رزق میں خیانت
کہتے ہیں ہر کاروبار و تجارت، ملازمت، اور کوئی بھی کام اگر دیانت داری سے کیا جائے تو یہ عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ آپ کے وہ رویے ہوتے ہیں جو آپ کو رزق کے ساتھ ساتھ نیکی اور بھلائی کمانے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں۔
پچھلے دنوں موٹر وے پر سفر کرنے کا اتفاق ہوا کئی مقامات پر عوامی سہولت کے لیے قیام گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ جہاں تھکاوٹ کی وجہ سے سب کو کچھ دیر ٹھہرنا لازمی ہوتا ہے۔ تو یہ دیکھ کر بے حد افسوس ہوا کہ یہاں کے ہوٹلز اور اسٹالز پر غیر معیاری اشیا بڑے دھڑلے سے انتہائی مہنگے داموں فروخت کر کے مسافروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ یہاں کے سیکورٹی گارڈ تک مساجد اور واش روم کے باہر کھڑے انعام کے طلبگار نظر آتے ہیں۔
یہاں نہ تو مسافر احتجاج کر سکتے ہیں اور نہ کوئی ایسا ادارہ ہے جہاں فریاد کی جا سکے۔ خدا جانے اتنی من مانی اور اندھیر نگری کیسے ہو رہی ہے؟ قانون نفاذ کرنے والے ادارے کہاں ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہاں کے ان دکانداروں کے تلخ رویے سے محسوس ہوتا ہے کہ انہیں خدا کا کوئی خوف نہیں ہے۔ ناجائز منافع خوری، وزن اور مقدار میں کمی، ناقص اور غیر معیاری اشیا خورد و نوش کی فروخت سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ کیا ہم واقعی ایک مسلمان قوم سے تعلق رکھتے ہیں؟
کیا ہمارا دین مسافروں سے اس طرح کی لوٹ مار اور بدسلوکی کی اجازت دیتا ہے؟ ایسے لوگ دنیا میں چار پیسے کمانے میں کامیاب تو شاید ہو بھی جائیں تو کیا حاصل ہو گا جب آخرت ہی داؤ پر لگ گئی ہو۔ بے شک رب کی گرفت بہت سخت ہے۔ مجھے ان کے رویے دیکھ کر وہ غریب، ان پڑھ مگر خوف خدا رکھنے والے سڑکوں اور محلے کے ان لوگوں کی یاد آ گئی جو ہماری باتیں بھی سنتے اور برداشت کرتے ہیں۔ اور عزت و محبت سے پکار پکار کر اپنی اشیا فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔ ریٹ اور قیمت میں بھی رعایت کر دیتے ہیں۔ بے شک وہ لاکھ درجہ ان ریسٹ ایریا کی خوبصورت دکانوں اور اسٹالز والوں سے بہتر ہیں۔ ہمیں روزمرہ زندگی میں ایسے لوگوں کی قدر تب ہی آتی ہے جب ہمیں موٹر وے پر موجود ان تاجروں اور دکانداروں سے یہ تلخ واسطہ پڑتا ہے۔
میں نے ایک مرتبہ ایک ریڑھی والے پھل فروش سے کچھ پھل خریدے۔ اسے بل کی ادائیگی کی اور چلا آیا۔ اس کے بعد میں جب بھی اس کی ریڑھی کے سامنے سے اپنی کار پر گزرتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ وہ مجھے رکنے کا اشارہ کر رہا ہے۔ میں یہی سمجھتا رہا کہ وہ چاہتا ہے کہ میں اس کے پاس رک کر مزید پھل خریدوں اس لیے اسے نظر انداز کرتا رہا۔ ایک دن اس نے زور سے ہاتھ ہلا کر رکنے کا اشارہ کیا تو مجھے بریک لگانی پڑی۔ میں نے پوچھا بھائی کیا بات ہے کیوں ہر مرتبہ اشارہ کرتے ہو تو وہ بولا صاحب چار ماہ قبل آپ مجھ سے کچھ فروٹ لے کر گئے تھے تو آپ کا بل سات سو پچاس روپے بنتا تھا۔
مگر آپ جلدی میں مجھے نو سو پچاس دے کر چلے گئے تھے وہ اضافی رقم آج تک اسی طرح میرے پاس موجود ہے۔ اس نے جیب سے ایک پرانے سے کپڑے کے میں لپٹے دو سو روپے نکالے اور بولا دیکھ لیں صاحب یہ وہی نوٹ ہیں جو آپ نے مجھے دیے تھے۔ میں نے اس اضافی رقم کو اپنی رقم میں شامل نہیں کیا کیونکہ میرے لیے یہ رقم ناجائز تھی اور آپ کی امانت تھی۔ میرے بار بار اشاروں پر آپ نے توجہ نہیں دی اور میں چار ماہ سے اس امانت کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں۔
میں اس کی بات سن کر حیران رہ گیا اور کہا یار یہ دو سو روپے کی تو بات تھی مجھے تو اب یاد بھی نہیں رہا ہے۔ تو وہ بولا صاحب مجھے تو یاد ہے امانت کا بوجھ بہت وزنی ہوتا ہے۔ اس نے فٹ سے وہ رقم میرے حوالے کردی اور بولا صاحب میں اپنے رزق میں خیانت نہیں کر سکتا۔ میں نے حیرت سے پوچھا بھائی یہ رزق میں خیانت کیا ہوتی ہے؟ تو اس نے بتایا کہ پھل کی یہ ریڑھی مجھے وراثت میں ملی ہے مجھ سے پہلے میرا باپ اور اس سے قبل میرا دادا یہی کام کرتے تھے۔
مجھے میرے باپ نے نصیحت کی تھی کہ اپنے رزق میں کبھی خیانت مت کرنا ورنہ یہ وراثت چھن جائے گی۔ اللہ کے رسول نے فرمایا ہے کہ امانت سے رزق بڑھتا ہے، خیانت سے افلاس لازم آتا ہے۔ اور مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ معیار اور کوالٹی، مقدار اور قیمت میں گڑبڑ سے رزق حرام ہو جاتا ہے بد دیانتی بھی خیانت کی ایک قسم ہوتی ہے اور خیانت حرام ہے۔ پوری دیگ میں ایک قطرہ ناپاک پیشاب پوری دیگ کو حرام کر دیتا ہے۔ ناجائز منافع، کم تولنا اور خراب مال بیچنا رزق میں خیانت ہوتی ہے۔
جو کاروبار سے آپ کی جائز آمدنی کی برکت بھی ختم کر دیتی ہے۔ اس لیے میں معیاری اور غیر معیاری پھل الگ الگ رکھتا ہوں اور ان کا ریٹ بھی مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھاتا۔ کسی کا حق کھانا تو اور بھی بڑا گناہ ہے۔ میں بھلا آپ کی اضافی رقم کیسے اپنی رقم میں شامل کر سکتا تھا؟ مجھے حیرت ہوئی کہ اس دور میں ایسی سوچ رکھنے والے لوگ موجود ہیں شاید ان کی وجہ سے یہ دنیا قائم ہے۔ اس واقعہ سے مجھے وہ بوڑھا کریانہ فروش یاد آ گیا جس کی دکان ہمارے محلے میں ہوا کرتی تھی وہ تولنے والے ترازو میں باٹ (ویٹ ) کے نیچے شاپر رکھتا تھا۔
میں نے اس سے پوچھا کہ بابا جی یہ شاپر باٹ (ویٹ ) کے نیچے کیوں رکھتے ہو تو جواب دیا میں کریانہ بیچتا ہوں شاپر نہیں۔ اس لیے جس شاپر میں اشیا ڈال کر بیچتا ہوں اس کا وزن ان اشیا کے ساتھ کیوں شامل کروں؟ شاپر کا وزن برابر کرنے کے لیے وزن کے نیچے شاپر رکھ لیتا ہوں تاکہ کسی کی حق تلفی مجھے گناہ گار نہ کردے۔ میں اپنی آخرت اس ذرا سے وزن کی وجہ سے خراب کیوں کروں؟ یقیناً انسان کے کردار کا اندازہ صرف مسجد میں سجدوں سے نہیں بلکہ بازار میں اس کی تجارت، دفتر میں اس کی ایمانداری اور لوگوں سے اس کے رویے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
میرے ایک نانا جان کی دودھ اور مٹھائی کی دکان تھی وہ جب کسی کو دودھ دیتے تو ہمیشہ وزن سے زیادہ تھوڑا فالتو دودھ ضرور ڈالتے تھے۔ مٹھائی تولتے ہوئے مٹھائی والا پلڑا ہمیشہ بہت جھکا ہوا رکھتے اور کہتے وزن اور پیمانے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ یہ آدمی کا امتحان ہوتا ہے۔ دیانت داری رزق لاتی ہے جب کہ خیانت فقر لے کر آتی ہے۔ اس بارے میں ارشاد ربانی ہے کہ ”جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (مشکل سے نجات کا ) راستہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے سان گمان بھی نہیں ہوتا“ ۔
البتہ جھوٹ بولنا بہت بڑی بے برکتی اور معاشی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے کتنا بدبخت اور کم ظرف ہے وہ موقع پرست انسان جو سیدھے راستے سے آتے رزق کو بے ایمانی اور خیانت کا تڑکا لگاتا ہے اور اپنے کاروبار کی برکت کو بد دیانتی اور چالاکی کا زخم دیتا ہے اور پھر پوری زندگی اس خیانت کا سود بھرتا رہتا ہے۔ کبھی معاشرے میں بے وقعت ہو کر تو کبھی اولاد کو حرام پر پال کر، کبھی بیماریوں کا شکار ہو کر، کبھی ناخلف اولاد کے ہاتھوں تنگ آ کر، کبھی حادثات کی زد میں آ کر، تو کبھی زوال اور نقصان کا منہ دیکھ کر بلاشبہ انسان اپنے اعمال کی کھوٹ کی بدولت خسارے میں ہوتا ہے۔
اپنے لالچ کی بدولت اپنی ہر بدنیتی کا سود وہ اپنی پوری زندگی ادا کرتا رہتا ہے۔ آج کل تجارتی معاملات میں جگہ جگہ جھوٹ، دھوکہ دہی اور خیانت اس وجہ سے بھی عام ہو چکی ہے کہ لوگوں نے رازق حقیقی پر توکل اور بھروسا کرنا چھوڑ دیا ہے۔

