کسانوں کا احتجاج
پاکستان جس کو زرعی ملک قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں انگریزوں کا وضع کردہ شاندار نہری نظام موجود ہے۔ جس میں وادی سندھ کی زرخیز زمینیں واقع ہیں۔ پنجاب انگریزوں کے دور میں اناج گھر کے طور پر مشہور رہا ہے اور جنگ عظیم اوّل اور دوئم میں اتحادی افواج کو غلہ مہیا کرتا رہا ہے۔ اس وقت پنجاب کا کسان کسمپرسی کا شکار ہے۔ ہم خود کفیل ہونے کی بجائے گندم، تیل دار زرعی اجناس وغیرہ باہر سے منگوا رہے ہیں جس پر قیمتی زر مبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔ آج بھی اگر کسان کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے۔ اس کی محنت اور خون پسینے سے تیار پیداوار کا مناسب معاوضہ ملے تو پاکستان نہ صرف خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ اناج اور دوسری زرعی اجناس برآمد کر کے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
اس سال کسان کی گندم کی ایک بمپر فصل آ چکی ہے مگر ابھی تک پنجاب گورنمنٹ نے سرکاری نرخوں پر اس کو خریدنے سے انکار کیا ہوا ہے۔ جس سے کسان کی گندم انتہائی کم نرخوں پر اٹھائی جا رہی ہے۔ پرائیویٹ مارکیٹ میں کسان کی گندم لینے والا خرید دار نہیں ہے۔ مافیا سستے داموں یہ گندم خرید کر سٹاک کیے جا رہا ہے اور جیسے ہی کسان کے پاس سے گندم چلی جائے گی اس کا ریٹ پھر بڑھ جائے گا۔ یہ کسانوں کے ساتھ کھلم کھلا زیادتی ہے اس سے اس کی جو حوصلہ شکنی ہو رہی ہے اور وہ اگلی بار یہ فصل کاشت کرنے سے اجتناب کرے گا۔ اور ہمیں پھر سے زرعی اجناس باہر سے منگوانا پڑیں گی اور شاید مافیا بھی یہی چاہتا ہے۔
ایسی صورتحال کیسے پیدا ہوئی کہ اس دفعہ کسان کی گندم رل رہی ہے۔ کسانوں کے ساتھ یہ واردات پرائیویٹ مافیا نے نگران دور حکومت میں کی۔ اس دور کی سیاسی قیادت اور بیوروکریسی اس میں ملوث ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کو لاکھوں ٹن گندم باہر سے منگوانے کی اجازت دی گئی جب اپنے پاس گندم کا وافر سٹاک موجود تھا۔ امپورٹڈ گندم کے بھرے ہوئے جہاز اس وقت بھی لنگر انداز ہو رہے تھے جب سندھ میں گندم کی پیداوار آ چکی تھی۔ امپورٹڈ گندم باہر سے منگوانے کے لئے ٹی سی پی یا پاسکو کی بجائے پرائیویٹ مافیا کو کھلم کھلا چھٹی دی گئی۔
اس میں اربوں روپے بنائے گئے یہ وہی اربوں روپے ہیں جو کسان کا جائز معاوضہ تھا جس سے لاکھوں کسانوں کو تو محروم کر دیا گیا اور لاکھوں کسانوں کا یہ جائز معاوضہ چند سرمایہ رکھنے والے لوگوں کی جیبوں میں چلا گیا۔ مختلف ذرائع کے مطابق یوکرین سے منگوائی گئی گندم فلور ملز کو بیچی گئی اور محکمہ فوڈ کی گندم اٹھائی ہی نہیں گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نگران دور میں گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دینے پر کوئی انکوائری کمیشن بھی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
مگر اس کمیشن نے ان طاقتور افراد کے خلاف کیا کوئی ایکشن لے پانا ہے جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔ گندم کی امپورٹ کی اجازت دینے والے نگران وزیراعظم، نگران وزیر تجارت، نگران وزیر فوڈ سیکورٹی، نگران وزیر خزانہ یہ تمام طاقتور لوگ ہیں۔ اس وقت گنے کے کاشتکاروں کے اربوں روپے شوگر ملوں نے دبائے ہوئے ہیں۔ شوگر ملوں پر تحریک انصاف کے دور میں ہاتھ ڈالا گیا تھا اور پی ٹی آئی نے کسانوں کو بروقت رقم ادائیگی کے لئے کافی سختی سے کام لیا تھا۔
کین کمشنر کو کافی اختیارات دیے گئے تھے مگر اب کسان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومتی ارکان اسمبلی بھی پریشان ہیں وہ اس وقت اپنے حلقوں میں جانے سے ڈرتے ہیں جہاں ان کے ووٹرز کسان ان سے باردانہ مانگتے ہیں۔ مگر پنجاب گورنمنٹ اپنے ان ایم پی ایز کے پرزور اصرار پر بھی گندم کئی خریداری شروع نہیں کر رہی ہے کیونکہ بیوروکریسی نے چیف منسٹر اور ان کی کچن کیبنٹ کو ڈرایا ہوا ہے کہ اگر گندم خریداری کے لئے بنکوں سے قرض لیا گیا تو بلند شرح سود کی وجہ سے حکومت کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ تاہم اس وقت پنجاب میں ایک سیاسی حکومت ہے اگر اس نے گندم خریداری نہ کی تو نہ صرف کسان کا دیوالیہ نکلے گا اس حکومت کا بھی سیاسی دیوالیہ نکل جائے گا۔


