کینیڈا میں ہمارا پہلا کرسمس
کرسمس کی آمد آمد ہے۔ ہر طرف سیل لگی ہوئی ہے۔ اخبار اشتہاروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ لوگ تن، من دھن سے خریداری میں لگے ہوئے ہیں۔ دھن کیا سارا زور کریڈٹ کارڈ پر ہے۔
بازاروں کے اوقاتِ کار میں بھی خاصا اضافہ ہو گیا ہے۔ اب یہ رات کو دیر تک کھلے رہتے ہیں۔
کرسمس یہاں کا واحد تہوار ہے جسے آپ فیملی تہوار کہہ سکتے ہیں۔ سنا ہے اس موقع پر دور اور نزدیک کے عزیز و اقارب جمع ہوتے ہیں، تحفے تحائف دیتے ہیں، کرسمس کارڈز دیتے ہیں، فیملی ڈنر ہوتا اور پھر سال بھر کے لئے اجنبی ہو جاتے ہیں۔ کرسمس میں تحفے تحائف صرف فیملی تک محدود نہیں بلکہ دفتروں میں بھی ایک دوسرے کو تحائف دینے کا رواج ہے۔ پتہ نہیں پڑوسیوں کو بھی دیتے ہیں یا نہیں، خاص کر وہ پڑوسی جو امیگرینٹ ہوں اور کینیڈا میں پہلا کرسمس دیکھ رہے ہوں۔ ابھی تک تو ایسا کچھ سلسلہ نظر نہیں آیا!
ایک اخبار نے پیشین گوئی کی ہے کہ اس دفعہ کرسمس کی خریداری پچھلے سالوں کے تمام ریکارڈ توڑ دے گی۔ مجھے اس اخبار کی پیشین گوئی کافی صحیح معلوم ہو رہی ہے، کیونکہ اسی اخبار کی اطلاع کے مطابق ابھی تک ہر شخص اوسطاً تقریباً نو سو ستر ڈالر کی کرسمس کی خریداری بھگتا چکا ہے، جب کہ ابھی کرسمس میں کئی دن باقی ہیں۔
لوگوں نے گھروں پر روشنیاں بھی لگائیں ہیں۔ محلے میں ہر روز دو چار نئے گھروں پر کرسمس کی روشنیاں نظر آتی ہیں۔ کرسمس کا درخت (کرسمس ٹری) سانتا کلاز کی گاڑی اور ہرن بھی روایات کا حصہ ہے۔ ان سب کی سجاوٹ بھی ایک الگ شعبہ ہے۔
ہم نے تو سنا تھا کہ سانتا کلاز کرسمس کی رات میں آتے ہیں۔ لیکن شاید اب یہ کاروباری ضرورت ہے کہ سانتا بابا جی ابھی سے آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ لوگ بابا جی کے ساتھ اپنی اور بچوں کی تصویریں بھی بنوا رہے ہیں۔ غرض کہ ہر طرف کرسمس ہی کرسمس ہے۔ خریداری کے اس کھیل میں ہم لوگوں کو بھی کچھ جیکٹیں اور دیگر گرم کپڑے مناسب داموں مل گئے ہیں۔
ہم نے سنا تھا کہ کرسمس کے اگلے دن یعنی چھبیس دسمبر کو باکسنگ سیل لگتی ہے، جس میں بچھا کھچا سامان اونے پونے بکتا ہے۔ شاپنگ مال تو نو بجے تک کھلتے ہیں لیکن زندہ دلانِ قوم رات دو بجے سے لائنیں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ شروع میں مجھے اس مہذب اور کسی حد تک قدامت پسند قوم سے اس قسم کی بچکانہ حرکات کی توقع نہیں تھی، لیکن کرسمس کی جنوں خیزی دیکھ کر مجھے یقین سا ہو چلا تھا کہ باکسنگ ڈے پر کچھ ایسا ہی ہو گا۔
یوں تو ہر شخص کرسمس کے سحر میں گرفتار نظر آتا تھا اور باقی ہر چیز سے بے خبر تھا، پر انہیں اس بات کی فکر ضرور تھی کہ کرسمس وائٹ ہو گا کہ نہیں؟
مجھے پہلے تو وائٹ کرسمس کی کہانی سمجھ میں نہیں آئی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اگر کرسمس میں برف نہ گرے، سفیدی نہ ہو وائٹ کرسمس نہیں کہلاتا۔ لوگوں کی خوشیاں کچھ ادھوری سی رہ جاتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ہاں انتیس تاریخ کو عید کا چاند نہ نظر آئے تو سوائے دکانداروں کے بقیہ سب لوگوں کی خوشیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ ابھی تک اس سیزن میں برف نہیں گری تھی۔ رات کا پالا صبح سویرے برف کا سا تاثر ضرور دیتا تھا۔ مجھے وائٹ کرسمس کا تو نہیں لیکن اس دن کا انتظار تھا جب ہمارے گھر کے سامنے والی مصنوعی پہاڑی برف سے ڈھک جائے گی۔ کتنا دلفریب نظارہ ہو گا۔
جب ایک دن میں نے ایک پرانے رہائشی سے یہی بات کہی، تو اس نے سڑا سا منہ بنایا اور ”ہنی مون پیریڈ“ کہتا ہوا چل دیا۔ عجیب بد ذوق شخص ہے۔
مجھے آج کل کینیڈا بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ درختوں کے پتے سرخ اور نارنجی رنگوں میں رنگے ہوئے، شام کے وقت تو لگتا تھا کہ درختوں میں ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔ نہ ہوا میں شاعر ورنہ اب تک کئی اشعار ہو چکے ہوتے۔ مجھے اب صرف برف گرنے کا انتظار تھا۔ برف میں یہ جگہ اور حسین لگے گی۔
کرسمس سے دو دن پہلے ہمارے مالک مکان نے بتایا کہ وہ اگلے دو ہفتے یہاں نہیں ہوں گے، اپنے رشتہ داروں سے ملنے کسی اور شہر جا رہے ہیں۔ چونکہ برف باری کسی بھی وقت متوقع ہے اس لئے اپنے تمام پھاؤڑے اور بیلچے باہر ہی چھوڑے جا رہے ہیں تاکہ اگر برف صاف کرنی پڑے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو۔ مسئلہ کیا ہو گا۔ میں تو دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا۔ برف صاف کریں گے، لطف اٹھائیں گے، ساتھ ہی ساتھ ورزش بھی ہو جائے گی۔
گزشتہ رات برفباری ہوئی۔ صبح اٹھا تو ہر چیز برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔ مجھے تو لگا جیسے میں کوئی خوبصورت تصویری پوسٹ کارڈ دیکھ رہا ہوں۔ ہم سب باہر نکلے۔ بڑے بیٹے کی طبیعت دو دن سے خراب چل رہی تھی کچھ بخار بھی تھا۔ میں نے اکیلے سیڑھیوں سے اور پھر ڈرائیو وے سے بھی برف ہٹائی۔ اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج۔ ورزش کی ورزش اور ڈرائیو وے کی صفائی الگ۔
ہم برف سے خوب کھیلے، ایک دوسرے پر برف بھی پھینکی۔ کینیڈا کیا عمدہ جگہ ہے۔ مجھے بہت پسند ہے۔ بچے تو کھیل کود سے فارغ ہو کر اندر چلے گئے میں ہی اکیلا برف ہٹاتا رہ گیا، بچوں کا ارادہ تھا کہ وہ دوسرے دن ’سنو مین‘ یعنی برف کا آدمی بنائیں گے
مکانوں کی چھتوں پر برف پڑی ہوئی تھی۔ دور دور تک برف ہی برف تھی۔ سامنے والی بڑی سڑک پرایک طرف سے تین برف ہٹانے والے ٹرک ایک ساتھ چلے آرہے تھے۔ ان کے آگے لگے ہوئے لوہے کے بلیڈ، برف کو اس طرح ہٹا رہے تھے کہ ایک دفعہ میں ہی پوری سڑک صاف ہو جاتی تھی۔ واہ کیا بات ہے؟ ہمارے ہاں تو ایک دن بارش ہوتی ہے اور ہفتہ بھر پانی کھڑا رہتا ہے۔ جب ہی تو ملک ترقی نہیں کرتا ہے۔
بڑے ٹرکوں کے علاوہ فٹ پاتھ کی برف صاف کرنے کے لئے ایک شخص چھوٹی ٹریکٹر نما مشین لے آیا تھا۔ جہاں جہاں سے مشین گزرتی وہاں سے برف مشین کے ذریعے باریک ذروں کی شکل میں فوارہ کی طرح کناروں کی طرف اڑنے لگتی۔ کیا کیا مشینیں ایجاد کی ہیں اور ان سے کیسے کیسے کام لے رہے ہیں؟
میں ابھی برف ہٹا کر فارغ ہوا ہی تھا کہ برف ہٹانے والا بلڈوزر سڑک سے برف ہٹاتا ہوا گزرا اور ہمارا گھر برآمدے تک دوبارہ برف سے اٹ گیا۔ مجھے ایک بار پھر برف صاف کرنی پڑی۔
گزشتہ رات مزید برف باری ہوئی۔ دروازے پر بہت زیادہ برف ہونے کی وجہ سے میں باہر ہی نہیں نکل سکا۔ موسم خوبصورت تھا لیکن میں برف ہٹا ہٹا کر تھک چکا تھا۔ اوپر سے یہ بلڈوزر۔ مزید برفباری ہوئی۔ برف ہٹاتے ہٹاتے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے اور کمر دوہری ہو چلی تھی۔ ایسی ورزش کی ایسی کی تیسی۔ مجھے لگتا تھا یہ بلڈوزر یہیں کہیں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ادھر میں برف ہٹا کر فارغ ہوا ادھر یہ موجود۔ اگر مجھے بلڈوزر کا ڈرائیور مل جائے تو میں اس کا کچومر نکال دوں۔ منحوس۔
برف برف اور مزید برف۔ اب میرا صرف یہ کام رہ گیا تھا کہ میں باہر نکلوں اور اس سفید مصیبت کو صاف کروں، بلڈوزر سے نکلنے سے پہلے اور نکلنے کے بعد ۔ سردی قیامت خیز تھی موسم کا حال بتانے والا کہہ رہا تھا کہ مزید بیس سینٹی میٹر برف متوقع ہے۔ مجھے پتہ نہیں بیس سینٹی میٹر برف کا مطلب کتنے بیلچے برف ہے؟
موسم کا حال بتانے والا غلط بتا رہا تھا بیس نہیں تیس سینٹی میٹر برف گری ہے۔ برف ہٹانے والا بلڈوزر خود برف میں پھنس گیا۔ اس کا ڈرائیور میرے پاس بیلچہ ادھار مانگنے آیا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ وہ برف جو وہ میرے دروازے پر بکھیرتا رہا ہے، اسے اٹھانے میں میرے دو بیلچے ٹوٹ چکے ہیں۔ جی چاہ رہا تھا کہ تیسرا اور آخری بیلچہ اس کے سر پر ہی توڑ دوں۔ اس سے پہلے کہ میں اپنے باغی خیالات کو عملی جامہ پہناتا اس نے کوچ کرنے ہی میں اپنی خیریت سمجھی۔
برف کے ساتھ میرا ہنی مون تو کب کا ختم ہو چکا تھا۔ میں باہر کھڑا موسم، بیلچہ اور ہاتھوں کے چھالے دیکھ رہا تھا کہ بڑے صاحب زادے باہر آ گئے ان کی طبیعت اب بہتر تھی۔ فرمانے لگے
”ارے یہ نمک کا تھیلا اسی طرح بھرا رکھا ہے۔ نمک ڈالیں نمک۔ اس سے برف آسانی سے پگھل جائے گی۔“
یہ کہہ کر ان حضرت نے چھوٹی بالٹی میں نمک ڈال کر ڈرائیو وے پر چھڑکنا شروع کر دیا۔ میں تو گرمی کھاتا ہوا اندر آ گیا۔ بھلا یہ کیا نسخہ ہے؟ کچھ دیر کے بعد باہر نکلا تو اچھی خاصی برف پگھل کر پانی کی طرح بہہ رہی تھی۔ مجھے مالک مکان کے رخصتی الفاظ یاد آ گئے جو میں نے برف ہٹانے کی خوشی میں سنے ہی نہیں تھے۔
” نمک کے دو بڑے تھیلے یہاں پڑے ہیں، زیادہ برف ہو تو آپ ان کو استعمال کر لینا، تھوڑی آسانی ہو جائے گی۔“
میرا دل چاہ رہا تھا کہ نمک والی بالٹی دو ٹوٹے ہوئے بیلچے سمیت اپنے سر پر مار لوں۔ دوسری صبح اخبار نے خبر دی کہ اب تک مزید بیس سینٹی میٹر برف گر چکی ہے اور اگلے چند گھنٹوں میں اتنی ہی برف کی توقع اور ہے۔
پچھلے چند گھنٹوں میں بے شمار حادثات ہوئے ہیں اور گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد برف میں پھنسی ہوئی ہے۔ سنو ٹائر یعنی برفانی ٹائر تبدیل کروانے والوں کی قطاریں لگی ہوئیں ہیں اور بعض جگہوں پر سٹاک ختم ہو چکا ہے۔ برف پگھلانے والا نمک بھی کہیں دستیاب نہیں ہے۔ مجھے کینیڈا کے کاروباری لوگوں پر شبہ ہو چلا ہے۔ ذرا سی سمجھ بوجھ نہیں۔ اتنی بات تو ہمارے ہاں ایک معمولی شخص بھی سمجھتا ہے کہ مال غائب کر دو ۔ کال پڑ جائے تو منہ مانگے داموں بیچو۔
مزید برفباری کے ساتھ اخبار نے ’فریزنگ رین‘ کی بھی اطلاع دی ہے اور ابھی کرسمس میں ایک دن باقی ہے۔ ہم نے اپنے طور پر فریزنگ رین کا ترجمہ منجمد بارش کر لیا اور مطمئن ہو گئے۔ ہمارے لحاظ سے یہ بارش کا پانی ہو گا جو زمین پر آتے آتے جم جائے گا۔ اسے جمنا ہی چاہیے اس سردی میں بھلا اس میں کیا خاص بات ہے؟ یہاں بعض اوقات غیر اہم بات کو بھی یہ کینیڈین بہت اہمیت دیتے ہیں
ہم لوگوں نے یہ طے کیا کہ ناشتے کے فوراً بعد جیسے بھی ممکن ہو کھانے پینے اور فوری ضرورت کا سامان خرید لائیں۔ مالک مکان بھی نہیں ہیں پتہ نہیں کیا صورتِ حال ہو؟ اس اشد ضروری سامان میں بیگم نے موم بتی اور ماچس کا بھی اضافہ کر دیا تھا۔ موم بتی ہنہ۔ یہ کینیڈا ہے پاکستان نہیں، یہاں لائٹ جانے کا کیا سوال۔ بیگم کی باتیں۔ بہرحال میں نے زیادہ بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
بڑے بیٹے نے بیماری کے باوجود ساتھ چلنے کی ہامی بھری اور ہم لوگ سردی میں سکڑتے ہوئے سامان کی خریداری کے لئے باہر نکلے۔ ہمارے ہاتھ میں دو تھیلے تھے۔ ہمیں پتہ تھا کہ واپسی میں ان بھرے ہوئے دو تھیلوں کو لے کر اس برف میں چلنا کارِ عظیم بھی ہے اور کارِ ثواب بھی۔ کارِ ثواب اس لئے کہ آپ اپنے گھر والوں کے لئے یہ خدمت انجام دے رہے ہیں (میں نے کینیڈا آنے سے پہلے ٹی وی پروگرام میں سنا تھا) ۔
باہر نکلے تو ہمارے عمر رسیدہ پڑوسی حیران کم پریشان زیادہ، اپنی برف میں دفن گاڑی کے پاس کھڑے تھے۔ کرسمس کی روایتی سرخ ٹوپی میں ان کی سرخ و سفید رنگت سرخ ٹوپی کا ہی ایک حصہ لگ رہی تھی۔ ان کی گاڑی کے دروازوں اور چابی کے سوراخ میں برف جم کر پتھر ہو چکی تھی، جس میں وہ چابی لگانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
میں تو برف کے کھیل سے پہلے ہی بہت تنگ تھا اور کافی تماشے دیکھ چکا تھا اس لئے چاہ رہا تھا کہ نظر بچا کر نکل جاؤں لیکن ہمارے صاحبزادے رک گئے اور بڑے میاں سے پوچھا
”کچھ مدد چاہیے؟“
”بالکل، بالکل۔ مجھے بیگم کو لے کر ڈاکٹر کے پاس جانا ہے اور یہ گاڑی۔“
”لائیے ذرا چابی دیجئے“ ۔ صاحبزادے نے چابی کو گھما پھرا کر دیکھا
”اس میں تو ریموٹ کنٹرول ہے۔ گاڑی باہر سے بھی سٹارٹ ہو سکتی ہے“
”پتہ نہیں، میں نے کبھی استعمال نہیں کیا۔ مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں“ بڑے میاں نے جواب دیا
بیٹے نے ریموٹ کنٹرول کے ایک دو بٹن دبائے، گاڑی سٹارٹ ہو گئی
”آپ گھر میں بیٹھیے۔ جب تک میں اس پر جمی ہوئی برف صاف کرتا ہوں۔ کچھ دیر میں گاڑی گرم ہو جائے گی تو دروازے کھولنے میں آسانی ہو جائے گی“
بڑے میاں ممنون ہوتے ہوئے اندر چلے گئے اور مجھے اپنے بیٹے کے انسان دوست رویے پر فخر سا محسوس ہونے لگا۔
کچھ دیر میں گاڑی گرم ہو گئی، اس پر سے برف صاف ہو گئی اور دروازے بھی کھل گئے۔ بڑے میاں اور بڑی بی برف سے بچتے بچاتے گاڑی میں بیٹھنے لگے۔ ہمارے ہاتھ میں گروسری کے تھیلے دیکھا اور جب یہ پتہ چلا کہ ہم پیدل جا رہے ہیں تو کہنے لگے
”ہمارے ساتھ ہی چلے چلئے۔ ہماری دوسراہٹ ہو جائے گی۔ موسم اور گاڑی کا کچھ اعتبار نہیں“
زیادہ انکار اور اصرار کی گنجائش نہیں تھی، ہم ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔
معلوم یہ ہوا کہ اس بزرگ جوڑے کے صاحبزادے آج رات اپنی بیوی بچوں سمیت اپنے والدین کے ساتھ کرسمس منانے امریکہ سے پہنچ رہے ہیں۔ دونوں بہت خوش تھے کہ ایک عرصے کے بعد بیٹے بہو اور پوتے پوتیوں سے ملاقات ہو گی۔
ہمارے بیسمنٹ میں ایک روشندان بھی ہے۔ یہ ہمارے لئے بہت سی خدمات انجام دیتا ہے اور اس روشندان کے توسط سے ہی ہمارا رابطہ مہذب دنیا سے قائم ہے۔ ہمیں اس روشندان سے ہی پتہ چلتا ہے کہ سورج کب نکلا اور کب غروب ہوا۔ رات کب آئی، کب گئی۔ آسمان پر بادل ہیں یا نہیں؟ بارش ہو رہی ہے یا برف گر رہی ہے۔ زیادہ دل گھبرائے تو اسے کھول لیتے ہیں تاکہ باہر کی تازہ ہوا اندر آ جائے۔ سردی محسوس ہو تو اسے بند کر لیتے ہیں۔ کھانا پکانے کی وجہ سے اگر کمرہ میں دھواں بھر جائے تو بھی اسے کھول لیا جاتا ہے تاکہ دھویں کی وجہ سے فائر الارم نہ بجنا شروع ہو جائے۔ غرض کہ یہ روشندان ہے بہت کام کی چیز۔ ہمارا چھوٹا بچہ کھانا کھاتے ہوئے اکثر پوچھتا تھا کہ ہم یہ رات کا کھانا کھا رہے ہیں یا دن کا کھانا۔ ہم نے اسے سکھایا کہ روشندان سے باہر دیکھو، اگر روشنی ہے تو کھانا دن کا ہے اور اگر اندھیرا ہے تو تم رات کا کھانا کھا رہے ہو۔ قصور اس غریب کا بھی نہیں۔ بیسمنٹ اندھیرا ہے اس لئے رات دن بلب جلائے رکھنا پڑتا ہے۔
دوپہر سے فریزنگ رین کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ہمیں تو اپنے بیسمنٹ کے روشندان سے صرف گہرے بادل دکھائی دے رہے تھے۔ اتنے میں باہر سے درخت ٹوٹ کر گرنے کی آواز آئی۔ یا اللہ ہوا تو چل نہیں رہی ہے، یہ درخت کیسے ٹوٹ کر گرا؟ اگلے لمحے لائٹ چلی گئی۔
”دیکھا، اسی لئے تو موم بتی منگائی تھی“ بیگم نے خوش کر کہا
ہم موم بتی کی روشنی میں کھانا کھا ہی رہے تھے کہ پاکستان سے فون آ گیا
”کیوں بھئی کرسمس کیسا جا رہا ہے؟“
”بہت زبردست، کینڈل لائٹ ڈنر ہو رہا ہے“
”گویا مزے ہو رہے ہیں، ہاں بھئی کینیڈا کینیڈا ہے“
اتنی ہی بات ہوئی تھی کہ ایک اور درخت گرنے کی آواز آئی اور ٹیلیفون کی لائن کٹ گئی۔ درخت گرنے کی اصل وجہ وہ برف تھی جو گرنے کے بعد پگھل نہیں پا رہی تھی اور ٹہنیوں پر ایک بوجھ کی طرح جمتی چلی جا رہی تھیں۔ نتیجے کے طور پر ٹہنیاں اور درخت دونوں ہی ٹوٹ رہے تھے۔
دوسری صبح، صبحِ کرسمس تھی۔ بالکل وائٹ کرسمس۔ ہماری لائٹ تو آ گئی لیکن ٹورانٹو کے بیشتر حصے میں بجلی بحال نہیں ہو سکی تھی۔ اس کی وجہ وہ درخت تھے جو ٹوٹ کر بجلی کے تاروں پر گرے تھے۔ بجلی کا عملہ بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر تار ٹھیک کرنے میں تو بہت ماہر تھا اور ان کے پاس مناسب اوزار اور ہتھیار بھی تھے لیکن درختوں سے برسرِ پیکار ہونا ان کے لئے اتنا آسان ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ بجلی کا عملہ بہت جاں فشانی سے کام میں لگا ہوا تھا۔ ان بیچاروں کی کوشش تھی کہ سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے لوگوں کی کس طرح بجلی اور ہیٹنگ بحال ہو۔ کمیونٹی سنٹرز نے اپنے دروازے کھول دیے تھے۔ لوگ اپنے گھروں سے کھانے پینے کا سامان لا کر جمع کر رہے تھے اور ضرورت مند اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔
کرسمس کی شام تک صورتِ حال بہت بہتر ہو چلی تھی۔ میں نے سوچا کرسمس کی شام ہے ذرا باہر نکل کر کرسمس کی گہما گہمی دیکھیں۔ میرا خیال تھا کہ کچھ ایسا سماں ہو گا جیسا وطنِ عزیز میں عید کے دن ہوتا ہے۔ میں نے سردی کے باوجود پورے محلہ کا چکر لگایا، ایک ہو کا عالم تھا۔ گھروں میں روشنیاں جل رہی تھیں اور لوگ اندر ہی کرسمس پارٹی پارٹی کھیل رہے تھے۔ عجیب پھسپھسا سا کرسمس ہے۔ بڑے میاں کے ڈرائیو وے پر ایک گاڑی کھڑی تھی جس پر امریکہ کی تختی لگی تھی۔ گویا بڑے میاں کے بیٹے اور ان کی فیملی پہنچ گئی ہے۔
دوسری صبح زندہ دلان کینیڈا رات دو بجے سے بڑے بڑے سٹورز پر باکسنگ سیل کی لائن میں لگ چکے تھے۔ یہ لائنیں الیکٹرانک سٹورز پر زیادہ تھیں۔ ایک نوجوان ایک تہائی قیمت پر ٹیلیوژن کا نیا ماڈل خریدنے کے شوق میں صبح دو بجے سے لائن میں لگ گیا تھا۔ دکان والے نے اعلان کیا تھا کہ نصف قیمت پر صرف پانچ ٹیلیویژن فروخت کے لئے پیش کیے جائیں گے۔ چونکہ سردی بہت تھی اس لئے وہ نوجوان اپنا سفری بستر، کرسی اور خیمہ ساتھ لایا تھا۔ اس نے مال کے دروازے کے آگے اپنا ساز و سامان آراستہ کیا اور وہیں نیم دراز ہو گیا تھا۔ اس کے خیال میں یہ سودا برا نہیں تھا۔ بچت کی بچت اور شہرت مفت میں۔
یہ تھا کینیڈا میں ہمارا پہلا کرسمس اور وہ بھی وائٹ کرسمس۔ بلے بلے






