کرکٹ: جسے پیا چاہیے وہ ہی سہاگن
پاکستان کی کرکٹ ٹیم شاید دنیا کی وہ واحد کرکٹ ٹیم ہے جس کے بارے میں آپ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اس میں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مسلسل کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی بنا کسی وجہ کے ٹیم سے باہر ہو سکتے ہیں اور کھلاڑی ٹیم کا حصہ بن سکتے ہین جنہوں نے چار پانچ سال پہلے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہو۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی نے آئر لینڈ اور انگلینڈ کے دورے کے لیے پاکستان کی 18 رکنی کرکٹ ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جس میں بابر اعظم ( کپتان ) ، ابرار احمد، اعظم خان، فخر زمان، حارث روف، حسن علی، افتخار احمد، عماد وسیم، عباس آفریدی، محمد عامر، محمد رضوان، عرفان خان، نسیم شاہ، صائم ایوب، آغا سلمان، شاداب خان، شاہین آفریدی اور عثمان خان شامل ہیں اس ٹیم کو دیکھنے کے بعد ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے یہ ٹیم نہ ہو بلکہ میرٹ کا جنازہ ہو۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن پر ہمیشہ ہی سوالیہ نشان رہے ہیں مگر ایسے محسوس ہوتا ہے اس بار جس ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے اس نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس ٹیم میں بہت سے ایسے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جن کی حالیہ پرفارمنس ایسی نہیں کہ وہ ٹیم کا حصہ بن سکیں۔
جب بھی ورلڈ کپ نزدیک آتا ہے حسن علی کی سوئی ہو قسمت بھی جاگ جاتی ہے حسن علی جن کی حالت کارکردگی بالکل بھی قابل ذکر نہیں وہ ایک بار پھر پاکستان کی ٹیم کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئے ہیں جب کہ تیز گیند باز محمد علی جنہوں نے حالیہ پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کی جانب سے کھیلتے ہوتے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور ٹورنامنٹ میں اسامہ میر کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور پچھلے چار سال سے قائداعظم ٹرافی کے بہترین گیند باز کے طور پر سامنے آئے ان کو ایک بار پھر نظر انداز کر دیا گیا۔
پاکستان سپر لیگ کی پرفارمنس کی بنیاد پر عثمان خان کو تو ٹیم میں شامل کر لیا گیا جو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سسٹم کا حصہ بھی نہیں تھے مگر وہیں پر صاحبزادہ فرحان جو مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ایک بار پھر نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔
چار سال بعد ریٹائرمنٹ واپس لینے والے محمد عامر کی نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں کارکردگی کوئی قابل ذکر نہیں تھی وہ 3 میچوں میں 62 رنز کے عوض صرف 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر سکے مگر ان کی اس مایوس کن کارکردگی کے باوجود ان کو ایک بار پھر پاکستان کی کرکٹ کے اسکواڈ میں جگہ مل گی جبکہ دوسری طرف پاکستان سپر لیگ کے سب سے بہترین گیند باز اسامہ میر جنہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والے آخری ٹی 20 میچ میں پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا وہ پاکستان کے اسکواڈ میں جگہ برقرار نا رکھ سکے۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی اس سلیکشن کو دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ٹیم ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر منتخب کی گئی ہے اور اس میں میرٹ کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ کچھ کھلاڑیوں کو اگر پاکستان سپر لیگ کی کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے تو وہیں پر ان کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے جن کی پاکستان سپر لیگ میں کارکردگی سب سے بہترین تھی۔ محمد عامر جیسے کھلاڑی کو بنا کسی کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے مگر میر حمزہ جو ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ شاید جس کو پیا چاہیے وہ ہی سہاگن والی مثال پاکستان کرکٹ اور اس کی سلیکشن کمیٹی کے لیے ہی بنائی گئی ہے۔
اگر پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن صرف پاکستان سپر لیگ کی کارکردگی کی بنیاد پر ذاتی پسند نا پسند پر ہونی ہے تو پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کروانے کا کیا فائدہ

