ایڈیٹ اور دستووفسکی کا مثالی انسان
یوں تو روسی ادیب دستووفسکی کی شہرت برادر کرامازوف اور کرائم اور پنشمنٹ ہے لیکن درجہ اعلٰی کا یہ مصنف اگر فقط ان دو کتابوں پر یاد کیا جائے تو نا انصافی نہیں بلکہ بہت بڑی نا انصافی ہوگی۔ دستووفسکی دوسرے ناولوں میں بھی کم کمال نہیں دکھاتے لیکن اکثر ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان ہی ناولوں میں ایک ”دی ایڈیٹ“ ہے۔
دستووفسکی اپنے ناول ”ایڈیٹ“ میں ایک مثالی انسان کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ دستووفسکی کا یہ مثالی انسان دراصل مسیح علیہ سلام کی پرچھائیں ہے۔ اس میں وہ سارے گُن ہیں جو مسیح وقت کو درکار ہیں۔ جو مسیح وقت کی طرح لوگوں میں رہ کر انھیں اپنا سمجھتا ہے جبکہ لوگ اسے بے وقوف سمجھتے ہیں اسی لئے ناول کا نام ”ایڈیٹ“ یا بے وقوف ہے۔ دستووفسکی کے اس کردار کا نام پرنس پشکن ہے جو مِرگی کے مرض کے علاج کے لئے سوئٹزرلینڈ گیا ہوا تھا اور ناول کی شروعات اس کی روس واپسی سے ہوتی ہے۔ پشکن روس اس لیے آ رہا ہوتا ہے کیونکہ اسے پتہ چلا ہے کہ وراثت میں کچھ جائیداد اس کے نام لکھ دیی گئی ہے اور جن لوگوں کے پاس وہ آتا ہے وہ اس کے دور کے رشتہ دار ہیں۔ پشکن کی وضع قطع سادہ ہے، حالانکہ وہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ پشکن کی یہی وضع قطع بھی اس کے بے عزتی کا باعث بنتی ہے۔
پشکن ایک ایسا کردار ہے کہ، سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کہ مصداق سب کا سوچتا ہے۔ جو کسی کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتا حالانکہ روس میں وہ ایک ایسے معاشرہ میں زندگی گزارتا ہے جہاں پیسہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ جھوٹ، فریب، شراب، ظلم عام سی باتیں ہیں۔ لیکن پشکن اس معاشرے کا الٹ ہے۔ رگوژن جن سے اس کی ملاقات ریل میں ہوتی ہے پشکن کا دوست ہے لیکن بعد میں اس کے قتل کے درپے رہتا ہے لیکن پشکن یہ جان کر بھی اسے دوست سمجھتا ہے، پیار اگلایا سے کرتا ہے لیکن شادی پیلوپونیا سے، جو ایک طوائف نما لڑکی ہے۔ وہ تھی تو ایک اچھی لڑکی لیکن امیر توتسن کے فریب میں آ کر عزت گنوا چکی ہے۔ اور اب خود کی عزت گنوا کر خود کو اذیت دیتی ہے۔ پشکن بعض اوقات منع کرتا ہے اور ہمدردی جتاتا ہے۔ لیکن وہ پشکن کو بھی اپنے نزدیک آنے سے روکتی ہے کہ پشکن ایک نیک انسان ہے اور وہ برے لوگوں کو برباد کرنا چاہتی ہے۔ پشکن خود کو اور دنیا پشکن کو اگلایا کے قابل نہیں سمجھتی کیونکہ اگلایا امیر ہے اور پوشکن امیر تھا اس کے پاس اس وقت کچھ نہیں سوائے متنازعہ وراثت کے۔ ہر کوئی توتسن کو اگلایا کے خوبصورتی کے قابل سمجھتا ہے جو امیر ہے لیکن انتہائی گھٹیا انسان ہے۔
یہ ناول ”گڈ“ اور ”بیڈ“ کی معرکہ آرائی ہے جس میں دستووفسکی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر اس دنیا میں کوئی اچھا آدمی بھی آئے تو دنیا کا بیڈ اس کی گڈ کو خراب کرے گا۔
یہ ناول ہمارے سماج کو بھی مکمل گرفت میں لیتی ہے کتنے ایسے ہیں جو ہمارے ارد گرد حقیقی پرنس پشکن ہیں۔ جنہیں ہم بے وقوف کہتے ہیں۔ جو تھوڑا سچ بولے ہم کہیں گے آج کل تھوڑا دماغ پھر گیا ہے۔ جو نرم دلی دکھائے ہم کہتے ہیں صاحب ہم سے ڈرتا ہے یا بے وقوف ہے۔ ہم انھیں اور ان کی مخلصی کو بجائے طاقت سمجھنے کے کمزوری سمجھتے ہیں۔ اور وہ پشکن سسی پس کی طرح اپنا پتھر پہاڑی پہ لے جاتے جاتے ایک دن مر جاتا ہے۔
دی ایڈیٹ شاید برادر کرامازوف کی طرح نفسیاتی گہرائی کا اس سطح پر مظہر نہ ہو لیکن دی ایڈیٹ میں بعض ایسے کردار اور جملے آتے ہیں کہ انسان دستووفسکی کی نفسیات دانی سے دنگ رہ جاتا ہے۔ نطشے نے کہا تھا کہ میں نے اگر کسی سے نفسیات کے متعلق کچھ سیکھا ہے تو وہ دستووفسکی ہیں۔ یہ ناول نطشے کے دعوے کو مزید تقویت بخشتی ہے۔
دی ایڈیٹ، معاشرتی درجہ بندی، پیار و محبت اور رقابت کی داستانوں کی گھاٹیوں سے آپ کو لے جاکر اس انسان کے سامنے آپ کو لا کھڑا کرتی ہے جسے دستووفسکی اپنا بہترین انسان سمجھتے ہیں۔
جاوید چوہدری نے لکھا تھا کہ میں نے یہ ناول اپنے کالج کے زمانے سے آج تک کتنی مرتبہ پڑھیں ہے مجھے خود یاد نہیں۔ میں اس پہ یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اسے دو ہزار سترہ کی سردیوں میں پڑھا تھا اب یوں ہوتا ہے کہ ہر دسمبر یہ مجھے یاد آتا ہے۔ دو تین مرتبہ پڑھ چکا ہوں اب بھی دل کرتا ہے کہ اسے پڑھوں۔
ایک مکمل نقطۂ نظر ہے جو آپ کو متاثر کیے بنا نہیں رہ سکتا۔


