تعمیر شخصیت کے رہ نما اصول

زندگی کے تمام ادوار میں جوانی کا دور ہر اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس مرحلے میں انسان کی جسمانی قوت اور ذہنی صلاحیت و ہمت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ جوانی میں وقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اور انسان اپنے لیے، اپنے خاندان، اپنے ملک کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے کچھ بنیادی رہ نما اصولوں پہ عمل کرنا ضروری ہے۔
قناعت:
انسان فطری طور پر زیادہ کا طالب ہے، اس مفہوم کو قرآن و احادیث میں کئی ایک مقامات پر ذکر کیا گیا ہے، اسی فطرت کے ناتے انسان جلد بازی کا مرتکب بھی ہوتا ہے، اور ہمیشہ عدم میسر کو میسر پر ترجیح دیتا ہے، ایسا کرنے سے انسان کی صفت قناعت زائل ہو جاتی ہے، اور میسر وسائل میں بھی مسائل کا شکوہ کرنا ہی شیوہ بن جاتا ہے۔ اگر انسان میسر وسائل میں قناعت پسندی اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی میں وسائل کی کھپت کا تعین کرے تو بہت سکون و اطمینان کی زندگی بسر کر سکتا ہے، جو اسے خوش رکھنے اور آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہو گا۔
صبر و شکر:
عروج و زوال اور نشیب و فراز زندگی کا لازم حصہ ہیں، ہر انسان زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ان گھاٹیوں ستمے گزرتا ہے۔ چون کہ دنیا دار الامتحان ہے اس لیے یہاں مصائب و مشکلات کا وارد ہونا ایک فطری عمل ہے، اسی طرح ہر مشکل کے بعد آسانی بھی کائنات کا فطری اصول ہے۔ مصائب اور آسائش کے حالات میں انسان کا صبر و شکر کی صفات سے متصف ہونا ہی اسے کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ آسائشات میں شکر کا جذبہ اور رویہ انسان کو مزید باہمت بناتا ہے، جس سے وہ معاشرے کی اصلاح و فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک ص قوم کی ترقی کی فکر میں منہمک ہو جاتا ہے، اور یہی چیز اس کا نام تاریخ میں رندہ رکھتی ہے۔ جب کہ مصائب میں صبر کرنے کی صلاحیت انسان کے باطن کو پرسکون رکھتی ہے، وہ اسے زندگی کا ایک اہم حصہ تصور کرتے ہوئے مزید ہمت اور دل جمعی سے محنت کا راستہ اختیار کرتا ہے، تاکہ وقتی مشکلات کا ایسا حل تلاشے کہ تدبیر کی ٹکر سے تقدیر بھی مسکرا اٹھے۔
توکل :
توکل کے معنی ہیں، بھروسا اور یقین۔ توکل کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ پہ یقین رکھ کر بیٹھ جائے اور کسی کام کے لیے محنت نا کرے۔ بلکہ توکل اسباب اختیار کرنے سے متصادم نہیں، اس لیے توکل اس وقت تک درست بھی نہیں جب تک کہ انہیں اختیار نہ کیا جائے، ورنہ یہ محض سستی اور فاسد توکل ہے۔ کوئی بھی کام شروع کرتے وقت جتنا یقین مضبوط ہو گا کامیابی اتنی ہی قریب ہوتی چلی جائے گی۔
محنت:
محنت کامیابی کی اساس ہے۔ جو نوجوان محنت کے راستے پر گامزن ہوتے ہیں وہ دنیا میں ضرور اپنا نام پیدا کرتے ہیں، محنت عظمت کا واحد ذریعہ ہے، جو انسان کو اس کی صلاحیتوں کی مرہون منت سماج میں ممتاز کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کو محنت و مشقت کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنانا چاہیے، تاکہ وہ ہر طرح کے درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکے۔
مستقل مزاجی: جہد مسلسل اور مستقل مزاجی انسان کو اس کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ آرام طلبی، جز وقتی محنت اور بسیار خوری انسان کی ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ کسی بھی عظیم انسان کی زندگی کو دیکھ لیں اس میں مستقل مزاجی، جہد مسلسل، احساس ذمہ داری، وقت کی قدر اور مخلوق خدا سے محبت کے اوصاف یکساں نظر آئیں گے۔ آرام طلبی اور کامیابی ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اس لیے جو بھی کام شروع کریں مستقل مزاجی اور لگن سے کریں۔
غلطیوں کی اصلاح: حیات لڑکپن اور جوانی جہاں خوب انرجی، جذبات اور مضبوطی سے کسی بھی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے وہیں عمر کے اس حصے میں غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں۔ اور کئی غلطیاں تو ایسی ہوتی ہیں کہ انسان کا سارا کیا دھرا ختم ہو جاتا ہے ایسے حالات میں سب سے پہلے غلطیوں کی اصلاح کی جائے، ان غلطیوں سے سبق حاصل کیا جائے اور جہاں بزرگوں کی رہ نمائی حاصل ہو وہاں ان سے بھر پور رہ نمائی کے ساتھ کوئی بھی کام شروع کیا جائے۔
بزرگوں کی آرا کا احترام کریں۔ ان کی طرف سے پیش کردہ مسائل و معاملات کی توجیہات کو قبول کریں کیوں کہ وہ بڑے تجربات کے بعد حاصل ہوتی ہیں۔ وہ زندگی کے ان تلخ حقائق سے گزرے ہوتے ہیں جن سے ابھی تک نوجوان دو چار نہیں ہوتے۔ اس طرح جب بوڑھوں کی فکر اور حکمت و دانائی نوجوانوں کی رہبر و رہنما بنے گی تو معاشرہ ترقی اور عروج میں آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگے گا۔

