اے مصور تیری تصویر ادھوری ہے


ہم پرانے گھر کی بالائی منزل والے کمرے میں موجود تھے۔ میں نے سر اونچا کر کے کر پھپھو کو سلیٹ پکڑائی اور اس پر دو کا ہندسہ لکھنے کا بولا۔ پھپھو جو کسی اور سے سنجیدہ گفتگو کرنے میں مصروف تھیں نے بغیر دیکھے سلیٹ پکڑی اور جلدی سے اس پر دو لکھ کر مجھے واپس دے دی۔ میں طمانیت سے سلیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ گویا ایک گہرا راز میرے ہاتھ لگ گیا تھا۔ میں نے دو کے گردا گرد کچھ لکیریں کھینچیں۔ لیجیے ایک بطخ تیار ہو گئی۔ یہ میری زندگی کی پہلی تصویر تھی۔

نرسری کلاس میں مجھے کلر پنسلوں کا باکس تحفے میں ملا۔ وہی رنگ میرے کھلونے تھے : پنسلوں کو ایک قطار میں کھڑا کر کے دور سے ان پر گیند دوڑاتا۔ مقصد زیادہ سے زیادہ کلر گرانا ہوتا۔ رنگ ہی میری تفریح تھے : میں نے کلر پنسلوں کے جوڑے بنائے ہوئے تھے۔ سیاہ اور سفید، فیروزی اور نیلا، نارنجی اور سرخ، وغیرہ۔ رنگ ہی میرا مشغلہ تھے : نوٹ بک، کتاب یا جو کچھ ملے اس میں کلر بھرنا۔

گھر والوں نے میرے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے ایک سکیچ بک دلا دی۔ میں نے اس پر متفرق اشیا کی ڈرائنگ شروع کر دی۔ گھر میں کاریں بنائیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں نانی اماں کے گھر راولپنڈی گیا۔ ان کے گھر کے اوپر سے ہیلی کاپٹر گزرتے تھے۔ میں ان سے بہت مسحور ہوا۔ بس نوٹ بک میں چھوٹے بڑے سائز کے کئی ہیلی کاپٹر بنا لیے۔ گھر واپس آیا تو تاریخی عمارات بنانے کا شوق پیدا ہوا: میں ایک ہی صفحے پر ترتیب سے خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مینار پاکستان، فیصل مسجد اور شاہی قلعہ بناتا۔

ایک روز ہم کزنوں نے آپس میں پورٹریٹ بنانے کا مقابلہ کیا۔ میرے کزنوں نے تو اس کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔ سو نتیجہ بھی ویسا ہی نکلا۔ مگر مجھے پورٹریٹ بنانے کا خبط ہو گیا۔ میں کچھ تھا بھی پرفیکشنسٹ مزاج کا۔ مجھ سے کبھی ناک چھوٹی رہ جاتی، کبھی بال بڑے اور کبھی آنکھیں مطابقت نہ رکھتیں۔ اس کا میں نے ایک حل نکالا۔ میں نے گراف کی مدد سے پورٹریٹ بنانا شروع کر دیے۔ اب میں درستگی سے پورٹریٹ بنا سکتا تھا۔ پھر مجھے فائن آرٹ کے ایک سٹوڈنٹ نے نصیحت کی کہ براہ راست پورٹریٹ بناؤں۔ کوئی اور نہ ملے تو شیشے میں دیکھ کر سیلف پورٹریٹ بناؤں۔ مگر مجھے بڑے لوگوں کے پورٹریٹ بنانے تھے۔ سو میں نے گراف کے بغیر مشق شروع کر دی۔

تایا ابو نے مجھے آرٹ کی رہنمائی کے لیے استاد نیفے کے پاس بھیج دیا۔ استاد صاحب کی فوٹو اسٹیٹ کی دکان تھی۔ میں شام کے وقت اپنی سکیچ بک کے ساتھ وہاں پہنچ جاتا۔ دیوار پر ان کی بنائی ہوئی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ میں سکیچ بنا کر انہیں دکھاتا۔ وہ اشاروں کنایوں میں اصلاح کر دیتے۔ ان دنوں میں نے سرسید اور چنگیز خان کے پورٹریٹ بنائے۔ استاد صاحب کی دکان پر ایک بزرگ ہوتے تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر ہمیشہ بولتے : اے مصور تیری تصویر ادھوری ہے! میں تلملا کر سوچتا کہ میرے سکیچ میں آخر کیا کمی ہے۔

استاد صاحب کا ایک اور شاگرد بھی تھی۔ ایک دن وہ بولا: تم چہرہ ٹھیک بنا لیتے ہو اور میں آنکھیں اچھی بناتا ہوں۔ پھر ایک دن کہتا: میرے چچا فلاں آرٹ کونسل کے ڈائریکٹر ہیں۔ میرا آسانی سے این سی اے میں داخلہ ہو جائے گا۔ اس کے لہجے میں خود اعتمادی ہوتی اور چال میں لا ابالی پن۔ گویا بڑی آسانی سے اسے ڈگری بھی مل جائے گی۔ بہت آسانی کے ساتھ وہ ایک بڑا آرٹسٹ بھی بن جائے گا۔ کیونکہ اس کے چچا فلاں آرٹ کونسل کے ڈائریکٹر تھے۔ پھر اس نے وہاں آنا چھوڑ دیا۔ ایک دن استاد صاحب سکیچ دیکھتے ہوئے معنی خیز مسکراہٹ سے بولے : تم نے تو اس کی بھی چھٹی کرا دی۔ میں نے ان کی زبان سے کبھی اتنے الفاظ نہیں سنے تھے۔ اور وہ بزرگ مجھے دیکھ کر یہی کہتے : اے مصور تیری تصویر ادھوری ہے!

میرا کام بہتر ہوا تو پورٹریٹ بنانے کی فرمائشیں آنے لگیں۔ پرنسپل نے علامہ اقبال کا پورٹریٹ بنوا کر اسکول میں لگایا۔ کالج کے پی ٹی، محلے کی لائبریری کے مالک اور تایا ابو کے اسسٹنٹ نے اپنے اپنے پورٹریٹ بنوائے۔ پورٹریٹ بنانا ایک محنت طلب کام تھا۔ سو ابو کو میرا یہ مشغلہ پسند نہیں تھا۔ میں ساری سرگرمی تایا ابو کے گھر کرتا۔ اب فائن آرٹ میرا خواب بن چکا تھا۔

تایا ابو ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے۔ وہ ایران سے میرے لیے واٹر کلر پینٹ لے آئے۔ ایک تصویری مقابلے کے لیے مجھے لاہور بھی لے گئے۔ میں ایوان اقبال میں اسلم کمال کی مصورانہ خطاطی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ گھر واپس آ کر میں نے خطاطی میں مصورانہ تجربات شروع کر دیے۔ پھر مرزا غالب اور قائد اعظم کے پورٹریٹ کئی بار کی کوششوں سے واٹر کلر میں بنائے۔ بیک گراؤنڈ میں جگجیت کا یہ گیت بہت سنا:

تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی
اک خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہیں بنتی

میں نے ریاضی اور بیالوجی کے ساتھ میٹرک پاس کر لی۔ اسکول میں میری پہلی پوزیشن تھی۔ مگر گھر والے میرے نمبروں سے خوش نہیں تھے۔ ایف ایس سی میں زیادہ محنت کی تاکید کی گئی۔ فنون لطیفہ کا شوق ہوتے ہوئے میں نے اب تک سائنسی مضامین کیوں پڑھے؟ اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ کیوں کہ مجھے سائنس یا آرٹ ایسی کوئی چوائس ملی ہی نہیں۔ یا اگر ملی تو مجھے اب یاد نہیں۔ میرے پاس جو آپشنز تھے وہ تھے انجنیئرنگ یا میڈیکل۔ اور میں نے انجنیئرنگ کا انتخاب کیا۔ وجہ؟ میں مینڈک کی چیر پھاڑ کرنا نہیں چاہتا تھا۔

ایف ایس سی کے بعد میں نے لاہور کی ایک یونیورسٹی کی اسکالر شپ حاصل کر لی۔ میں پھر ایک دوراہے پر کھڑا تھا: ایک طرف مالی آزادی تھی، سماجی تائید اور روشن مستقبل کا امکان۔ دوسری طرف میرا خواب تھا، میرا شوق اور آرٹ۔ میں نے آزادی کو خواب پر فوقیت دی۔

ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی تدریس نے مجھے زیادہ اپیل نہیں کیا۔ یونیورسٹی میں میں نے آرٹ کے مشغلے کو جاری رکھا۔ کبھی سکیچنگ کے مقابلے میں شرکت، کبھی مشاعرے کے پوسٹرز کی تیاری اور کبھی سالانہ فیسٹیول کے لیے ہیری پورٹر کے کرداروں کی تصویر کشی۔ کچھ دوستوں کے اصرار پر گرافک ڈیزائننگ بھی سیکھ لی۔

میں یونیورسٹی سے اوسط گریڈ کے ساتھ پاس ہو گیا۔ وہی ٹیکنالوجی جو چار سال پہلے ابھر رہی تھی اب اس کا گراف نیچے آ چکا تھا۔ مارکیٹ میں اس کی جابز نہیں تھیں۔ یونیورسٹی نے ہمیں ایک اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے اختیاری کورسز پڑھا دیے۔ تاکہ ہمیں جاب ڈھونڈنے میں مشکل نہ ہو۔

آج میں ایک پروفیشنل انجنیئر ہوں۔ لیکن پروفیشنل آرٹسٹ نہیں ہوں۔ میرا فن مجھے نہیں پالتا۔ میں اپنے فن کی آب یاری کرتا ہوں۔ میرا فائن آرٹ کا خواب ہنوز ادھورا ہے۔ شاید زندگی کی غیر یقینی، ناپائیداری اور ادھورا پن ہی اسے خوبصورت بناتا ہے۔ اب مجھے استاد نیفے کی شاپ پر موجود اس بزرگ کی بات بھی سمجھ آ گئی ہے جو کہتے تھے : اے مصور تیری تصویر ادھوری ہے!

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid