روزمرہ کی زندگی میں علامتیت کا کردار
انسان اپنے روزمرہ کی زندگی میں ہر شعبے میں واسطہ اور بالواسطہ بہت سے علامات اور نشانات سے جڑا رہتا ہے جن کا الگ الگ کردار اور اہمیت ہوتی ہے، جن کی معناؤں کا انسان کی زندگیوں پر گہرا اثر ہوتا رہتا ہے، معاشرے کا ہر فرد ان نشانات اور علامات کی معنوں کی اپنی اپنی تشریع رکھا ہے،
علامتیت (Semiotics) اشاروں اور نشانات کی سائنس ہے لیکن مابعد جدیدیت میں اس کی حیثیت محض علامتوں کے مطالعے تک محدود ہے۔ ماہر علمیات اور لسانیات فرڈینینڈ ڈی سوسور نے سب سے پہلے علم الانسان سے الگ ہو کر زبان کا ایک لسانی ساخت کی حیثیت سے مطالعہ کیا۔ فرڈینینڈ ڈی سوسور اور اس کے بعد آنے والے علم علامات کے ماہرین کے نزدیک ایک لفظ مادی اجزا کے مطلب سے وجود میں آتا ہے۔ جیسے آواز یا صفحے پر موجود نشان وغیرہ جسے فرڈینینڈ ڈی سوسور دال (سگنیفائر) کا نام دیتا ہے پھر اس کے عقب میں ذہنی جزو بھی کارفرما ہوتا ہے جسے آئیڈیا یا تعقل کے نام سے نمائندگی دی جاتی ہے اس آئیڈیا یا تعقل کو فرڈینینڈ ڈی سوسور مدلول (سگنیفائیڈ) کا نام دیتا ہے، دال اور مدلول دونوں مل کر نشان بناتے ہیں۔
سوسور کے بعد علم علامات کے ماہرین نے اشاروں یا نشانات کے اثر ورسوخ، ان کی طاقت اور حاضریت پر توجہ مرکوز کی۔ علامتیت کی ایک اہم مثال فلسفی اور ماہر لسانیات رولاں بارتھ کی کتاب (Mythologies) ہے جو 1957 ع میں منظر عام پر آئی جس میں بارتھ نے فرانسیسی عوامی کلچر کے مختلف مظاہر مثلاً کار، دنگل اور صابن پاؤڈر کے اشتہارات کو سامنے رکھ کر ان کا تجزیہ کیا اور اُن کے باریک مطالب کی نشاندہی کی۔ یہ مطالب اکثر قدامت اور استحصال کا پتا دیتے ہیں۔
مابعد جدیدیت کے ظہور میں آنے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مدلول کی بجائے دال پر زور دیا جانے لگا پھر ہوا یہ کہ جیک ڈریڈا اور جولیا کرسٹیوا کے کام نے دال اور مدلول کے درمیان انسلاک کو منسوخ کر دیا گیا اور ان کی جگہ بین امتنی سگنیفائر کے باہمی تفاعل نے لے لی۔ ساختیات والوں نے متن کی مخصوص معنی تلاش کرنے کی بات کی، ساختیات بہت سے معنی کی نشاندہی کرتی ہے جن کو منظر پر لایا جا سکتا ہے۔ مابعد جدیدیت نے ایک قدم آگے کی بات کی ہے۔ ماہر سماجیات جین باؤڈریلا کے مطابق زمانے معاشرت اشارات و نشانات سے لبریز ہیں جنہیں اس قدر فروغ دیا ہے جا چکا کہ کے اب نشان اور حقیقت میں فرق کرنا مشکل ہو چکا ہے۔
اشارہ نشان
سوسور کی لسانیات میں نشان دو اجزا پر مشتمل تھا۔ ایک دال تھا اور دوسرا مدلول۔ ان دونوں کا اتحاد ذہن میں وقوع پذیر ہوتا ہے جس کا مال زیر نظر لفظ کے معنی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ معنی لفظ کو مجموعی طور پر ایک مستحکم شناخت فراہم کرتا ہے جو یک طرفہ طور پر تبدیل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اپنی منشا کے مطابق معنی کو تبدیل کر سکتا ہے۔ ان معنوں کو پورا معاشرہ مشترکہ طور پر قبول کرتا ہے۔ ظاہر ہے ایک مخصوص زمانی صورت حال میں یہ اشتراک لازمی ہوتا ہے، تب ہی کسی لفظ کے معنی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ سوسور نے زبان کو نشانات کا نظام قرار دیا جو سماج کے افراد میں ایک مشترکہ رد عمل کا باعث بنتا ہے۔
فرڈینینڈ ڈی سوسور کے ان لسانی نظریات نے ساختیات کی بنیاد رکھی۔
ساختیات کے ماہرین نے سوسور کے لسانی ماڈل کو تمام دوسرے نشانات کے مطالعے کے لیے ماڈل کے طور پر لیا۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ کس طرح بطور مثال ادب نشانات کی ایک نوع کے طور پر وجود میں آیا جسے بیانیہ کا نام دیا جا سکتا ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ قارئین کو کوئی لفظ سن کر کس طرح کا رد عمل ظاہر کرنا چاہیے۔
ساختیات کے نظریہ ساز بالخصوص ڈریڈا وغیرہ نے۔ نشان کے بالکل مختلف معنی کی نشاندہی کی ہے۔ ڈریڈا نے اسے ایک شکستہ اکائی قرار دیا ہے جو پورے معنی کا احاطہ کبھی نہیں کر سکتی۔
ایک مبصر گایتری چکرورتی سپوک نے کہا کہ نشان آدھا موجود ہوتا ہے اور آدھا غائب۔ اس لیے انفرادی طور پر اس کی تشریح کے بہت سے امکانات ہوتے ہیں۔ چنانچہ نشان ساختیات کے نزدیک غیر مستحکم اکائی ہے جہاں تک ایک معنی کا تعلق ہے تو یہ لازمی طور پر ابہام کا راستہ ہے۔ اس لیے معنی کی تشریح میں ابہام ہر وقت موجود ہوتا ہے،جو ہر فرد کے لیے مختلف ہوتا، ہے جن کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

