سندھ اور پنجاب میں ترقی کا فرق
سندھ میں گزشتہ پندرہ سالوں سے حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہی رہی ہے۔ اس پورے عرصے میں ترقیاتی کام کتنے کروائے ہیں اور ماڈل سٹی کتنے بنائے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ کو ہر شہر کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔ جس شہر کو دیکھ لیں وہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے اور اس میں کہیں بھی ہمیں ترقی نظر نہیں آتی ہے اور الٹا ہر شہر کی مین شاہراہیں ہی دیکھ لیں لگے گا کہ جو پندرہ سال پہلے بنی تھیں بس وہ ہی بنی ہیں جس کی وجہ سے ان کی حالت زار ہو گئی ہے اور ہمارے سندھ کے وزرا ایک ہی بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ سندھ ترقی میں اول نمبر پر ہے۔
سندھ کے کسی بھی شہر کو آپ دیکھیں لیں اس کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہوں گی۔ سڑکوں پر ڈرینج کا پانی کھڑا نظر آتا ہو گا اور درختوں کی بات کی جائے تو وہ تو نام کے لئے بھی نہیں ہیں۔ گرمی کا موسم ہوتا ہے۔ اس میں درخت انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔ مگر سندھ کے کسی بھی شہر میں ہمیں درخت نظر نہیں آئیں گے اور اور جو تھوڑے بہت ہیں۔ ان کو افسر شاہی خود اپنی نگرانی میں کٹواتے ہیں اور پھر اس کے بعد موسم بہار میں فوٹو سیشن کے لئے درخت لگاؤ شہر سنوارو کے نام پر ایک مہم چلائی جاتی ہے۔
اگر درخت لگانے کی مہم چلانی ہی ہوتی ہے تو پھر جو پہلے لگے ہوئے درخت ہیں ان کو کیوں کٹواتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں پر قانون کی پاسداری نظر نہیں آتی ہے جس کی وجہ سے ہر کوئی کھلے بیل کی طرح چلتا پھر رہا ہے۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ وہ ہے صحت کی سہولیات بہت ہی اچھی دی ہیں۔ مگر اس میں بھی جو نیچے کا عملہ ہے۔ اس نے حکومت کی کارکردگی کو ضرب کا نشان لگا دیا ہے کیونکہ این آئی سی وی ڈی اسپتال جائیں خصوصی طور پر رات کے اوقات میں تو آپ کو ایمرجنسی کے نام پر دو دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ مریض کو دیکھنے میں جب تک شاید وہ مریض اللہ کو پیارا ہی ہوجاتا ہو گا۔ اس پر اسپتال انتظامیہ کا کوئی دھیان نہیں رہتا جس کی وجہ سے حکومت کے اس ایک اچھے اقدام پر بھی ضرب لگ جاتی ہے جس پر حکومت سندھ کے وزرا کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
اسی طرح اگر بات کی جائے سڑکوں کی تعمیر کی تو حالت یہ ہے کہ ایک سڑک آٹھ آٹھ ماہ تک کنڈر بنی ہوئی ہوتی ہے اور اللہ اللہ کر کے افسران کو اس کا بنانے کا خیال آ جاتا ہے تو ایک ماہ لگتا ہے۔ اس کو بننے میں اور پھر جب وہ بن جاتی ہے تو پھر پانچ دن کے بعد سوئی گیس والوں کو خیال آتا ہے کہ اس سڑک سے تو گیس پائیپ لائن خراب تھی۔ اس کو بھی بنانا ہے اور پھر اس کو دوبارہ کھودا جاتا ہے اور یوں اس نئی بنی سڑک کا خانہ خراب ہوجاتا ہے۔ دس دن کے بعد پھر پی ٹی سی ایل والوں کو خیال آتا ہے کہ اب لائن بچھانی ہے۔ مطلب کہ کسی کو کسی بھی چیز سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور یوں وہ نئی بنی ہوئی سڑک دوبارہ کھنڈر بن جاتی ہے۔
میری اس حوالے سے ایک افسر سے بات ہوئی تھی جس نے آف دی رکارڈ بتایا کہ ٹھیکیدار سے لے کر افسر تک سب ملے ہوتے ہیں۔ کمیشن ملتا ہے اور یوں پھر دوبارہ پی سی بنتی ہے پھر فزیبلٹی رپورٹ بنتی ہے اور ایسے میں ایک کلو میٹر کی سڑک تعمیر کرنے پر نا صرف محکمہ شاہراہ جات کماتا ہے بلکہ دیگر محکمے بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ اب کرتے ہیں۔
سندھ میں منشیات کی فروخت کی بات۔ سندھ کا کوئی ایسا شہر نہیں ہے جس میں مین پوری، گٹکہ، سفینا، زید 21، آئس، ہیروئین، چرس، بھنگ کچی شراب وافر مقدار میں ہر شہر میں ملتی ہے اور اس کے لئے ٹاسک فورس بھی بنائی گئی ہے۔ مگر اس نے بھی تاحال کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں دیے ہیں۔ الٹا ہر چیز مہنگی ہوئی ہے جو چیز دس روپے کی مل رہی تھی۔ وہ اب پچیس روپے کی مل رہی ہے۔ مگر بند نہیں ہوئی ہے اور یہ ہر ایک کو پتا ہے۔ یہ سب نشے پولیس کی سرپرستی میں چلتے ہیں اور ہر ایک کیبن سے بھاری بھتہ وصول کیا جاتا ہے جس میں پولیس والے تو ہر حال میں شریک ہوتے ہیں بلکہ جس جس شہر میں یہ منشیات فروخت ہوتی ہے۔ وہاں کے صحافی حضرات بھی شریک ہوتے ہیں جو بھتہ لے کر خبروں کو دبا دیتے ہیں اور یوں یہ منشیات تو بند نہیں ہوتی ہاں بھتہ بڑھ جاتا ہے اور قیمتیں زیادہ ہوجاتی ہیں۔ مگر منشیات بند ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
اب کچھ ایک ڈیڑھ ماہ سے اینٹی نارکوٹکس کی وزارت شرجیل انعام میمن کو ملی ہے اور اس نے سختی سے اقدام اٹھانا شروع کر دیے ہیں کہ سندھ کو منشیات سے پاک کیا جائے گا اور اس پر کارروائیاں بھی تیز کردی گئی ہیں۔ مگر تاحال مکمل طور پر پابندی عائد نہیں ہو سکی ہے اور تمام کیبن پر ابھی بھی منشیات بک رہی ہے۔
پاکستان کی سب سے زیادہ بجلی سندھ سے جنریٹ ہوتی ہے اور سندھ میں ہی لوڈشیڈنگ کا عذاب جاری ہے۔ پنجاب کے دو شہروں سے میں نے معلوم کیا جس میں ایک خانیوال اور دوسرا فیصل آباد تھا۔ وہاں کے لوگوں سے معلوم کیا تو پتا چلا کہ پنجاب کے تقریباً ہر شہر میں زیرو لوڈشیڈنگ ہے۔ کبھی کبھی بجلی بند ہوتی ہے۔ اس کی وجہ صرف مینٹننس کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک منٹ کے لئے بھی بجلی نہیں جاتی۔
ادھر سندھ میں مین مین شہروں میں 12 سے 14 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جب کہ دیہی علاقوں میں تو 18 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے۔ جہاں سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ وہاں پر کے باسی بجلی کے لئے ترستے ہیں اور جہاں پر بجلی پیدا ہی نہیں ہوتی وہاں پر زیرو لوڈشیڈنگ ہے۔
تعلیم کی بات کی جائے تو سندھ اور پنجاب کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پنجاب میں تعلیم پر خاص دھیان دیا جاتا ہے۔ مگر سندھ میں نہیں جس کی وجہ سے پنجاب اور سندھ کی تعلیم میں واضح فرق نظر آتا ہے۔
اب آتے ہیں۔ پنجاب کی طرف جہاں پر سڑکیں کشدہ اور بنی ہوئی ہیں۔ گاڑی تیز رفتاری کے ساتھ آسانی سے جا سکتی ہے۔ ہر طرف سرسبز پنجاب نظر آئے گا۔ میرا کچھ دن قبل اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں کو جانا ہوا جہاں پر ہر طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آئی کہیں پر بھی مجھے ایک کیبن راستے میں نظر نہیں آیا۔ قانون پر عملدرآمد بھی اچھے طریقے سے نظر آیا جس سے لگ رہا تھا کہ پنجاب صوبے کے وزرا کام کرتے ہیں۔ ہر سڑک درختوں سے بھری ہوئی نظر آئی اور ہریالی کی وجہ سے آنکھوں کو ٹھنڈک محسوس ہو رہی تھی۔
پنجاب کے تقریباً پانچ چھ شہروں میں تو میرا بھی جانا ہوا اور وہاں پر ایک کیبن نام کی بھی نظر نہیں آئی اگر کہیں بھی ایک آدھ نظر آئی بھی تو معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہاں پر منشیات پر سختی سے پابندی ہے اور اگر کسی کیبن پر منشیات بکتی نظر آئی تو اس کیبن والے پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے منشیات لینا انتہائی مشکل تھا اور اسی طرح اگر سندھ میں دیکھیں تو ایک چوراہے پر پانچ پانچ کیبن نظر آئیں گے اور سب کے سب پر منشیات سرعام بکتی نظر آتی ہیں۔ اس پوری صورتحال سے لگ یہ رہا ہے کہ پنجاب میں قانون کی رٹ موجود ہے اور وہاں کے لوگ قانون سے ڈرتے بھی ہیں اور سندھ میں قانون کی رٹ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے سندھ کے لوگ قانون سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا پنجاب میں قانون کا خوف ہے۔ یہ ہی وجہ سے کہ سندھ اور پنجاب میں منشیات فروخت ہونے کا واضح فرق نظر آیا۔

