پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے ۔ ضرب المثل اور سیاست


کہتے ہیں ایک غریب لڑکا صبح کے وقت بازار دودھ لینے گیا۔ وہاں پر ایک سنار کا دکان دیکھا۔ تو اسے یہ کہاوت یاد آئی کہ ”پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے“ ۔ غربت کا مارا سوچنے لگا چلیں آج پیسے سے میں بھی پیسہ کھینچتا ہوں۔ اس دکان کے پاس گیا اور دودھ لینے کے پیسے ہاتھ میں لے کے دکان کے دروازے کے سوراخ میں داخل کرتا، کچھ دیر بعد نکالتا اور دیکھتا کہ دکان سے کچھ پیسے کھینچے ہیں کہ نہیں۔ ظاہر ہے کیسے کھینچتا۔

ایسا بار بار ایسا کرتا رہا۔ پھر اس کے اپنے پیسے ہی ہاتھ سے گر کر دکان کے اندر چلے گئے۔ اب روتا پیٹتا کبھی ایک طریقہ اور کبھی دوسرا طریقہ آزماتا رہا مگر اپنا پیسہ ہی نکالنے میں ناکام رہا۔ ایسا کرتے کرتے کافی وقت گزر گیا۔ تو اتنے میں دکان کا مالک اگیا۔ اس نے جب دیکھا تو حیران ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ اس لڑکے سے پوچھا بھئی کیا ہو رہا ہے۔ لڑکے نے بتایا کہ لوگ کہتے ہیں پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ تو میں نے اس دکان سے پیسے کھینچے کے لیے اپنا پیسہ اندر کر دیا کہ یہ اس دکان سے پیسہ کھینچ لے گا مگر یہاں تو میرا والا ہی دکان میں گر گیا۔ اب واپس نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

دکاندار مسکرایا اور بولا کہ تم نے ٹھیک ہی سنا ہے اور ایسا ہی ہے۔ مگر تم نے غلط سنا ہے۔ اصل میں یہ بات ایسی ہے کہ زیادہ پیسہ ہی پیسے کو کھینچتا ہے۔ اور دیکھا تم نے میرے دکان کے زیادہ پیسوں نے تیرا کم پیسا کھینچ لیا۔

یہ حکایتیں اور کہاوتیں ویسے ہی نہیں ہوتی اس کے پیچھے تجربہ مشاہدہ اور بہت کچھ ہوتا ہے۔ اور ایسی حکایتیں اور کہاوتیں آفاقی ہوتی ہیں۔ جو زندگی کے ہر ہر شعبے میں وقوع پذیر ہوتی ہیں اور ریاضی کے مساوات کی طرح ہی ہوتی ہیں۔

زندگی کے تمام شعبوں کی نسبت سیاست کا میدان بہت ہی وسیع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام انسان خواہ کسی بھی ملک، قوم، طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ کچھ بنیادی ضروریات کے کمی بلکہ عدم دستیابی کا رونا روتے ہیں۔ تو کچھ لوگ تعیشات کا رونا روتے ہیں۔ کچھ حقوق کا رونا روتے ہیں۔ ایسے میں سیاست وہ میدان ہے جہاں سے اپنی تشنگیوں کا ازالہ کرنے کی جد و جہد مہذب دنیا میں نہ صرف تسلیم شدہ ہے اور داد و تحسین کی قبولیت بھی حاصل ہے۔ اور ہر کوئی بلا واسطہ یا بالواسطہ اس میں ملوث ہے۔

ہر قوم اور طبقہ کے مخصوص مفادات اور ترجیحات ہوتی ہیں جس کے لیے وہ اپنی اپنی سیاسی پارٹیاں تشکیل دیتے ہیں اور اس کے پلیٹ فارم سے جد و جہد کرتے ہیں۔ جتنا مقصد بڑا ہوتا ہے اتنا ہی منزل دور اور جدوجہد کٹھن ہوتی ہے۔

حصول اقتدار ہو یا حصول مقصد ہر سیاسی پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ کامیاب ہو جائے۔ اور چونکہ سیاست بنیادی طور پر افراد کی حمایت اور امداد کا مرہون منت ہے۔ اس لیے ہر پارٹی زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حمایت کی کوشش کرتی ہے۔ تاکہ انتخابات ہوں کہ کوئی تحریک اسے کامیاب بنایا جا سکے۔

اکثریت ممالک بشمول پاکستان میں سیاست کثیر الجماعتی بنیادوں پر استوار ہے، اس لیے کسی بھی پارٹی کو اس کی خواہش اور ضرورت کے مطابق اکثریت اور حمایت حاصل ہونا ممکن نہیں رہتا۔ اور ان کو ہر وقت ایک دوسروں کی حمایت اور امداد کی ضرورت رہتی ہے۔

ایسے میں سیاسی پارٹیاں وقتی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت یا جماعتوں کے ساتھ مل کے کبھی حکومت بنانے کے لیے اور کبھی احتجاجی تحریک چلانے اور دباؤ ڈالنے کے لیے اتحاد کرتی ہیں۔ اگرچہ ایسے تمام اتحادوں کا بنیادی مقصد اقتدار کے ایوان تک سیدھا یا انگلی ٹیڑھی کر کے ہی رسائی ہوتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ایسے خوش کن اور دلفریب نعرے اور نام دے دیتے ہیں کہ ان ہی جماعتوں کے بانی، دیرینہ اور نظریاتی دوست بھی یا تو بہکاوے میں آ جاتے ہیں اور یا مصلحت سے کام لے کر خود فریبی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ اکثر ایسے اتحاد ایسے جماعتوں کے مابین بھی ہو جاتے ہیں جن کے نظریات اور پروگرام میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں جہاں بھی جیسے بھی کوئی پروگرام یا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ اس میں طویل المیعاد اور قلیل المیعاد پہلو نظر میں رکھے جاتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں بہت سی سیاسی جماعتیں اور تحریکیں نہایت ارفع طویل المیعاد پروگرام رکھتے ہیں اور ایسی منزل تک رسائی کافی وقت طلب بلکہ مدت طلب ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود ایسے منزل تک پہنچنے والے کٹھن اور تھکا دینے والے سفر میں آرام اور سانس درست کرنے کا کوئی انتظام ہی نہیں ہوتا۔

چنانچہ اس طرح کی اتحادوں میں اکثر بڑی پارٹی اپنے مقصد کے لیے چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا سہارا اتحاد کی شکل میں لے لیتی ہے۔ اور چھوٹے پارٹی کے لیڈران سمیت کارکنان بھی اس اتحاد سے کئی توقعات جوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اول تو عام طور پر ایسی تحریکیں اور اتحاد ہائی جیک ہی ہو جاتی ہیں۔ اور کامیاب بھی ہو جائیں تو جیسا کہ سیاست میں نہ حرف آخر ہوتا ہے، نہ مستقل دوست اور دشمن اور سب سے بڑھ کے یہ ممکنات پر استوار ہوتا ہے۔ تو تمام کے تمام چھوٹی جماعتوں کے اتحادیوں کا ایسا حال ہوتا ہے جیسے

پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے
ایسے ہی ایسی
سیاست، سیاست کو کھینچتا ہے۔

Facebook Comments HS