اقربا پروری: ثنا خوان تقدیس آئین کہاں ہیں
بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ ہونے کو اس دنیا میں کیا نہیں ہو سکتا؟ باقی دنیا کے متعلق تو ہم کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہاں کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان سے باہر کی دنیا ہم نے دیکھی نہیں ہے۔ اس پر حکیم مومن کا ایک شعر یاد آیا کہ
تم ہمارے کسی طرح نا ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
خیر یہ شعر تو آپ کے ذوق کی نذر ہے اصل بات یہ ہے کہ پاکستان میں وہ کچھ ہو سکتا ہے جو دنیا میں کہیں نہیں ہو سکتا۔ اب یہی دیکھ لیجے کہ ہمارے وزیر خارجہ اسحاق ڈار بہ یک جنبش قلم ملک کے نائب وزیر اعظم مقرر کر دیے گئے ہیں۔ وہ عہدہ جس کا ذکر پورے دستور میں کہیں نہیں ہے بلاوجہ اور بلا ضرورت بنا لیا گیا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ایک شادی شدہ مسلمان خاتون اپنے بوائے فرینڈ کا تعارف یہ کہہ کر کرائے کہ ”ان سے ملیے یہ میرے نائب شوہر ہیں۔“ یعنی جس عہدے کی آئینی اور قانونی گنجائش ہی موجود نہیں اس پر کیسے کسی شخص کا تقرر کیا جاسکتا ہے؟
نون لیگ کے سینٹر عرفان صدیقی نے کیا خوب جواز پیش کیا ہے کہ اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیر اعظم تقرری سے وزیر اعظم شہباز شریف پر کام کا بوجھ کم ہو سکے گا۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ جناب اس ملک کی ذمہ داریاں الٹی سیدھی جیسی تیسی ایک ہی وزیر اعظم اٹھاتا آیا ہے جس کی مدد کے لیے ہمیشہ وزرا کی فوج ظفر موج رہی ہے تو اب وزیر اعظم پر ایسا کون سا کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے جسے بانٹنے کے لیے نائب وزیر اعظم کی ضرورت پیش آ گئی ہے۔
یہاں بات ضرورت کی نہیں فرمائش اور خواہش کی ہے۔ ہم نے کچھ عرصے پہلے اپنے ایک اظہاریے میں ازراہ تفنن ایک تجویز پیش کی تھی کہ ملک میں جس طرح ہر سیاستداں وزیر اعظم بننے کا خواہش مند ہے تو زیادہ سے زیادہ افراد کی خواہش کی تکمیل کے لئے ملک میں ایک سے زائد وزیر اعظم ہونے چاہئیں۔ ایک آپشن یہ بھی تھا کہ دو وزیر اعظم ہونے چاہئیں ایک خارجی معاملات کے لیے دوسرا داخلی معاملات کے لئے تاکہ دونوں محاذوں پر بہترین کارکردگی دکھائی جا سکے۔ لگتا ہے ہماری یہ تجویز نون لیگ کی قیادت تک ناصرف پہنچ چکی ہے بلکہ وہ اس پر عمل پیرا بھی ہوچکے ہیں۔ اسی پر پروین شاکر کا ایک شعر یاد آ گیا کہ
ممکنہ فیصلوں میں سے ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو صرف بات کی اس نے کمال کر دیا
واقعی وزیر اعظم نے یہ تقرری کر کے کمال کر دیا ہے۔ یہ تقرری اتنی ہی ضروری تھی تو کم از کم طریقہ تو جمہوری اپنایا ہوتا۔ جس طرح وزیر اعظم کا انتخاب ارکان قومی اسمبلی رائے شماری کے ذریعے کرتے ہیں اسی طرح نائب وزیر اعظم کا انتخاب بھی ارکان قومی اسمبلی کی رائے شماری کے ذریعے کرایا جاتا اگرچہ کہ یہ اسمبلی بھی متنازع ہے مگر اس طرح انتخاب سے عہدے اور عہدے دار کا کچھ تو بھرم رہ جاتا۔ آئین جمہوریت اور عوام کے ساتھ اتنا بھیانک مذاق ہو گیا اور سب چپ ہیں۔
آئین کے ایک بہت بڑے عالم اور مفتی ہیں رضا ربانی صاحب جو ذرا ذرا سی باتوں پے آئین اٹھا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فتویٰ جاری کرنے لگتے ہیں انہیں آئین کے ساتھ یہ سنگین مذاق ابھی تک دکھائی نہیں دیا اور اگر دکھائی دے رہا ہے تو اس وجہ سے خاموش ہیں کہ اپنے دور حکومت میں یہی عہدہ پرویز الہٰی کو عنایت کر کے یہی مذاق ان کی اپنی پارٹی قیادت اس ملک کے عوام کے ساتھ کر چکی ہے۔ دوسری جانب شیری رحمن بھی چپ سادھے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بھی ہمیشہ آئین کی پامالی دیکھ کر دبلی ہوتی رہی ہیں اس لیے شاید اس بار آئین کی پامالی پر وہ یوں خاموش ہیں کہ کہیں زیادہ غم لے لیا تو ان کی جان پر نا بن آئے۔
آئین کے ساتھ تو اس ملک میں ہمیشہ سے ہی کھلواڑ ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا لیکن ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ نون لیگ کی قیادت نے ہماری تجویز کو عملی جامع پہنایا اس لئے اب ہم کچھ اور تجاویز پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں تاکہ دیگر عہدوں کے خواہش مند افراد کی خواہشات کو بھی پورا کیا جا سکے۔ جیسے کہ ہر فوجی افسر کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ آرمی چیف کے عہدے تک پہنچے مگر ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی اس عہدے تک پہنچ پاتا ہے۔ کچھ اپنی حرکتوں کے باعث کیپٹن ہی ریٹائر ہو جاتے ہیں تو اگر ان میں سے کوئی اعلیٰ عہدے کا خواہش مند ہو تو اس کے لئے بھی کوئی نیا عہدہ تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ جیسے بھارت نے اپنے ریٹائرڈ آرمی چیف بپن راوت کے لئے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا عہدہ تخلیق کیا تھا اس قسم کا عہدہ ہماری حکومت بھی تخلیق کر کے اپنے گھر کا آدمی لگا سکتی ہے۔
غیر مصدیقہ اطلاعات کے مطابق شریف خاندان کے ایک فرد نے لندن کی یونی ورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ان کی صلاحیتوں سے استفادے کے لئے امریکی جیوری سسٹم کی طرح یہاں بھی جیوری بنا کر انہیں اس کا چیف بنایا جا سکتا ہے اس طرح عدالتوں کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں اپنے خلاف ہونے والے مقدمات کو بھی روکا جا سکتا ہے
اس کے علاوہ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ اس پارلیمانی نظام کی بساط لپیٹیں اور ملک میں صدارتی طرز حکومت نافذ کریں۔ تاکہ اپنی باری آنے پر ہر سیاسی خاندان اپنے گھر کے افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کرے اور مزے سے حکومت کرتا رہے۔ امید ہے کہ نون لیگ کی قیادت ہماری ان تجاویز پر غور ضرور کرے گی اس میں اسی کا فائدہ ہے۔

