بد دیانت معاشرہ


بد دیانتی اخلاقی مسئلہ ہے اور اس کی روک تھام کے لیے فرد، معاشرے اور حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ بظاہر یہ مسئلہ دولت اور وسائل کی غیر مساویانہ تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ یوں ہر شخص دولت اور وسائل کے حصول کے لیے مذہبی، اخلاقی اور قانونی ضابطے فراموش کر دیتا ہے۔ چوں کہ عزت کا معیار دولت ہے اس لیے ہر کوئی دولت کے لیے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ ایسے معاشرے جہاں عزت کا معیار فن، ہنر، شرافت اور دیانت داری ہوتے ہیں وہاں ناپسندیدہ ذرائع سے دولت کے حصول کی کوشش کم دیکھنے میں آتی ہے۔

روزمرہ کے معمولات میں بددیانتی عام ہے اس کی بنیادی وجہ عام آدمی سے لے کر قوم کے مجموعی مزاج کو بیان کیا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عام شخص اپنی زندگی میں اکثر و بیشتر کئی بار دوسروں کی بددیانتی کا شکار ہوتا ہے۔ اصول و قواعد دوسروں کے لئے ہوتے ہیں اور ہم سب کچھ کرنے میں آزاد ہیں۔ فروٹ شاپ، ملک شاپ، کریانہ سٹور، میڈیکل سٹور اور آن لائن شاپنگ سمیت تمام سطحوں پر ایسے تجربات ہو چکے ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی ہمارے بجلی، ٹیلی فون اور سوئی گیس کے بلز میں ٹیکس سمیت کئی گھپلے دیکھنے میں آتے ہیں۔

جب بھی کسی شخص یا ادارے کو کوئی موقع ملتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بددیانتی کے مرتکب افراد کو معاشرہ قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہاں جب کوئی شخص پکڑا جاتا ہے تو وہ عدالت کے کٹہرے میں وی کا نشان بنا کر خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ اس وجہ یہ ہے کہ حکومت بھی بددیانتی کی مرتکب ہوتی ہے۔ عام آدمی کو انصاف، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا سٹیٹ کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں ایک بہت بڑی تعداد دیانت داری، عدل و انصاف اور امن و امان کی خواہش رکھتی ہے۔ وسائل پر قابض چند ہزار لوگوں نے کروڑوں افراد کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر مبنی نظام محض خواب کی حیثیت رکھتا ہے۔

بددیانتی کی ایک صورت فرائض سے غفلت بھی ہے۔ ڈاکٹر، استاد، پولیس مین، جج، کلرک، فوجی اور سیاست دان اپنی اپنی جگہ پر جواب دے ہیں۔ یہاں سب سے اہم کردار عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بے۔ جب طاقت ور سزا سے بچ جاتا ہے تو عام آدمی کی ملک سے وابستگی اور محبت مجروح ہوتے ہیں اور اس بنا پر تصادم، بدامنی اور قانون شکنی کے واقعات جنم لینے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ کسی ملک کی یک جہتی میں دراڑ اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یورپ اور امریکہ جانے والوں کی بڑی تعداد پرامن اور خوش حال زندگی کی خواہاں ہوتی ہے۔ اگر انھیں اپنا ملک یہ سہولت مہیا کرے تو کسی کو بیرون ملک نہ جانا پڑے۔

بددیانتی کا دائرہ کار مجبوری سے ہرگز عبارت نہیں ہے۔ لاکھوں لوگ اخلاقی پاسداری میں اپنے مفاد، طمع اور لالچ کو غالب نہیں آنے دیتے ہیں۔ کم زور اور کم ہمت لوگوں جواز ڈھونڈتے ہیں۔ معاشرے کا چلن ایسا ہو گیا ہے کہ ایمان دار شخص کے لیے زندگی مشکل ہو رہی ہے۔ بددیانتی کے لیے آسانی اور ایمان داری کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

بددیانتی کا ایک اہم پہلو حقائق سے چشم پوشی بھی ہے۔ ہمیں سچائی کا علم ہوتا ہے اور محض تعلق اور مفاد کے زیر اثر سچ کا ساتھ دینے سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ وقتی فائدہ دور رس منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔

نوجوان نسبتاً ایمان دار ہوتے ہیں۔ جب معاشرے میں مسلسل بد دیانتی کو دیکھتے ہیں تو اکثریت اس نظام زندگی کو قبول کر لیتی ہے اور یوں معاشرہ رو بہ رہتا ہے۔ حالیہ الیکشن کی بد دیانتی تادیر پاکستانی معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔

Facebook Comments HS