جسٹس بابر ستار کو سائبر کرمنلز سے کون بچائے گا؟
اسلام آباد ہائے کورٹ کے معزز جج جسٹس بابر ستار اور اس کے خاندان کے خلاف سوشل میڈیا پر جس انداز میں غلط شواہد اور حقائق پیش کر کے جھوٹ کا طوفان بدتمیزی کھڑا کیا گیا ہے۔ ایسی بد تمیزیوں کا شکار اس ملک کے کئی شہری روزانہ ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے ایک مخصوص وقت میں موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ بھی رہے ہیں۔
بابر ستار جیسی با اثر شخصیات کے دفاع میں ذاتی طور پر ملک کے مایا ناز وکیل اور اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان جیسی شخصیات آگے آ جاتی ہیں۔ مگر مجھ جیسا ایک عام شہری سوشل میڈیائی کرمنلز کے ہاتھوں کیسے تنگ آتا ہے اس کی کسی کو مثال دیکھنی ہو تو کبھی ایف آئی ای سائبر کرائم کے مقامی سرکل آفیس کا چکر لگا کر دیکھے۔ سوشل میڈیائی کرمنلز کے مارے خواتین و حضرات ایف آئی ای کے دفاتر میں اہلکاروں کو یہ کہتے سنے گئے ہیں اگر آدھے گھنٹے میں فلاں اکائونٹ سے میری تصویریں نہ ہٹائی گئیں تو میرے پاس تحفظ کے لیے خودکشی آخری حل ہوگا۔
پاکستان میں سائبر کرائم کو روکنے کے لیے پریوینشن الیکٹرانک کرائم ایکٹ(پیکا) 2016 موجود ہے. مذکورہ قانون پر عملدرآمد کا کام ایف آئی ای کرتا ہے۔ اس قانون کے تحت ملزمان کے خلاف متاثر فرد یا ادارے ایف آئی ای کو شکایت کرتے ہیں جو ملازمین تک پہنچنے کے لیے ٹیکنیکل اور سوشل میڈیائی اداروں جیسے میٹا(سابق فیس بک) ایکس(سابق ٹوئٹر) وغیرہ کی جانب سے مہیا کردہ رکارڈ اور ٹھوس شواہد کا استعمال کرتا ہے۔
ایف آئی ای کو کسی بھی سوشل میڈیائی ہینڈل کا جو رکارڈ کمپنی/ادارے سے ملتا ہے اس میں موبائل نمبرز، آئی پی(انٹرنیٹ پروٹوکول)ایڈریس، اس کے استعمال کا وقت اور جگہ کی سائنسی اور ٹیکنیکل ٹھوس معلومات ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ایسے ملزمان کے خلاف مقدمات میں فارینزک رپورٹ پر انحصار کیا جاتا ہے۔ فیکا کے اکثر دفعات ایسے ہیں جن کا مقدمہ جوڈیشل میجسٹریٹ کے پاس چلتا ہے۔ جناب ججوں کی انٹر نیٹ اور ٹیکنالوجی کے شواہد پر معلومات اور سمجھداری دیکھ کر انسان کا سر چکرا جاتا ہے۔ جس کا فایدہ لازم ہے ملزمان کو ہی ملنا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے شک کا فایدہ قانونی اعتبار سے بھی ملزم کو ملنا ہے۔ جج کو شواہد سمجھ نہ آنے کی صورت میں سائبر کرمنلز سزا سے آسانی سے بچ جاتے ہیں۔
یہ حقیر سائبر کرائم کے متاثر فریق کے طور پر جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک کے کٹھڑے سے گزر چکا ہے۔
ملیر کراچی کی عدالت میں جناب جج صاحب کو آئی پی ایڈریس کی وصف سمجھاتے سمجھاتے مجبوراً وکیل کو یہ کہنا پڑا جس طرح انسان کا ڈی این ای منفرد ہوتا ہے کسی ایک کا دوسرے سے نہیں مل سکتا بالکل ایسے ہی آئی پی ایڈریس ہوتی ہے۔ جج صاحب کو یہ سمجھانے میں بھی 15 دن لگ گئے کہ فیس بک انتظامیہ کی طرف سے ایف آئی اے کو مہیا کردہ معلومات یعنی فیس بک بزنس رکارڈ ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کسی بینک اکائونٹ کی اسٹیٹ منٹ ہوتی ہے کس نے کتنے پیسے کہاں سے اور کس وقت نکالے یا اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروائے۔ ایسے ٹھوس شواہد کے ساتھ ساتھ فارینزک رپورٹ میں موجود تصاویر، وڈیوز اور سافٹ ویئرز کے ٹھوس ثبوت ہوتے ہیں جن پر سائبر کرائم کے مقدمات بنتے ہیں۔
سائبر کرائم کو روکنے کا کام کرنے والے قانون کی سب سے اچھی اور متاثر کن بات یہ ہے کے اس میں ملزم کے خلاف جاچ پہلے ہوتی ہے اور پرچہ بعد میں کٹتا ہے۔ اس سب کے باوجود عملی طور پر ہوتا یہ ہے کہ جج صاحبان ٹیکنالوجی کے شواہد اور حقائق کے بارے میں جانکاری نہیں رکھتے اور ملزمان عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں۔ سائبر کرمنلز کو ہمارے یہاں سرکاری اداروں میں اب پوجا جاتا ہے۔ کیونکے ان کے پاس جو اپنے ساتھیوں اور افسران کو تنگ کرنا کا نسخہء ہوتا ہے وہ ہر فرد کے پاس نہیں ہوتا۔ سائبر کرمنلز کی اکثریت کے ساتھ نفسیاتی اور شخصی مسائل ہوتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں ایسے افراد کو اپنی ایجنڈا کے لیے ایک دوسرے کے مد مقابل افسران استعمال کر کے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
عام شہری سائبر ورلڈ کے اندر سے اتنا واقف نہیں وہ اس لیے بھی سائبر کرمنلز کے شکنجے میں آسانی سے آ جاتا ہے۔ ملک کی ممتاز شخصیات کے نام سے جھوٹے فیس بک اکاؤنٹ چل رہے ہیں وہ بند نہیں ہوتے۔ ایکس(ٹوئٹر) بھرا پڑا ہے جھوٹے ناموں والے اکائونٹس سے۔ ایسے کام کرنے والے غازی اور سائبر سپیس کے نیک بندے اپنے نام اور چہرے چھپا کر عورتوں کے ناموں اور پروفائل تصویر سے اکائونٹ بنا کر وہاں سے دشمن پر وار کرتے ہیں۔ پکڑے جانے پر جب ان کی اپنی شناخت ظاہر ہوتی ہے ہتھکڑی لگتی ہو تو پتہ چلتا ہے جناب کو ہتھکڑی نہ لگائی جائے کیونکہ پی ایچ ڈی اسکالر ہیں
سائبر کرمنلز کی بڑی ابادی سفید پوش اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔ اس جرم کی دنیا میں ان پڑھ اور ٹیکنالوجی سے ناواقف کے لیے موزوں جگہ نہیں ہے۔
سب سے بڑھ کر کے جب ایسا کوئی ملزم سائبر کرائم کے مقدمات سے آزادی پاکر آتا ہے تو اس کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ان کے ہم خیال یا جن کے ہدف کے لیے مجاہد کام کر رہا تھا وہ گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر اس کو سرکس کرواتے ہیں۔ رہائی کا جشن مناتے ہیں۔ اس حقیر نے یہ منظر ایک جامع میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
سائبر کرمنلز کو سزائیں ممکن بنانے کے لیے جج صاحبان کو ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی جو بنیادی معلومات ہوتی ہے اس کی تربیت دینا لازم ہے۔اگر یہ ممکن نہ ہوا تو کل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تھے آج جسٹس بابر ستار ہیں تو مستقبل میں کوئی اور معزز جج سائبر کرمنلز کے زد میں آ سکتا ہے۔
انصاف کرنے والے خود انصاف کے لیے پریشان ہوں تو میرے جیسے عام شہری کو سائبر کرمنل کیسے معاف کریں گے۔ تبھی تو میں نے اپنی کتاب کا نام ہی رکھا ہے "سائبر کرمنلز تو اچھے ہوتے ہیں”۔
Facebook Comments HS


