یوم مئی بمقابلہ یوم شوکت اسلام


4 مئی 1886 کی رات دس بجے کے لگ بھگ امریکا کے شہر شکاگو میں طوفان کی آمد آمد تھی۔ بارش کی پہلی بوندیں گرنے سے خاصہ پہلے پیکنگ ہاؤس ڈسٹرکٹ کے ہے مارکیٹ (Hay Market) اسکوائر میں ایک ہجوم جمع ہونے لگا۔ آٹھ بجے تک 3000 افراد جمع ہو چکے تھے، شرکاء پولیس کی بربریت کے خلاف نعرے بلند کر رہے تھے اور اپنے اوقات کار کو ایک دن میں آٹھ گھنٹے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ اس وقت صنعتی مزدوروں کو بارہ سے چودہ گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا، وہ تھک کے چور ہو جایا کرتے تھے اور ان کے لیے بقیہ معمولات زندگی انجام دینا بہت مشکل ہو جاتا تھا، دس بجے جب بارش شروع ہوئی تو صرف چند سو افراد کا مجمع رہ گیا تھا۔

شہر کا میئر، جو وہاں موجود تھا، اپنے گھر کی جانب روانہ ہو چکا تھا، ادھر مجمع میں آخری مقرر سیمویل فیلڈن جو کہ ایک پادری تھا، اپنی بات ختم کر ہی رہا تھا جب 180 پولیس اہلکاروں کا ایک جتھا اسٹیشن سے ایک بلاک کے فاصلے پر مارچ کرتا ہوا آ رہا تھا تاکہ جلسہ کی باقی ماندہ چیزوں کو ختم کر سکے۔ پولیس کا یہ جتھا آخری مقرر کی ویگن سے تھوڑی دور پر رک گیا۔ جیسے ہی ایک پولیس کپتان نے اجلاس کو منتشر کرنے کا حکم دیا، اور مقرر نے پکار کر کہا کہ یہ ایک پرامن اجتماع تھا، اسی لمحہ پولیس کی صفوں میں ایک بم پھٹ گیا۔

67 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے سات موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ فوراً ہی پولیس نے فائرنگ شروع کر دی جس سے متعدد افراد ہلاک اور 200 زخمی ہوئے اور سانحہ ہے مارکیٹ امریکی تاریخ کے ساتھ ساتھ عالمی تاریخ کا بھی حصہ بن گیا۔ اس واقعہ کے بعد چھ افراد کو گرفتار کر کے موت کی سزا سنا دی گئی اس میں سیمویل فیلڈن بھی شامل تھا۔ سیمویل فیلڈن نے بعد میں رحم کی اپیل دائر کر دی خوش قسمتی سے اس کی رحم کی اپیل منظور کر لی گئی اور اس کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔

1889 میں، بین الاقوامی سوشلسٹ کانفرنس نے ہے مارکیٹ کے واقعہ کی یاد منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ پہلی مئی مزدوروں کے لیے ایک بین الاقوامی تعطیل کا دن ہو گا، جسے اب کئی ممالک میں مزدوروں کے عالمی دن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکہ میں، یہ چھٹی سرد جنگ کے اوائل میں کمیونسٹ مخالف جوش و جذبات کی وجہ سے خاص طور پر حقارت کی نظر سے دیکھی جاتی تھی۔ جولائی 1958 میں، صدر آئزن ہاور نے یوم مئی پر ”دنیا کے محنت کشوں“ کے ساتھ یکجہتی کے کسی بھی اشارے سے بچنے کی کوشش میں یکم مئی کو ”وفاداری کا دن“ کے نام سے منانے کی ایک قرارداد پر دستخط کیے تھے۔ قرار داد میں اعلان کیا گیا کہ یہ ”ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ وفاداری کے اعادہ اور امریکی آزادی کے ورثے کو تسلیم کرنے کے لیے ایک خاص دن ہو گا۔“

کیا کہیے، دنیا کی نابغۂ روزگار ریاست، میرے دیس پاکستان میں بھی آج سے آدھی صدی پہلے تک یوم مئی اپنے معمول کے مطابق بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا تھا۔ 1970 میں یکایک ایک نئی آواز بلند ہوئی کہ یوم مئی غیر مسلموں کی ایجاد ہے، اس لئے آئندہ سے مزدوروں کا دن یوم مئی کے بجائے غزوۂ خندق کی پاکیزہ یاد میں ”یوم شوکت اسلام“ کے نام سے منانے کا اہتمام کرنا چاہیے اور اس کے لئے دلیل یہ دی گئی تھی، چونکہ غزوۂ خندق میں دوسرے صحابۂ کرام ؓ کے دوش بدوش حضور اکرم نے بھی پھاوڑے سے کام لیا اور بھوک سے تنگ اپنے شکم مبارک پر پتھر باندھ کر خندق کھودی تھی، لہٰذا اس دن کی یاد تازہ کرنے کے لئے یوم مئی کے بجائے ہر سال ”یوم شوکت اسلام“ منایا جائے گا، چنانچہ اس سلسلے میں سب سے پہلے بڑے شہروں کی دیواریں مندرجہ ذیل تحریر سے سیاہ کر دی گئیں ”31 مئی یومِ شوکتِ اسلام“ پھر زوروشور سے لاہور اور اور کراچی کی مرکزی شاہراہوں پر عظیم الشان جلوس بھی نکالے گئے۔

یہ تمام واردات پاکستان کی ایک سیاسی جماعت نے، جو اپنے آپ کو مذہبی ٹھیکیدار سمجھتی ہے اور پاکستان کے ہر دور میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے ، ڈالی تھی۔ یاد رہے 1970 کے زمانے میں پاکستان میں دوسرے فوجی آمر یحیی خان کی حکومت تھی اور اس آمر نے عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہوا تھا اس وقت مملکت پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھی اور پاکستان کا مغربی بازوں، مغربی پاکستان کہلاتا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاری میں مصروف تھیں دونوں بازوں میں قوم پرست، ترقی پرست اور بائیں بازوں کی جماعتیں زیادہ مقبول تھیں۔

صاف نظر آ رہا تھا کہ مغربی پاکستان میں سب سے مقبول جماعت پیپلز پارٹی ہے، پیپلز پارٹی اس وقت سوشلسٹ نظریات کی طرف مائل تھی اور اس کے بانی چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو کا نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان عوام میں بے حد مقبول تھا۔ بائیں بازوں کی زیادہ تر قد آور شخصیات بھی اس جماعت میں شامل ہو چکی تھیں۔ فوجی آمر یحیی خان اس طرح کی منصوبہ بندی کر رہا تھا کہ عام انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت مقبولیت نہ حاصل کر سکے تاکہ وہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان رہے۔

اس مذہبی ٹھیکیدار جماعت کو انتخابات میں اپنی شکست صاف نظر آ رہی تھی اس لیے یہ فوجی آمر یحیی خان کے ہراول دستے کے طور پر پاکستان کے دونوں صوبوں میں کام کر رہی تھی اس لیے ”یوم شوکت اسلام“ جیسی مہم جوئی کے لیے اس جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت حاصل تھی کہ یہ جماعت عوام کے مذہبی جذبات سے کھیل کر ان کو اپنی طرف متوجہ کرسکے۔

قیام پاکستان سے لے کر دور حاضر تک کوئی بھی دور ایسا نہیں گزرا، جس میں لوگوں کے جذبات کے پیش نظر دین ِ اسلام کا مقدس عنوان اپنے ذاتی، گروہی اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال نہ کیا گیا ہو، تازہ ترین واردات ایک پلے بوائے کی جانب سے ”ریاست مدینہ“ کے نام نہاد قیام کا نعرہ تھا ورنہ کیا وجہ ہے کہ یوم مئی کی جگہ پاکستان میں صرف ایک بار ”یوم شوکت اسلام“ کے مقدس نام کو استعمال کرتے ہوئے ایک دن، صرف ایک دفعہ منایا گیا اور دوبارہ کسی نے بھی ”یوم شوکت اسلام“ منانے کی ”سعادت“ حاصل نہ کی۔

 

Facebook Comments HS