غلام عباس اور ”آنندی“
غلام عباس آپنے افسانہ ”آنندی“ میں طنزیہ لہجہ اور مزاحیہ بیانیہ انداز کی ہم آہنگی کر کے معاشرے کے دوہرے پن پر تنقید کرتے ہوئے انسانیت کی مضحکہ خیزی کو اجاگر کرتے ہیں۔ افسانہ نگار کے نزدیک، اخلاقی منافقت اتنی ہی میلا کچیلا اور حقیر ہے، جتنی ہی لذت گرایانہ آرزو۔ اگر چہ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ روایتی اخلاقی تعلیمات اور تہذیبی اقدار دقیانوسی ہو چکی ہیں، لیکں انفرادیت اور مادیت کے غلبے میں، انسان، روحانی نجات کے بجائے، لذت کی جستجو پر افراط پر زور دیتے ہوئے کھوکھلی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ در حقیقت، ”شریف آدمی“ ، جو اپنے آپ کو اخلاقی برتری و کمال کا مجسم تصور کرتے ہیں، صرف اپنے ذاتی مفاد اور مقام پر توجہ دیں۔ یقیناً، لوگ اتنی بھی نادان نہیں، جتنا کہ شریف لوگ سوچتے ہیں۔ لیکن سرمایہ داری کے دور میں، زمیں، طاقت اور دولت کی الجھن میں ایک نظام طبقاتی بنایا گیا ہے جس میں عدم مساوات کے سامنے لذت کی جستجو کے سوائے لوگوں کو بے مقصد زندگی کے علاج کے لئے کوئی دوسرا طریقہ نظر نہیں آتا ہے۔
افسانہ نگار کے نظر میں، کیا اور کس طرح زنان بازاری کا وجود ”انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ“ ہے یا نہیں، اشرافیہ طبقے کی نگرانی مرکزی نہیں، پر ان کا وجود کس حد تک شریف آدمی کی جائیداد کو نقصان پہنچانا ہے۔ شریف بلدیہ رکن کے لئے، بیسواؤں کی موجودگی تین مصیبتیں پیدا کرتی ہے۔ سب سے پہلے، وہ سمجھتے ہیں کہ بیسواؤں کی موجودگی ان کے تجاتی مرکز کی مارکیٹ ویلیو کو متاثر کرے گی۔ دوسرا، ان کا خیال ہے کہ ان کے گھر کی خواتین ”نیم عریاں بیسواؤں کے بناؤ سنگار“ کو دیکھ کر ”آرائش و دلربائی کی نئی نئی امنگیں“ ان کے دل میں پیدا ہوتے ہوئے، بے دریغ خرچ کرنا شروع کر دیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ اگر ان کے بچے بیسواؤں کے بہکاوے سے نجات نہیں پا سکیں، تو نہ صرف ان کے ”خاندانی حرمت“ کو نقصان پہنچے گا، بلکہ ان کی اپنی قسمت برباد ہو گی، جب بچے زنان بازار میں پیسے خرچ کریں گے۔ ان تمام خود غرضانہ وجوہات کی بنا پر انہوں نے بیسواؤں کو شہر سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ اس افسانے میں عورتیں بے صدا نظر آتی ہیں، لیکن وہ اتنی کمزور نہیں ہیں جتنا لوگ سوجتے ہیں۔ اس فیصلے کے اعلان کے بعد ان میں سے کچھ نے اس کی مخالفت کی۔ لیکن آخر میں، انہیں ان فیصلوں پر افسوس کر کے اس کو قبول کرنا پڑا کیونکہ ان کے پاس بلدیہ میں سودے بازی کی طاقت نہیں تھی۔ ویران ماحول میں بیسوائیں، اپنے عشاق کی بدولت، اس نئے علاقہ کو ایک جنت جیسی جگہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ ساز و سامان کے ساتھ اپنے مکانوں کی آرائش کرتی ہیں۔ ابتدائی طور پر اس بستی صرف دیوانے اور فقیروں کی کثرت رہتی ہے۔ بیسواؤں کے مہمانوں کے آنے کے ساتھ، بستی میں مزید ”گہما گہمی اور چہل پہل“ ہونے لگی۔ بیسوائیں ایسے ہی مسحورکن رہتی ہیں جیسے وہ تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ بستی میں ہونے والے ”عیش و مستی کے یہ ہنگامے“ بجھائے نہیں جا سکے۔ بیسوائیں اپنے بھائی بندوں اور سازندوں کے ساتھ ایک مقام لذت بناتی ہیں، جہاں لوگ ”تاش، چوسر اور شطرنج“ کھیل سکتے ہیں۔ یہ بیسوائیں بعد میں زمیندار بن جاتی ہیں جو اس نچلے گھٹیا علاقے کو ترقی یافتہ علاقے میں تبدیل کر دیتی ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ”عرضہ و تقاضا“ ایسا معاشی اصول ہے جو لوگوں کی اخلاقی منافقت کو واضح انداز میں بے نقاب کرتا ہے۔ جب تاجروں کو معلوم ہوتا ہے کہ شہر اب منافع بخش جگہ نہیں رہی تو وہ نئی جگہ پر منتقل ہونا شروع کر دیتے ہیں جہاں ان کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ بڑے میاں عطار اور ان کے شاگرد، جو بیسواؤں کو ”شربت بزوری، شربت بنفشہ، شربت انار اور ایسے ہی نزہت بخش، روح افزا شربت و عرق“ فراہم کرتے ہیں، اور تھیٹریکل کمپنی، جو پرانے ڈرامہ پیش کرتی ہے، بستی کی اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے والے کچھ افراد ہیں۔ بعد میں، سرکاری کارندے یہ دیکھ کر کہ اس بستی کی ترقی سے ریونیو حاصل ہو سکتا ہے حالت کو سدھارنے پر توجہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگرچہ آخر میں یہ شریف آدمی پھر یہ الزام لگاتے ہیں کہ جن خواتین نے ترقی کی بنیاد رکھی ہے، ان کا وجود ”انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر ایک بد نما داغ“ ہے، لیکن ان شریف صاحبان اور رکن سمیت کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ ایک ”غیر مرئی ہاتھ“ موجود ہے جو زمین، دولت اور طاقت کو جوڑتے ہوئے غریبوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ اس لئے، ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ، اخلاقی منافقت اور معاشی جبر معاشرے کے دوہرے پن کے دو عناصر ہیں، جو ایک دوسرے کے لئے سازگار ہیں۔


