انفرنو کا نقشہ – فکشن


ایک مہیب تاریکی اور خاموشی جو یہاں چار سو پھیلی ہے تمہیں اس کا سراغ مل نہیں سکتا۔ دیکھو یہ تا حد نگاہ شام اور کانٹے دار راہداری جو تمہیں اکیلے عبور کرنی ہے۔ کوئی یہاں تمہاری پکار کا جواب نہیں دے گا۔ خون آلود گلیاں، مانوس کتوں کے بھونکنے کی آوازیں اور جا بہ جا ڈھانچے۔ دیکھی بھالی جگہ لگتی ہے ناں جیسے یہاں پہلے کوئی اور بھی بستا تھا۔ ان خالی حویلیوں میں موت کا سایہ ہے جہاں چاہو جاؤ، مگر ہوشیار رہنا۔ یہاں تم اکیلے ہو ہمیشہ کے لیے۔

یہ لمبی دیوار جس کے بعد لا تعداد اندھیری کوٹھریاں اور تہ خانے ہیں یہاں تمہاری آنے والی زندگی کا مسکن ہے۔ یہاں دن نہیں بدلتے، ہمیشہ ایک سا موسم رہتا ہے۔ اس الو کی آواز کا تعاقب مت کرنا بس دیوانہ وار بھاگتے رہنا اور اپنے تئیں کتوں اور دوسری عفریتوں سے دور رہنا۔ کیا یہ خون کے گڑھے کسی کی کاریگری کا ثبوت نہیں ہیں۔ کیا یہاں کی ایک ایک اینٹ کسی نے ریت اور گارے سے نہیں لیپی۔ وہ جو آج چکا چوند ہنگامے میں تمہیں بھلا چکا ہے جسے جشن اوری مردہ سلیبریشن کا اتنا غرور ہے۔

جو اپنے تئیں سچ اور باقی ساری دنیا کو جھوٹ کہتا ہے۔ وہ دونوں دنیاؤں کا ہیبت ناک داروغہ جس سے شاید تمہاری کسی لمحے ملاقات بھی ہو جائے لیکن وہ بھیس بدل کر آئے گا۔ یہ اسی کی ذات کے دو حسین رخ ہیں۔ سادے اور گاودی ڈرپوک لوگوں کے لیے الگ دنیا ہے جہاں وہ شراب و شباب کے کریہہ کھیل میں منہمک رہیں گے۔ تم ذہین ہو اس تاریک دنیا کے گنجلک راستوں کا یارا تمہارے سوا کوئی اٹھا نہیں سکتا۔ یہاں سب خاموش رہتے ہیں اور اور آنکھوں کے وحشت سے کلام کرتے ہیں۔

اپنے زخم ہرے اور خون آلود رکھنا۔ شاید کبھی ان دیواروں کے بیچ بنے بلوں سے تمہیں مستقبل کی بازگشت سنائی دے۔ جیسے پچھلے جنم میں تمہیں خواب آتے تھے۔ یہ دنیا تمہارے لیے وسیع ہے یہاں تم دکھ، تکلیف بیماری اور مایوسی کے شاہکار احساس دیکھو گے اور شاید آنے والی رات تمہارے لیے اس قدیم بھید کا کوئی در وا کردے۔ اس جگہ کو کیا کہتے ہیں۔ اس جگہ کا نام جہنم ہے۔

یہاں تمہیں بڑے بڑے راجہ، اہل علم، فلسفی، کاریگر بھی ملیں گے جنہوں نے اپنے سچ کو پہچانا اور غلط راستے کی نفی کی۔ تم خوفزدہ کیوں ہو۔ تمہیں یہیں آنا تھا کیونکہ مسخ شدہ مقدس لاشوں کا مسکن تمہارے لیے نہیں ہے۔ یہاں تمہیں تمہارے گناہوں کی جزا ملے گی۔ جس کے بھٹی سے گزر کر تم کندن بن جاؤ گے اور آنے والے نئے مہمانوں کے لیے ایک بھیانک خواب۔ یہاں تمہیں سوچنے کی ضرورت نہیں بس اپنی حیوانی جبلت پر یقین رکھو۔ یہاں کانٹے دیکھو اس پر ٹوٹ پڑو کیونکہ اس سے سواد کھانے کو تم ترسو گے اور اگر رات گئے تمہیں پژمردہ چاند کو دیکھ کر اپنے حسرت ناک انجام پر افسوس ہو تو کسی کھنڈر پہ چڑھ کر بھیڑیوں کی طرح چلانا کیونکہ تمہاری ہر پکار ناکام و نامراد لوٹ آئے گی۔

اور موت کا سوداگر اکثر پیروں میں گھنگرو بندھے قہر آلود گلیوں میں گشت کرتا ہے۔ اس کی انا کی تسکین کے لیے تم اپنے سر میں راکھ ڈالتے رہنا۔ یہاں تمہیں رومانس بھی ملے گا۔ جب لال آگ کے تنور کی لو تمہارے خواب و خیال کو تیاگ دے اور تمہارے اپنے عزیزوں کی شکل کے سیاہ جنگلی بھینسے تمہیں سزا دینے تمہاری کھال ادھیڑ دیں تم سرشاری کی لذت سے لبریز پنجوں کے بل ان کے معبد کا پہ جانا اور اندھا دھن پتھر کی سل اور ٹکریں مارنا۔

اور تمہیں لباس کی کیا فکر یہاں کون سا کوئی قانون یا سماج ہے جس کے جھوٹے بندھن نبھانے کی تم ڈرامے بازی کرو گے اپنی خارش زدہ لاش کو جس چٹان کے بھی حوالے کردو یہ جگہ تمہیں کبھی نہیں جھٹلائے گی۔ اور اگر تم نے اپنی سزا پر ایمان رکھا تم شاید آنے والے سالوں میں تم اپنے گناہ کی معراج کو پا لو اور اپنے بنانے والے ہاتھوں کی روایت کو زندہ رکھو۔ اس میں سمجھو تو تمہاری فطرت لیے ایک گہرا پیغام ہے۔

Facebook Comments HS