میاں بیوی کی ذہنی ہم آہنگی اور بھنڈی توری


ہمیں رات آٹھ بجے کا وقت دیا گیا تھا اور ہم ٹھیک آٹھ بجے پہنچ گئے۔ میں نے زندگی میں ایک ہی بارات کو وقت پر پہنچتے دیکھا ہے اور اس بارات کا دولھا میں تھا۔ گاڑیاں رکیں، ہم اترے تو کسی کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ ”آپ آ گئے ہیں، ہمارا خیال تھا کہ دس بجے آئیں گے“ والد صاحب نے کہا ”آپ نے آٹھ بجے کا ٹائم دیا تھا، آٹھ بجے کا مطلب دس بجے نہیں ہوتا ہے“ زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ وقت پر پہنچ گیا ہوں اور لیکچر بھی نہیں دینا ہے۔

ورنہ جب میں وقت پر نہیں پہنچتا ہوں تو لیکچر سننا پڑتا ہے۔ درس و تدریس سے وابستہ لوگوں کو پہلی بار تاخیر سے پہنچنے کی اہمیت معلوم ہوئی۔ اس موقع پر جو مس انڈر سٹینڈنگ ہوئی بعد میں ساری زندگی انڈر سٹینڈنگ پیدا کرتے گزر گئی۔ شادی کا مرحلہ عام شخص موافق حالات کے نتیجے میں ایک بار اور نا موافق حالات کی وجہ سے ایک سے زائد بار طے کرتا ہے۔ ایک دن کی بارات میں مرکزی حیثیت ساری زندگی بھگتنا پڑتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جب بارات کو کئی دن تک ٹھہرایا جاتا تھا۔

ہر روز دلھن کے کسی رشتہ دار کی طرف سے کھانا ہوتا تھا۔ ہفتہ بھر ٹھہرنے کے بعد باراتیوں کو گھر یاد آتا تھا۔ اب صرف چند گھنٹوں کے لیے دولھا بننے والے زمانۂ قدیم کے دولھا کو صرف رشک کی نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں۔ شادی ہال میں گھنٹوں کے حساب سے بکنگ ہوتی ہے۔ فی گھنٹا ہزاروں، لاکھوں کی ادائیگی کے خدشے سے طعام اور رخصتی کا جلد از جلد اہتمام کیا جاتا ہے۔

شادی کے ابتدائی ایام خوش گوار یادوں سے عبارت ہوتے ہیں۔ پہلی بار اپنی اہمیت اور دوسرے کی قیمت کے تعین کا موقع ملتا ہے۔ ان دنوں ذہنی ہم آہنگی کے محیر العقول واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔ ایک دوست کی شادی ہوئی، اس نے پہلے ہفتے ہی کہ دیا۔ ”میں سوچ نہیں سکتا ہوں کہ دنیا میں میاں بیوی کے مابین اتنی ذہنی ہم آہنگی ہو سکتی ہے، جنتی ہم دونوں میں ہے“ میں نے اسے غور سے دیکھا اور کہا ”چھ ماہ بعد اس موضوع پر دوبارہ بات ہو گی۔“

وہ بھول گیا، لیکن میں نے یاد رکھا۔ چھ ماہ سے پہلے ہی ایک دن میں نے پوچھا ”سناؤ، ذہنی ہم آہنگی کی کیا صورت ہے؟“ بے ساختہ کہنے لگا، ”بالکل بندریا ہے، عقل نام کی کوئی شے قریب سے چھو کر نہیں گزری ہے۔“ میں نے کہا، ابتدا میں ایک دوسرے کو سپیس دیتے ہیں اور دوسرے کے احترام میں عمومی باتوں پر صاد کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ اپنے گزشتہ مزاج میں لوٹتے ہیں تو ایک دوسرے میں خرابیاں نظر آتی ہیں۔ وہ بہت نالاں تھا۔

میں نے اسے تسلی دی اور کہا ”جلد معاملات ٹھیک ہو جائیں گے اور اگر نہ بھی ٹھیک ہوئے تو تم عادی ہو جاؤ گے۔ مجھے دیکھو، ہمارے مابین کیسی ذہنی ہم آہنگی ہے، شادی کے ابتدائی دنوں میں ہم کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہوا ساکت تھی، وقت ٹھہرا ہوا تھا، خاموشی محو کلام تھی۔ میں نے کہا“ کوئی بات کرو ”کہنے لگی“ آج بھنڈی توری کیسی بنی ہے؟ ”دوست! شادی بھنڈی توری کا ذائقہ ہے، اس سے موافقت پیدا ہو جائے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ اور سنو! ایک دن بیٹے کو کھانسی تھی۔ میں نے چمچ اور سیرپ اسے دیتے ہوئے کہا کہ بچے کو پلا دو۔ اس نے شیشی میرے ہاتھ سے پکڑی اور اس کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گئی۔ خفا ہو کے بولی“ دیکھا، توڑ دی نا ”۔ شرمندگی اور خجالت سے میں کرچیاں چننے لگا۔ وہ مجھے ہاتھ زخمی ہونے کے خدشے کے تحت کرچیوں کو اکٹھا کرنے کی ہدایات دیتی رہی۔

دوست! ہم آہنگی پیدا کرو، تم ابھی نئے نئے اس فیلڈ میں آئے ہو، یہاں کھیل کے رولز بدلتے رہتے ہیں۔ سیکھ جاؤ گے، وقت لگتا ہے۔ ہر کوئی ماہر تھوڑی ہوتا ہے، ہم آہنگی کا فن آسانی سے ہاتھ نہیں آتا ہے۔ اس فن میں ہزارہا تجربات کے باوجود مہارت کی گنجائش رہتی ہے۔

 

Facebook Comments HS