بابر کی واپسی اور معرکہ نیوزی لینڈ
پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ ٹی ٹونٹی سیریز 2۔ 2 سے برابر رہی۔ پانچ میچوں کی سیریز کا ایک میچ بارش کی نظر بھی ہوا۔ معزولی کے بعد بطور کپتان بابر اعظم کی پہلی سیریز تھی۔
یہ سیریز اس لیے بھی نہایت اہم تھی کہ نیوزی لینڈ نے اپنی بی ٹیم کو پاکستان بھیجا کیونکہ اس کے سب نامور کھلاڑی آئی۔ پی۔ ایل کھیل رہے تھے۔
پاکستان کی جانب سے اس سیریز میں عماد وسیم اور محمد عامر کی واپسی ہوئی۔ دونوں کھلاڑیوں نے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے کر پاکستانی ٹیم کے لیے اپنی دستیابی ظاہر کی۔
اگر پاکستانی کھلاڑیوں کی پرفارمنس کی بات کی جائے تو بیٹنگ میں پاکستان کی جانب سے بابر اعظم نے 4 میچز میں 125 رنز سکور کیے۔ جس میں ایک ففٹی بھی شامل ہے۔
اگر بالنگ کی بات کی جائے تو شاہین آفریدی نے 4 اننگز میں 8 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
اسی طرح پاکستان کے نوجوان بلے باز صائم ایوب نے 4 اننگز میں 14 کی اوسط سے صرف 57 رنز اسکور کیے۔ انہیں پاکستانی ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کے لیے آنے والے میچز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ جیسے انہوں نے پی ایس ایل میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا ہے۔
اگر سب سے مایوس کن کارکردگی کی بات کی جائے تو افتخار احمد کی ہے جنہوں نے 3 اننگز میں 15 کی ایوریج سے محض 31 رنز اسکور کیے۔ وہ مڈل آرڈر بیٹسمین کے طور پر کھیلتے ہوئے بطور بلے باز مسلسل کارکردگی دکھانے سے قاصر نظر آ رہے ہیں۔
افتخار احمد کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے محمد حارث ایک بہتر متبادل کھلاڑی نظر آتے ہیں جن کو پاکستان کے دورے نیوزی لینڈ کے موقع پر ریسٹ دے کر ڈراپ کیا گیا تھا۔ اب ان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ محمد حارث ہی تھے جنہوں نے 2022 کے ورلڈ کپ میں اپنی نپی تلی کارکردگی سے پاکستان کو ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جو مڈل آرڈر میں جارحانہ انداز سے بیٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے کھلاڑیوں کی ٹیم میں موجودگی ضروری ہے۔
پاکستان ٹیم کی اوپننگ، بالنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں مضبوط نظر آ رہے ہیں۔ مڈل آرڈر کے مسائل کو جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی ورلڈ کپ سے قبل دو سیریز شیڈول ہیں۔ آئر لینڈ اور انگلینڈ کے ساتھ۔ پاکستان کے ورلڈ کپ کے اسکواڈ کا اعلان آئندہ ایک سے دو روز میں ہو جائے گا۔ پاکستان کو جون میں ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیم کا اعلان کرنا چاہیے۔ آئرلینڈ سے سیریز کا آغاز 10 مئی سے ہونے جا رہا ہے۔

