بین الصوبائی مسافر بسوں کے ڈرائیور کیا انسان نہیں؟
بعض سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم جاننا ہی نہیں چاہتے۔ بلکہ ان سے ارادتاً آنکھیں چرا لیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سچ بین الصوبائی بس ڈرائیور حضرات کے نہایت تکلیف دہ شب و روز ہیں۔ ایسا لگتا ہے ان گاڑیوں کے مالکان، موٹر وے پولیس، ٹرانسپورٹ کی وزارت کے ذمہ دار، ان ڈرائیور حضرات کے مسائل جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ میں نے کچھ عرصہ پہلے چترال اور گرد و نواح کے یکے بعد دیگرے سفر کیے اور ان مسائل کو بچشم خود دیکھا ہے۔ میں نے تقریباً پانچ ماہ میں چترال کے تین سفر کیے لیکن آج کا کالم کوئی سفر نامہ نہیں! جب تک پس منظر معلوم نہ ہو بات کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ۔ مختصر یہ کہ میرا پہلا سفر چترال شہر، گرم چشمہ اور کیلاش وادی بمبریت تک تھا جو خالصتاً گھر والوں کے ساتھ تفریحی دورہ تھا اور پرائیویٹ کار میں طے ہوا۔ دوسرا سفر میں نے اکیلے کیا۔ میں اسلام آباد سے ’بونی‘ کوسٹر میں براستہ چترال گیا۔ میری نشست پیچھے تھی لہٰذا ڈرائیور صاحب سے کوئی بات چیت نہ ہو سکی۔ واپس اسلام آباد کے لئے کچھ روز کے بعد صبح ساڑھے چھ بجے روانہ ہوا۔
اب کی مرتبہ میری نشست ڈرائیور صاحب کے ساتھ تھی۔ راستے میں دو دفعہ کوسٹر میں چھوٹی بڑی خرابی بھی ہوئی جو موقع پر دور کر دی گئی یوں ہم شام ساڑھے سات بجے اسلام آباد پہنچے۔ ڈرائیور صاحب سے رسماً الوداعی جملے کہے کہ اب آپ اور میں آرام کریں گے تو جو اباً اس نے کہا کہ کیسا آرام! میں نے تو یہ کوسٹر دوبارہ واپس بونی لے کر جانی ہے۔
چند ماہ بعد ایک اور مرتبہ بونی جانے کا اتفاق ہوا۔ شام ساڑھے چھ بجے کوسٹر سے بذریعہ چترال، بونی کے تیسرے سفر پر روانہ ہوا۔ مگر اس مرتبہ میرے دوست پروفیسر ڈاکٹر احسان الرحمن بھی شریک سفر تھے۔ کوسٹر اڈے سے نکلی ہی تھی کہ ہیڈ لائٹ کا مسئلہ پیدا ہوا۔ جب وہ سوات ایکسپریس وے کی پہلی سرنگ میں پہنچی تو گاڑی کی تمام روشنیوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ علم ہوا کہ جنریٹر /آلٹرنیٹر خراب ہو گیا۔ اسی حالت میں کوسٹر ’چک درہ‘ کے ایک ہوٹل پر پہنچی۔
یہاں مسافروں نے کھانا وغیرہ کھایا۔ تین گھنٹے بعد آلٹرنیٹر کا مسئلہ حل ہوا۔ واضح ہو کہ ماسواء ڈرائیور صاحب اور اس کے معاون، سب نے آرام کیا کیوں کہ یہ پرانا جنریٹر اتار کر دوسرا ڈال رہے تھے۔ گاڑی دوبارہ عازم سفر ہوئی۔ اسلام آباد سے چک درہ تک موٹر وے دو رویہ کشادہ سڑکوں پر مشتمل ہے۔ پھر یہاں سے ’دیر‘ تک گزارہ کرنے والی سنگل سڑک ہے جب کہ ضلع چترال میں بیشتر سڑکیں صرف ”راستے“ ہیں۔ ان کو سڑک نہیں کہا جا سکتا۔ بقول مصطفے ٰ زیدی صاحب ’ان ہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ۔ ‘ کے مصداق! چترال تک تو ’یو ٹانگ‘ بس بھی چلتی ہے۔ مزے کی بات یہ کہ چترال شہر تک جانے کے لئے بھی جا بجا خطرناک کچے راستے ہیں جن کی ایک طرف نشیب میں دریائے چترال اور دوسری جانب بالکل سر پر آتی چٹانیں اور پہاڑ۔ چترال سے آگے جیپ، پک اپ اور خصوصی طور پر تیار کی گئی کاریں استعمال کی جاتی ہیں۔
بات ہو رہی تھی بونی کے اس تیسرے سفر کی۔ ہم دونوں ڈرائیور صاحب کے بالکل پیچھے والی نشستوں پر بیٹھے تھے۔ میں نے خود دیکھا کہ تین چار مرتبہ ڈرائیور گاڑی روک کر اترا اور ٹھنڈی ہوا میں کچھ چہل قدمی کی پھر گاڑی چلائی۔ فجر کی نماز صبح 6:10 پر چترال بس اڈے میں پڑھی۔ یہاں سے روانہ ہو کر پھر ایک جگہ ناشتہ کرنے رکے۔ یہاں ڈاکٹر صاحب، ڈرائیور صاحب، اس کے معاون اور میں ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگے۔ اس دوران انہوں نے ایسی ایسی تلخ حقیقتیں بتائیں کی شدید سردی میں بھی پسینہ آ گیا۔ مثلاً یہ کہ اسلام آباد سے بونی یا بونی سے اسلام آباد تک 13 گھنٹے اور پھر اتنے ہی وقت اسلام آباد یا بونی واپس آتے ہوئے ایک ہی ڈرائیور گاڑی چلاتا ہے۔
مزید افسوس ناک بات یہ کہ اسے ایک طرف جانے کے محض 2000 روپے ملتے ہیں گویا آنا جانا 4000 روپے ہوئے۔ جب کبھی مسافروں کا زیادہ رش ہو، یا دوسرا ڈرائیور میسر نہ ہو تو ایسے میں پھر اسی ڈرائیور کو مزید جانا پڑتا ہے۔ گویا وہ 52 گھنٹے چلاتا ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ ان ڈرائیور صاحب نے بتایا کہ عیدین یا کسی اور انتہائی رش والے زمانے میں ان سے 90 گھنٹے بھی کوسٹر چلوائی گئی۔ یہ تو میرے لئے ایک عجیب اور بالکل نئی بات تھی۔
بقول مسرورؔ انور : ’آج لگتی ہے ہر اک بات نئی بات مجھے۔ ‘ ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ طبیعت خرابی، بیماری کی کوئی چھٹی نہیں۔ جس دن کام پر نہ جائیں پیسے نہیں ملتے! جب میں نے پوچھا کہ کورونا کے زمانے میں گاڑی مالکان نے آپ لوگوں کا کیسے خیال رکھا؟ تو جواب دیا کہ ہم تو دیہاڑی پر ہوتے ہیں۔ کام ہو گا تو پیسے ملیں گے۔
آپ 26 گھنٹوں کو چھوڑئیے! 13 گھنٹے بھی مسلسل چلانا قطعاً مذاق نہیں۔ اب اگر ڈرائیور حضرات اونگھ، تھکاوٹ، ذہنی دباؤ وغیرہ کے لئے کوئی نشہ آور شے استعمال کرتے ہیں تو یہ ان کی مجبوری ہے! بہرحال جب ہم لوگ بونی کے اڈے پہنچے تو میرے دوست ڈاکٹر احسان الرحمن نے ڈرائیور صاحب سے پوچھا کہ اب تو آپ ساڑھے تین چار گھنٹے دیر سے پہنچے ہیں صبح والے مسافر تو کسی اور کوسٹر میں جا چکے کیا اب آپ یہاں کچھ دیر سوئیں گے؟ اس پر ڈرائیور صاحب نے مسکرا کر کہا کہ نہیں۔ اب یہ کوسٹر پشاور لے کر جاؤں گا!
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بونی اور چترال کے راستے پر چلنے والے ڈرائیور انسان نہیں؟ کیا ان کے آجر، گاڑی مالکان صرف منافع سے دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا ان کو مسافروں، ڈرائیور حضرات اور ان کے معاونین کے جان و مال اور خود اپنی گاڑیوں کا کوئی رتی بھر خیال نہیں؟ کیا راستے میں دوران سفر گاڑی کی خرابی دور کرنے کے بھی یہ ہی ڈرائیور ذمہ دار ہیں؟ کیا ان ڈرائیوروں سے ڈرائیوری کے ساتھ مکینکی کا بھی کام لیا جاتا ہے؟
جب ایسی بسوں میں سفر کرنے والے مجھ جیسے عام لوگ ان ڈرائیور حضرات کو سخت دباؤ اور کٹھن حالات میں گاڑی چلاتے دیکھتے ہیں تو کیا ٹرانسپورٹ کی وزارت کے ذمہ داران یہ نہیں جانتے؟ یہ صرف چترال یا پشاور جانے والے ڈرائیوروں کی کہانی نہیں بلکہ یہ تو پورے پاکستان کی عوامی مسافر ٹرانسپورٹ کی کہانی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ کسی ادارے کے تحت چلنے والی مسافر بس کمپنیوں کے ڈرائیور اس صورت حال سے دوچار نہیں۔ میں نے خود اسلام آباد اور لاہور سے کراچی دو مختلف نجی مسافر بس کمپنیوں میں سفر کیا۔ اسلام آباد سے جانے والی بس کے ڈرائیور صاحب اور بس میزبان فاروق آباد میں تبدیل ہوئے۔ اور لاہور سے جانے والی بس کے بہاولپور میں۔ کیا اس قسم کا کوئی قاعدہ دیگر عوامی بسوں، کوسٹروں اور ویگنوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا؟ کیا عوامی بسوں، کوسٹروں اور ویگنوں میں سفر کرنے والے مسافر انسان نہیں؟ کیا ان گاڑیوں کے ڈرائیور سپر مین یا مافوق الفطرت ہیں کہ نظر انداز کر دیے جاتے ہیں؟ کیا ان گاڑیوں کے مالکان اپنا کچھ منافع کم کر کے ڈرائیور حضرات کے مسائل حل نہیں کر سکتے؟ آخری بات یہ کہ ان ڈرائیور صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ اخبار میں لکھتے ہیں ذرا ہمارے یہ مسائل بھی لکھیے کہ ہم کن حالات میں گاڑی چلا کر مسافروں کو صحیح سلامت ان کی منزلوں تک پہنچاتے ہیں اور کیوں نشہ کرتے ہیں!
۔ ۔


