پیر خانے کی حاضری اور تعویذ کی تاثیر
ایک نو چندی جمعرات کو صبح سویرے نماز کے بعد ہم پیر محمد علی شاہ سے تعویذ لینے کے لیے بھائی پھیرو روانہ ہو گئے۔ بس میں بیٹھا ہوا میں متضاد کیفیات کا شکار تھا۔ ایک طرف تو میں اپنی حماقت، جہالت اور بیوقوفی پر کڑھ رہا تھا۔ کہ جس وقت تمہیں شد ید احتیاط اور آرام دہ طرز زندگی کی ضرورت ہے بس کے تکلیف دہ اور غیر محتاط سفر کا خطرہ مول لے کر میں نے انتہائی غیر مناسب حرکت کی ہے اور دوسری طرف ماں جی کی ناراضگی کے سبب شدید دباؤ کا بھی حساس تھا۔ جسے متوازن کرنے کے لیے میں یہ خطرہ مول لے رہا تھا۔
ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا تھا کہ اس سفر کا واحد مقصد ماں جی کی خوشنودی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ ان دنوں بسوں اور سڑکوں دونوں کی حالت انتہائی ناگفتہ ہوا کرتی تھی۔ بہرحال اسی پریشانی اور پچھتاوے کی الجھن میں سفر طے ہو رہا تھا۔ خدا خدا کر کے ہم صبح سویرے بھائی پھیرو لاری اڈے پر جا اترے۔ میں نے احتیاطاً تانگہ پر سفر کرنا مناسب نہ سمجھا اور ہم پیدل ہی اپنے پیر خانے کی طرف چل پڑے جو زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔
بازار بند تھا اکا دکا لوگ ہی چلتے پھرتے نظر آرہے تھے۔ لیکن ناشتے والی دکانوں اور ریڑھیوں پر لوگوں کی گہماگہمی تھی۔ چلتے چلتے تم اچانک ہی رک کر بولیں میں چھلی لوں گی۔ سڑک کے ایک طرف ریڑھی والا کوئلوں پر چھلیاں بھون رہا تھا۔ جن کی سوندھی سوندھی خوشبو سے پورا بازار مہک رہا تھا۔ ہم نے وہاں ریڑھی پر کھڑے ہو کر دو نرم نرم چھلیاں منتخب کے کے انہیں بھوننے کے لیے کہا۔ ریڑھی والے نے کوئلوں کی دھیمی آنچ پر انہیں بھوننا شروع کیا۔
اور ہم وہیں کھڑے چھوٹی چھوٹی باتوں میں مصروف ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے چھلیاں بھون کر انہیں ان کے ہی سبز سبز پردوں میں لپیٹ کر ہمیں دے دیا۔ اب مسئلہ تھا کہ انہیں کہاں پر بیٹھ کر کھایا جائے۔ میں نے اپنی طبیعت کے مطابق اس کا ٹھیٹھ دیہاتی طرز فکر کا حل پیش کیا۔ کہ یہاں کون سا کوئی ہمیں جاننے والا ہے۔ موج سے بازار میں چلتے ہوئے لاپرواہی سے چھلی کھاتے جاتے ہیں۔ بعض اوقات کسی جگہ پر اجنبیت کے اپنے فوائد بھی ہوتے ہیں۔ چناں چہ ہم نے بھی اس کا پورا پورا فائدہ اٹھایا۔
تھوڑی دیر کے پیدل چلنے کے بعد ہم اپنے پیر خانے پہنچ گئے۔ یہاں پر خواتین کا کافی رش تھا۔ لیکن کسی کسی عورت کے ساتھ ہماری ہی طرح اس کا مرد بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بہر حال ہم بھی پیر صاحب سے تعویذ حاصل کرنے والے امیدواروں کی لائن میں لگ کر بیٹھ گئے۔ پیر صاحب میز کے سامنے ایک کرسی پر تشریف فرما تھے۔ مریدین اپنی اپنی باری پر میز کے گرد پڑی ہوئی تین چار کرسیوں پر جا بیٹھتے۔
اور اپنے مسائل بتا کر ان سے متعلقہ تعویذ حاصل کرتے۔ جو پیر صاحب نے پہلے سے ہی تیار کر کے میز کی مختلف درازوں میں بھرے ہوئے تھے۔ ان کی خدمت میں دس بیس روپے کا عوامی سا نذرانہ پیش کرتے۔ اور پیر صاحب کو سلام کر کے اپنی جگہ خالی کر دیتے جہاں پر نئے مریدین آ بیٹھتے۔ نذرانے کی مد میں خال خال سو پچاس کا نوٹ بھی چل رہا تھا۔ ان لوگوں کے مسائل شاید زیادہ گمبھیر ہوں گے۔ اپنی باری پر ہم دونوں بھی پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
میں نے ہندوستان میں اپنے گاؤں کا ذکر کرتے ہوئے ابا جی کے دیرینہ اور موروثی رابطوں کا حوالہ دینا بھی مناسب سمجھا۔ پیر صاحب خوش بھی ہوئے۔ اور دوبارہ رابطے میں تاخیر پر ہلکا سا گلہ بھی کر دیا۔ وجہ آمد معلوم ہونے پر حسب معمول پیر صاحب نے میز کا ایک دراز کھولا اور تعویذوں کا ایک بنڈل نکال کر ہمارے حوالے کیا۔ کہ رات کو سوتے وقت پانی میں ایک تعویذ گھول کر اہلیہ کو پلانا ہے۔ میں نے جواباً پرس کھول کر اس میں سے ایک ہزار روپے کا نوٹ نکال کر پیر صاحب کی خدمت اقدس میں نذرانہ پیش کر دیا۔
میرے اس نذرانے نے پیر صاحب کو حیران بلکہ پریشان کر دیا۔ وہ کبھی میری طرف دیکھتے کبھی نوٹ کی طرف دیکھتے۔ غالباً وہ سوچ رہے تھے۔ اس میں سے کچھ بقایا واپس کرنا ہیں۔ میری اس وضاحت پر کہ یہ آپ کا نذرانہ ہے۔ انہوں نے مجھے دوبارہ کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میز کی دراز سے تعویذوں کا ایک اور بنڈل نکال کر پینے کے لیے اور کچھ فوری طور پر لکھ کر تعویذ گلے میں ڈالنے اور جسم کے مختلف حصوں پر باندھنے کے لیے میرے حوالے کر دیے۔
واپسی پر تم نے سوال کیا کہ سب لوگ دس دس بیس بیس روپے دے رہے تھے۔ چلو تم سو پچاس دے دیتے۔ ہزار روپے دینے کے کیا ضرورت تھی۔ میں نے وضاحت کی کہ ہم سفر کا اتنا بڑا خطرہ مول لے کر یہاں پہنچے ہیں۔ تو کہیں صرف پیسوں کی کمی کی وجہ سے ہم اپنے کاکے سے محروم نہ ہوجائیں۔ شاید تم نے میری اس بات کا برا منایا ہو لیکن مجھے محسوس نہیں ہونے دیا۔ بس ہلکی سی مسکراہٹ پر ہی اکتفا کیا۔
ان دنوں بھی الٹراساؤنڈ کی مدد سے پریگننسی کے تین چار ماہ بعد ہی نوزائیدہ بچے کی جنس کا علم اکثر ہو جایا کرتا تھا۔ اس وقت تک ڈاکٹر ارشد اور ڈاکٹر نورین کا اپنا ہسپتال بن چکا تھا۔ اور میری بھابھی ڈاکٹر نورین شہر کی معروف گائناکالوجسٹ بن چکی تھیں۔ اس نے اپنے تجسس سے مجبور ہو کر شاید وقت مقررہ سے ہفتہ دس دن پہلے ہی تمہارا الٹراساؤنڈ ٹیسٹ کر ڈالا۔ اور نتیجے کے طور پر تمہیں کاکے کی خوش خبری اور پیشگی مبارک باد بھی دے ڈالی۔ اس طرح ہماری بھائی پھیرو یاترا سپھل قرار دے دی گئی۔ کاکے کی آمد کی خوش خبری پر ماں جی کے دو متضاد عمل تھے۔ ایک طرف تو وہ اپنے مشن کی کامیابی پر مجھ سے بہت ہی خوش تھیں۔ لیکن دوسری طرف اس بات پر شدید غصہ بھی تھیں۔ کہ اگر میں ہر پریگننسی پر پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا رہتا تو آج تین بیٹیوں اور دو بیٹوں کی بجائے پانچ بیٹوں کا باپ ہوتا۔


