کے وقت وائس چانسلر علامہ علاؤ الدین صدیقی کی رہائش گاہ پر گیا۔ وہاں بات تلخی تک پہنچ گئی، علامہ صاحب کے گھر میں کچھ توڑ پھوڑ ہوئی اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاعات بھی تھیں۔ اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں حافظ ادریس، تنویر عباس تابش کے ساتھ جمعیت کے بیس پچیس اور کارکنان گرفتار کر لیے گئے۔ گرفتار ہونے والوں میں تنویر کا کزن زاہد بخاری بھی تھا۔
ہم اس واقعہ کی معلومات حاصل کرنے کی غرض سے مولانا کے ہاں پہنچے۔ اس روز موسم بہت سرد تھا۔ مطلع ابر آلود تھا۔ سردی کی شدت کی وجہ سے محفل لان میں نہیں ہو رہی تھی بلکہ مولانا اپنے دفتر کے سامنے برآمدے میں کرسی پر تشریف فرما تھا اور سامنے دو تین قطاروں میں لوگ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں وہاں جمعیت کا بہت نامور لیڈر بارک اللہ خان بھی آ گیا۔ میں نے اسے پہلی مرتبہ اسی وقت دیکھا تھا۔ اس نے مولانا سے سوال کیا کہ ان کو سزائے موت سنانے والے جج کا کیا نام تھا۔ مولانا نے جواب دیا کہ وہ کوئی فوجی ٹریبونل تھا جس کے سربراہ کا نام انھیں یاد نہیں۔
سنہ 1970 میں چونکہ ملک میں عام انتخابات کی مہم شروع ہو چکی تھی اس لیے اس برس کئی بار مولانا کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ 31 مئی کو جماعت اسلامی نے شوکت اسلام کا دن منایا تھا اور لاہور میں بہت بڑا جلوس نکالا گیا تھا۔ اس جلوس کی کامیابی سے جماعت اسلامی والے بہت اونچی ہواؤں میں تھے۔ ایک محفل میں مجھے یاد پڑتا ہے مولانا نے کہا، شوکت اسلام کے جلوس نے سب کی ہوا نکال دی ہے۔
ایک اور محفل کی یاد آ رہی ہے جو شاید میری آخری حاضری تھی۔ یہ 9 اپریل 1977 کا دن تھا۔ اس روز لاہور میں نو منتخب پنجاب اسمبلی کا افتتاحی اجلاس طلب کیا تھا۔ اس موقع پر اپوزیشن انتخابی اتحاد نے شدید احتجاج کیا تھا جس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں پولیس کا ایک ڈی ایس پی بھی شامل تھا۔ میں اس وقت عزیز دوست جاوید احمد (غامدی) صاحب کے ہمراہ مرید کے میں ہوتا تھا۔ وہاں لاہور کی کوئی خبر نہیں مل رہی تھی۔ سوچا مولانا مودودی کے ہاں چلتے ہیں، وہاں سب صورت حال معلوم ہو جائے گی۔ ہم عصر کے وقت وہاں پہنچے تو اس روز معمول سے کافی زیادہ رش تھا۔ کئی نوجوان بڑے جوش و خروش کے ساتھ مال روڈ پر ہونے والے ہنگامے کی روداد بیان کر رہے تھے۔ ہم لوگ خاموشی سے یہ سب سنتے اور دیکھتے رہے۔ جب مرید کے واپس جا رہے تھے تو مجھے الیاس نے کہا، تم بہت اداس دکھائی دیتے ہو، کیا بات ہے۔ میں نے جواب دیا، تم نے دیکھا کہ یہ ورکر کس جذبے کے ساتھ لوگوں کے جان دینے کے واقعات بیان کر رہے تھے لیکن ان بے چاروں کو یہ معلوم نہیں کہ اس خون کا سودا ہو جانا ہے۔ الیاس نے مجھے کہا، تمھیں ہر وقت کوئی الٹی بات کیوں سوجھتی ہے۔ میں نے جواب دیا، بس دیکھتے جانا کہ ہوتا کیا ہے۔ میں نے آغا شورش کے یہ دو شعر اسے سنائے :
آستیں کے خنجروں کی تیز دھاروں سے کہو
ماؤں کے بیٹوں کا خون ناروا واپس کریں
مسندوں پر جادۂ شب کے مسافر خوش رہیں
سرفروشوں کی مگر خونیں قبا واپس کریں
ان باتوں کے یاد آنے کا سبب یہ بنا ہے کہ گزشتہ دنوں فیس بک پر اس نشست کا تذکرہ ہوا ہے۔ کہا گیا ہے کہ مولانا ایک کرسی پر بیٹھ جاتے تھے اور سامنے لوگ زمین پر بیٹھ جاتے تھے۔ میری یادداشت میں ایک بھی واقعہ ایسا نہیں جس میں لوگ زمین پر بیٹھے ہوں۔ حافظے میں جو بھی تصویر بنتی ہے وہ کرسیوں پر نشستہ افراد کی ہی بنتی ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی خاص دن رش کی وجہ سے کچھ لوگوں کو زمین پر بیٹھنا پڑا ہو لیکن یہ معمول نہیں تھا۔ ویسے بھی جماعت اسلامی میں فرشی نشست کا کوئی رواج نہ تھا، نہ ہے۔
جیسا کہ بیان ہوا میں اس محفل میں کوئی دس برس تک وقتاً فوقتاً جاتا رہا ہوں۔ اگر مجھے ایک بار بھی کرسی پر بیٹھے ہوئے مولانا صاحب کے سامنے زمین پر بیٹھنا پڑتا تو مجھے یقین ہے کہ میں دوبارہ کبھی وہاں نہ گیا ہوتا۔





Comments are closed.