بچپن: کچھ یادیں کچھ شاعری
ہوا کچھ یوں کہ میرے اسکول کے ایک دوست کے پاس لاک والی ڈائری تھی۔ اس کے صفحے خوشبو والے تھے۔ ایک روز اس دوست نے وہ ڈائری مینار پاکستان کے سکیچ کے عوض مجھے دے دی۔ میں وہ ڈائری گھر لے آیا۔ سو اب وہ ڈائری میری تھی۔ مگر اس کے مہکتے ہوئے صفحات پر کیا لکھا جائے؟ ایسا کچھ پرائیویٹ جسے مقفل کیا جا سکے۔ شاعری! میں نے اس پر شاعری لکھنے کا فیصلہ کیا۔
مگر شاعری کوئی بوتل کا جن نہیں کہ میں اسے بلاؤں اور وہ حاضر ہو جائے۔ پھر شاعری کیسے لکھی جائے؟ صبح شام، اٹھتے بیٹھتے، گھر میں اسکول میں میں اپنا پہلا شعر لکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ کچھ عرصے سے میں جگجیت سنگھ اور پنکج ادھاس کی غزلیں سن رہا تھا۔ میں نے ان سے مدد لینے کی کوشش کی۔ گھر میں شاعری کی کافی کتابیں تھیں۔ ان سے قافیہ اور ردیف کے رموز سمجھنے کی کوشش کی۔ اسکول میں بھی ایک جگہ دل لگا لیا۔ اب مجھے شعر لکھنے سے کون روک سکتا تھا؟
پھر ایک شام جب میں لاک والی ڈائری کے خالی صفحے پلٹ رہا تھا۔ مجھے کچھ فقروں کا ادراک ہوا۔ جیسے وہ کئی دن سے دماغ میں موجود تھے۔ مگر انہیں خروج نہیں مل رہا تھا۔ میں نے فوراً انہیں ڈائری میں منتقل کر دیا۔ اور ڈائری کو لاک لگا دیا۔ اس لیے نہیں کہ کوئی پڑھ نہ لے۔ اتنی مشکل سے شعر ہاتھ آیا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ واپس نہ چلا جائے۔ شعر کچھ یوں تھا:
کوئی آسرا ہوتا تو تیرے دل میں اتر جاتے
پر آنکھوں کے سمندر میں کوئی دریا نہیں گرتا
اس شعر کی لاجک مجھے بھی کبھی سمجھ نہیں آئی۔ مگر میں نے اسے غنیمت جانا۔ اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ اب مجھے غزل لکھنی تھی۔
ماموں زاہد نے مجھے اور احمر کو ایک ایک ڈائری دی۔ فیروزی رنگ کی وہ ڈائری مجھے بہت پسند آئی۔ احمر جو میرا ہم عمر تھا اپنے ابو کی تقسیم سے خوش نہیں تھا۔ اس نے مجھ سے وہ ڈائری چھین لی۔ اور مجھے اپنی ڈائری دے دی جو قدرے پرانی تھی۔ میں نے اس کے بڑے بھائی سے بھی شکایت کی مگر بے سود۔ پھر میں نے اس پرانی ڈائری پر ہی اکتفا کیا۔ اور اس کی تزئین و آرائش میں لگ گیا۔ ساتھ ساتھ غزل تیار ہو رہی تھی۔ جو اس ڈائری کی زینت بنے گی۔ غزل کے کچھ اشعار یوں تھے :
زمانہ بدل گیا کب نجانے کیسے؟
آگے نکل گیا کب نجانے کیسے؟
راہ وفا میں ملنے والا ہر شخص
رستہ بدل گیا کب نجانے کیسے؟
جس پل وہ میرے ہاتھ آیا
ہاتھ سے وہ پل گیا کب نجانے کیسے؟
ہمارے گھر ایک ادبی رسالہ ”ماہ نو“ آتا تھا۔ اس میں میں نے پہلی بار آزاد نظم دیکھی۔ بہت پرکشش محسوس ہوئی۔ مجھے بھی آزاد نظم لکھنی تھی۔ ایک شام میں اپنی بیٹھک میں موجود تھا۔ کبھی صوفے پر بیٹھتا، کبھی قالین پر ٹہلتا اور کبھی پلنگ پر لیٹ جاتا۔ کبھی سر کھجاتا، کبھی چھت کو گھورتا اور ایک آدھ لائن کاغذ پر لکھ لیتا۔ میرا ایک کزن میری حرکات و سکنات کا مشاہدہ کر کے محظوظ ہو رہا تھا۔ اتنے میں ایک آزاد نظم تیار ہو گئی۔ جو مجھے اب یاد نہیں۔
شعر لکھنے کے لیے لاک والی ڈائری تھی۔ غزلوں کے لیے ماموں زاہد والی متنازع ڈائری۔ آزاد نظمیں کہاں لکھی جائیں؟ میں نے اس کی بھی ایک ترکیب نکال لی۔ میں چچا کی شاپ سے رنگین کاغذ لے آیا۔ ماموں کے غیر ملکی میگزینوں سے کور تیار کیے۔ امی سے سوئی دھاگہ لیا۔ اور یوں کئی پاکٹ سائز کی ڈائریاں تیار کر لیں۔
مجھ پر شاعری کا بھوت سوار تھا۔ اٹھتے بیٹھتے، آتے جاتے، گھر اسکول اور رستوں میں غزلوں اور نظموں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ میں دھڑا دھڑ اپنی رنگ برنگی ڈائریوں میں انہیں نوٹ کر لیتا۔ ہر صفحہ ایک نیا رنگ، ایک نئی نظم اور ایک نئی غزل۔ نارنجی رنگ: ”حسن کا لباس۔“ ”چراغوں کا آفتاب تک سلسلہ نہیں ہے۔“ سبز رنگ: ”شڑاپ!“ ”خواب در خواب ہے زندگی۔“ زرد رنگ: ”لب آتش فشاں زمیں پر۔“ ”زیر زنجیر ہے آدمی۔“
کبھی کوئی نظم اڑ جاتی یا کوئی غزل سینگ پھسا لیتی تو میں رات گئے بستر میں کروٹیں بدلتا رہتا۔ یوں اس عمر میں کچھ کچھ بے خوابی کا شکار ہو گیا۔ جس کو میں نے ایک غزل میں بیان کرنے کی کوشش کی:
بظاہر سو رہیں نیند نہیں آئے گی
کتنا کھو رہیں نیند نہیں آئے گی
چیخ و پکار کیا ضروری ہے یہاں بھی؟
خاموش جو رہیں نیند نہیں آئے گی
اور نیند آ بھی جاتی تو خواب میں شاعری لکھ رہا ہوتا۔ دیوان کے دیوان جمع ہو جاتے۔ مگر صبح ہوتے ہی دماغ سے سب محو۔ ایک دن عجیب واقعہ ہوا۔ آنکھ کھلی تو ایک مختصر نظم کے خد و خال ہنوز ذہن میں موجود تھے۔ میں نے انہیں الفاظ کا قالب دیا۔ عنوان لگا کر ڈائری میں لکھ لیا۔ نظم کچھ یوں تھی:
”تبدیلی“
وہ اگر بدل گیا ہے
تو اس کی یاد کیوں آتی ہے؟
اور اس کی یاد یوں آتی ہے
مجھے بدل کر رکھ دیتی ہے
میری اس شاعرانہ سرگرمی کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی۔ میں خود ہی شاعر تھا، خود ہی اپنا قاری اور سب سے بڑھ کر خود ہی اپنا نقاد۔ ایک سخت ناقد۔ جو کچھ میں لکھتا تھا اس کا نصف غیر معیاری سمجھ کر ضائع کر دیتا۔ میں ایک پرفیکشنسٹ تھا۔ اپنے زعم میں میں اپنا ”کلام“ اکٹھا کر رہا تھا۔ اس بات کا آج مجھے افسوس ہوتا ہے۔ در حقیقت میں اس وقت کے بہت سے نقوش کو ضائع کر بیٹھا ہوں۔
میٹرک کی چھٹیوں میں میں ایک ماہ کے لیے اپنے تایا ابو کے گھر راولپنڈی چلا گیا۔ میری زنبیل میں ہاتھ سے بنائی ہوئی بہت سی ڈائریاں تھیں۔ ہر فکر سے آزاد۔ صرف ایک شاعری کے غم میں غلطاں۔ پابلو نیرودا کی طرح نظمیں مجھ سے مکھیوں کی طرح چپکی رہتیں : ”کتنے احمق ہیں دنیا والے!“ ”نیند کی سیاہی میں۔“ ”چلے ہوا، سانس۔“ دھول اڑ رہی ہے۔ ”ہر ڈائری چند ہی صفحات پر مشتمل ہوتی۔ ایک بھر جاتی تو دوسری نکل آتی۔
کالج کے زمانے میں بھی شعر و شاعری جاری رہی۔ لیکن ایف ایس سی کی پڑھائی کی وجہ سے کافی حد تک کم ہو گئی۔ میں ان دنوں لاہور جانے کے خواب دیکھتا تھا۔ مجھے توقع تھی کہ ملک کے ثقافتی مرکز میں جا کر مجھے دوسرے لکھاریوں سے راہ و رسم قائم کرنے کا موقع ملے گا۔ کوئی بعید نہیں کہ شاعری کا اپنا کوئی مجموعہ شائع کرا لوں۔
مگر سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ میں اعلی تعلیم کے لیے لاہور تو آ گیا۔ مگر یونیورسٹی کے زمانے میں شاعری نہ ہونے کے برابر ہو گئی۔ اب میرا واسطہ زندگی کی حقیقی شاعری سے پڑا۔ لیکچروں کے بدلتے ہوئے قافیے، میس کے ایک ہی طرح کے کھانوں کی ردیفیں۔ ہاں کچھ آزاد نظمیں بھی تھیں : موقع دیکھ کر ایک دوست کے ساتھ بس پر پرانے شہر کی سیر کو نکل جاتا۔
زندگی پے در پے تبدیلیوں سے گزرتی رہی۔ تعلیم کے بعد شادی، شادی کے بعد بچے۔ سوچتا ہوں کہ وہ بچپن اور شاعری کہاں رہ گئے؟ شاعری کی ناراض محبوبہ کو تو کسی طرح منانے کا جتن کر لوں۔ لیکن وہ بچپن کا ساون کہاں سے لاؤں جو مجھ پر برس کے گزر گیا۔ صرف اس کی کچھ یادیں بچی ہیں جو یاداشت کی رنگین ڈائریوں میں محفوظ ہیں۔


