یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی
ہر سال یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سرکاری اور نجی سطح پر تقاریب اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جن میں
1886 کو امریکا کے شہر شکاگو میں قتل ہونے والے سینکڑوں مزدوروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے جو اپنے حقوق کی خاطر آواز بلند کرنے کی پاداش میں قتل کر دیے گئے تھے۔
منعقدہ تقریبات میں سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقہ سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات یا حکومتی عہدیداروں کو مہمانان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا جاتا ہے۔ جو محنت کشوں کی فلاح کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور پیش کی جانی والی اپنی خدمات گنواتے ہیں۔ ملک میں لیبر کے لیے موجود قوانین اور حقوق کے تذکرے کیے جاتے ہیں۔ دعوے، وعدے اور اعلانات کر کے تالیوں اور نعروں کی صورت میں داد وصول کی جاتی ہے۔
لیکن موجودہ حالات اور حقائق کا جائزہ لیا جائے تو مزدور طبقہ کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے محنت کش خراب حالات کے باعث خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مزدور کی یومیہ اجرت اوسطاً 1134 روپے بتائی گئی ہے۔ جبکہ مختلف شہروں میں مزدوروں کو ملنے والی اجرت بھی مختلف ہے۔ دستاویز کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں مزدوروں کو ملنے والی اجرت 1500 روپے ہے جو باقی شہروں کی نسبت سب سے زیادہ ہے اور صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ کے مزدوروں کو سب سے کم اجرت 800 روپے یومیہ دی جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بیشتر شعبوں میں کام کرنے والے محنت کش با الخصوص دیہاڑی دار مزدور 500 روپے یومیہ کے حساب سے کام کرنے پر بھی مجبور ہیں۔ جن میں اکثریت نو عمر بچوں کی ہے جو اپنے حقوق سے بھی آشنا نہیں یا مالی بدحالی کے باعث کم سے کم اجرت لے کر زائد گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ملکی معیشت کی تنزلی کے باعث بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ مختلف صنعتیں، کارخانے اور چھوٹے کاروبار بند ہونے کے باعث مزدور طبقہ بہت متاثر ہوا ہے۔
جاگیر داروں، ذخیرہ اندوزوں اور کمیشن مافیا کے لیے سازگار ماحول نے کسانوں کے مسائل و مشکلات میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ بوائی و کٹائی کے بھاری اخراجات سمیت مہنگی کھاد اور ادویات استعمال کرنے کے بعد تیار گندم کی خریداری کا سرکاری نرخ 3900 روپے فی من مقرر کیا گیا ہے۔ لیکن حکومت فوری طور پر گندم کی خریداری سے گریزاں ہے۔ کسان 3000 روپے فی من گندم بیچنے پر مجبور ہیں۔ جس سے ان کی لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی۔
ہمارے حکمرانوں نے ہر دور میں مزدوروں کو سرمایہ داروں اور کسانوں کو جاگیر داروں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا ہے۔ یہاں مزدور طبقہ کو درپیش مشکلات اور مسائل کے حل میں کبھی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔ صرف مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی پر سرمایہ داروں کو عیش کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
مزدور اور محنت کش طبقہ کی فلاح کے محض بلند و بانگ دعوے ہی کیے جاتے رہے ہیں۔ اس شعبہ میں بہتری لانے کے لیے اصلاحات یا موجود قوانین پر عملدرآمد کا فقدان ہی رہا جس کے باعث مزدور و محنت کش طبقہ کبھی خوشحال نہی ہو سکا۔
یہاں ہر سال یکم مئی منانے کو ہی شاید محنت کشوں کے حقوق کا دفاع سمجھا جاتا ہے۔ جس کا بڑی پابندی سے اہتمام ہوتا ہے۔ مزدوروں کا عالمی دن منانے کے لیے ملک بھر میں چھٹی منائی جاتی ہے۔ لیکن یکم مئی کو بھی مزدور طبقہ مزدوری کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ فاقے کا خوف اسے یوم مزدور کی چھٹی سے بھی بے خبر رکھتا ہے۔ چھٹی کے روز بھی مزدور کام کرتا ہے اور محنت کی کمائی سے ٹیکس ادا کر کے سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام کے چہیتوں کی مراعات اور عیاشیوں کا بندوبست کرتا ہے۔
یکم مئی عالمی یوم مزدور منانا اور محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کرنا بھی خوش آئند ہے۔ لیکن اس محروم طبقہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور دیر پا اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ماضی کی طرح محنت کشوں کا استحصال جاری رہا تو یوم مزدور منانے کا مقصد اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو گا۔ بقول شاعر افضل خان
لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی
یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی


