پی پی ایل پبلک لائبریری قلات: زبوں حالی کا شکار
تعلیمی میدان میں لائبریریوں کا کردار نا قابل فراموش ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علم حاصل کرنے اور کتاب پڑھنے کے کلچر کو فروغ دینے میں لائبریریاں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ لائبریریاں طلبا کی توجہ مطالعہ کی جانب بڑھاتی ہیں اور علم کے سمندر میں غوطہ لگانے کے نئے اور جدید طریقوں سے واقف کراتی ہیں۔
دنیا میں جہاں بھی تعلیم کا رواج عام ہوا ہے تو وہ صرف لائبریریوں کی ہی بدولت۔
ایک ہم ہیں کہ تمام تعلیمی سہولیات کی فقدان کے ساتھ ساتھ اچھی اور معیاری لائبریریوں سے بھی محروم ہیں۔
قلات جہاں ایک بھی معیاری تعلیمی ادارہ نہیں وہی لائبریریاں بھی بند پڑی ہوئی ہیں یا سہولیات کا اس قدر فقدان ہے کہ انہیں گھوسٹ لائبریریوں کا نام دینا ہی مناسب ہو گا۔
پی پی ایل کی جانب سے 2012 میں بنائی گئی ایک واحد عوامی لائبریری ہے جو کہ کئی سال سے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے۔ پی پی ایل کی جانب سے تعمیر کی گئی یہ لائبریری حکومتی غیر توجہی اور حکام کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے ایک بھوت بنگلے کا منظر پیش کرتی ہے جس میں لڑکیوں کے لیے علیحدہ کمرے تک نہیں۔
لائبریری میں موجود واحد ہال نما کمرہ کرسی اور دیگر ضروری سامان سے محروم ہے۔
کرسیوں، لیپ ٹاپ اور جدید سائنسی کتابوں کی کمی کا ذکر کیسے کی جائے جہاں قلات کی اس واحد لائبریری میں صفائی اور دیگر انتظامی امور کیلے ملازمین تک موجود نہیں۔
لائبریری میں موجود واحد شخص جہانزیب مینگل بلوچ سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ وہ لائبریری میں لائبریری اسسٹنٹ سے لے کر چپراسی اور مالی تک کے تمام امور کو سنبھالتا ہے۔ گیٹ کھولنے سے صفائی، شجر کاری اور بازار سے اخبارات و رسائل لانے تک کا سارا کام وہی ایک شخص کرتا ہے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس بھوت بنگلے میں ایک ہی شخص 13 سے 14 گھنٹے پابندی سے نوکری کرتا ہے اور دیگر اسٹاف یا تو سرے سے ہے ہی نہیں یا کسی سفارش کے بل بوتے ڈیوٹی انجام دینے سے قاصر ہیں۔
جہانزیب نے بتایا کہ وہ لائبریری کے ماحول سے جذباتی طور پر جڑے ہیں اور اس میں خدمات اس لئے انجام دیں رہے ہیں کہ انہیں کتابوں سے انسیت ہے۔ تاہم حیرانی کی بات یہ کہ کھنڈرات نما لائبریری نے کبھی حکومت یا لائبریری انچارج کی توجہ اپنی طرف مبذول نہیں کرائی اور نا ہی لائبریری کی دیکھ بھال اور ترقیاتی کاموں کیلے کوئی فنڈ موصول ہوئے۔
میرے مشاہدے کے مطابق لائبریری کا انچارج کوسوں دور کوئٹہ میں مقیم ہے جس کو لائبریری کی نا فکر ہے اور نا ہی خبر کہ لائبریری میں آئے طلبہ کن مسائل کے شکار ہیں۔
مخمصہ یہ ہے کہ محکمہ تعلیم اور افسران لائبریری کی ابتر حالت کو ہمیشہ نظر انداز کرتے رہے ہیں جن کی وجہ سے لائبریری قرضوں میں ڈوب گئی ہے۔ یوٹیلٹی (بجلی، پانی اور انٹرنیٹ) کے بل لاکھوں میں پہنچ گئے ہیں۔
جے ایم نے دعویٰ کیا کہ لائبریری کبھی محکمہ تعلیم کے پاس تھی جس نے کبھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی زحمت نہیں کی۔ ان کے مطابق پی پی ایل لائبریری قلات صرف اس وقت سے اخبارات کی ستر ہزار ( 70,000 ) کی مقروض ہے جب محکمہ تعلیم کی نگرانی میں تھی۔
دوسری جانب شہر کی واحد بھوت لائبریری میں آنے والی بدقسمت لڑکیوں کو واش روم کی کمی، مطالعہ کے لیے الگ کمرے اور انٹرنیٹ کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہزاروں طالبات میں سے 30 سے بھی کم طالبات لائبریری آتی ہیں اور اپنے تعلیمی و تدریسی حقوق کو پہچان سکتی ہیں۔
میں لائبریری کے مستقل رکن کی حیثیت سے اعلیٰ حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کم از کم لڑکیوں کے لیے الگ کمرے بنائیں، لائبریری کو بنیادی سہولیات جیسے انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ، کتابیں اور دیگر اسٹڈی گیجٹس فراہم کریں۔
مزید براں کہ لائبریری کو بدانتظامی سے دور رکھنے کے لیے کم از کم 8۔ 10 اسامیوں کا اعلان کیا جائے تاکہ لائبریری کی تمام تر امور روزانہ کے طور پر منظم طریقے سے سر انجام دیے جا سکیں۔


