ان کو کس سے خطرہ ہے؟


جو رکھوالے ہیں وہی غیر محفوظ ہیں، ان کے اہلِ خانہ غیر محفوظ ہیں، ان کی سیکورٹی کے لئے ملازمین ہمہ وقت ہوشیار باش رہتے ہیں۔

کل ایک منظر دیکھا، میزان بینک کے باہر ایک بلیک کلر کی لینڈ کروزر آ کر رکتی ہیں، جس کی نمبر پلیٹ سبز ہے۔ ایک مستعد پولیس اہلکار اگلا دروازہ کھول کر اترتا ہے، بھاگتا ہوا سیڑھیاں چڑھتا ہے، اے ٹی ایم مشین والا کمرہ چیک کرتا ہے، پھر بھاگتا ہوا نیچے اترتا ہے، مستعدی سے پچھلا دروازہ کھولتا ہے، ایک محترم خاتون اتر کر اے ٹی ایم مشین کی جانب بڑھتی ہیں، اہلکار ان کے ساتھ ساتھ ہے۔ اہلکار کمرے کا دروازہ کھولتا ہے، خاتون اے ٹی ایم مشین والے کمرے میں داخل ہو جاتی ہیں، اہلکار مستعدی سے کمرے کے باہر پہری دیتا ہے۔ خاتون باہر نکلنے کے لئے دروازہ کھولتی ہیں، اہلکار تیزی کے ساتھ دروازہ تھام لیتا ہے، اور خاتون کے ساتھ واپس گاڑی میں سوار ہو جاتا ہے۔ گاڑی انتہائی تیزی کے ساتھ گھوم کر جی ٹی روڈ پر رواں دواں ہو جاتی ہے۔

یہ تمام جزئیات ذہن کے ساتھ چپک کر رہی گئی ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں؟ ان کو کس سے خطرہ ہے؟ ان کو اتنی شاندار سیکورٹی اور پروٹوکول کس لئے دیا جاتا ہے؟

یہ لعنت نما استحقاقی و پروٹوکولی سسٹم کب ختم ہو گا؟ سیاستدان کو ہر کوئی گالی نکالتا ہے، جی بھر کر کوستا ہے، کیونکہ یہ آسان ترین ہدف ہیں، لیکن یہ تو دورانِ اقتدار مزے اٹھاتے ہیں، لیکن یہ نام نہاد قومی ملازمین ”بیوروکریسی“ تا حیات پرلطف زندگی کے مزے اڑاتے ہیں۔

جناب محمد اظہار الحق صاحب نے اپنے آج کے کالم میں ایک جملہ لکھا ہے، اکثر بیوروکریٹس یہ جملہ اکثر بولتے ہیں، ”میں جب ڈپٹی کمشنر تھا“ ۔ اس تمہیدی جملے سے وہ اپنا شاندار ماضی بیان فرماتے ہیں۔ جس کا کوئی حاصل حصول نہیں، نہ اس ملک کے لئے نہ نظام کے لئے۔ بس ایک خود نمائی ہے۔

آج کل بیوروکریٹس کتابیں بھی خوب لکھ رہے ہیں، اس میں بھی ذاتی و خاندانی مدح سرائی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔

جب تک استحقاق، استثنا، پروٹوکول ختم نہیں ہوں گے ، مفت بریاں ختم نہیں ہوں گی ، اس اشرافیہ کے اللے تللے چلتے رہیں گے اور ہم غریب عوام لُٹتے پِستے رہیں گے۔

 

Facebook Comments HS