استاد رشید


ہمیں یقین ہے کہ ترک شیرازی نے کبھی انسانی ہیلی کاپٹر نہیں دیکھا ہو گا۔ خدا بخشے، یہ ہمارے استاد رشید، ملک خدا بخش کی ذاتی ایجاد تھی۔ شہر میں اس ایجاد کا بہت شہرہ تھا اور دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے تھے۔ بعد میں مقامی اسکولوں کے دیگر اساتذہ نے بھی ان کی نقالی کرتے ہوئے انسانی ہیلی کاپٹر تیار کیے مگر ان میں وہ بلند پروازی نہیں تھی۔ مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ ملک خدا بخش کے ہیلی کاپٹر فضاؤں میں شاہیں وار پھرتے تھے اور مجال ہے کہ کبھی ان کی پرواز میں کوتاہی آئی ہو۔

ناچیز کو یہ اعتراف ہے کہ وہ لذت پرواز کے اس عظیم انسانی تجربے سے محروم رہا ہے لیکن یہ اعزاز کیا کم ہے ہم ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے ہیلی کاپٹر کی تیاری کے تمام مراحل کا مشاہدہ کیا ہے۔ استاد رشید چار معاون ہوا بازوں کی مدد سے یہ ہیلی کاپٹر اڑاتے تھے۔ ہائے، وہ دن اب خواب و خیال ہوئے۔ کیا زمانہ تھا جب خلیل خاں فاختہ اور استاد رشید ہیلی کاپٹر اڑایا کرتے تھے۔ ان کا معیار بہت کڑا تھا۔ ہر ایرے غیرے کو وہ شرف پرواز عطا نہیں کرتے تھے۔ ہر مدعی کے واسطے دار ورسن کہاں؟ سالک کو بہت سے مقامات سے گزرنے کے بعد ہی اذن پرواز ملتا تھا۔

استاد رشید میں عفو و درگزر کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ عام طور پر شاگردوں کی معمولی خطاؤں کو نظرانداز کر دیا کرتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ ایک دو گھنٹوں کے لیے کان پکڑوا کر مرغا بنا دیا کرتے لیکن رحم دل ایسے تھے کہ مرغے کے تھک کر زمین بوس ہونے سے پہلے ہی عام معافی کا اعلان کر دیتے تھے۔ اس موقعے پر یہ شعر رقت انگیز انداز میں پڑھنا نہیں بھولتے تھے :

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

شیطان لڑکوں کو کبھی کبھی تھپڑ بھی رسید کر دیا کرتے تھے لیکن بعض رمز شناس لڑکے ان کی رحم دلی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے اور ایک گال پر تھپڑ کھاتے ہی دوسرا گال آگے کر دیتے تھے۔ وہ فوراً ہاتھ روک لیتے تھے اور کہتے تھے ”ناہنجارو، کیوں مجھے گناہ گار کرتے ہو۔“ اس کے بعد وہ خالی ہاتھ میں بید تھام لیتے تھے جس کی قامت عصائے موسیٰ سے کم نہ ہو گی۔

استاد رشید کا یہ دستور تھا کہ ایک نشست میں کسی طالب علم کو درجن سے زائد بید رسید نہیں کرتے تھے، اور وہ بھی موسم گرما میں۔ موسم سرما میں یہ تعداد کم ہو کر محض دس رہ جاتی تھی۔ فرماتے تھے ”زمستاں میں لہو رگوں میں دوڑتے پھرنے کا قائل نہیں ہوتا اور بدن میں جم سا جاتا ہے جس کی وجہ سے معصوم طلبہ کے نازک ہاتھوں پر چوٹ لگنے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔ میرا کیا ہے، میں موسم گرما میں کسر پوری کر لوں گا لیکن مجھے اس کڑاکے کی سردی میں ان کی نازک دستی کا خیال رہتا ہے۔“ ان کی ہم دردی اور رحم دلی دیکھ کر ہماری آنکھوں میں آنسو آ جاتے لیکن بدخواہ اسے ہماری بزدلی پر محمول کرتے کہ دس ہی ڈنڈے کھا کر گریہ و زاری کرنے لگے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ استاد رشید بہت ہی فیاض اور مہربان تھے۔ کبھی سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے تھے۔ اگر کبھی سوئے اتفاق سے ڈنڈا کسی سخت جان طالب علم کے جسم سے ٹکرا کر ٹوٹ جاتا یا کوئی شرارتی لڑکا ایسے چھپا دیتا تو ذرا بھی خفا نہ ہوتے بلکہ کام چور اور نالائق طلبہ کو خود کلاس سے باہر روانہ کرتے کہ اسکول کے سبزہ زار میں ایستادہ شیشم کے درخت سے اپنی پسند کی شاخ توڑ لائیں۔ وہ خواہ کتنی ہی نازک شاخ لے کر کیوں نہ آتے، طیش میں نہ آتے تھے، اپنے اعصاب قابو میں رکھتے تھے اور حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی سے ڈنڈوں (شاخوں ) کی تعداد میں اضافہ کر دیتے، خواہ موسم سرما ہی کیوں نہ ہوتا۔ یہ اضافہ اتنا غیر محسوس ہوتا کہ سائل کو ہاتھوں ہاتھ خبر نہ ہوتی۔

استاد رشید بلا کے کن رس تھے۔ کبھی موسم اچھا ہوتا، ہولے سے باد نسیم چل رہی ہوتی تو کسی غبی لڑکے کو پاس بلاتے اور اس کی انگشت شہادت اور انگشت بزرگ کے درمیان میں قلم رکھ کر انگلیوں کو اس احتیاط سے دباتے کہ نہ تو قلم ٹوٹتا اور نہ ہی کوئی انگلی، البتہ لڑکے کی چیخ ضرور نکل جاتی۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ بے سری چیخ سن کر وہ اپنی ہنسی پر قابو نہیں پا سکتے تھے اور جب تک وہ لڑکا اپنی چیخ کی لے درست نہیں کرتا تھا، ریاض کرتے رہتے تھے۔ گلوکاری کے فن سے ایسی دل چسپی آج کل کے اساتذہ میں مفقود ہے۔

یہ تو استاد رشید کی روزمرہ زندگی کی خوش طبعی، کرم گستری اور بندہ پروری کی سادہ سی مثالیں ہیں۔ ان کا اصل کارنامہ تو ان کی ایجاد تھی جس کا نظارہ کرنے لوگ دور دور سے آتے تھے۔ تاہم ہمیں یقین ہے کہ ترک شیرازی نے کبھی انسانی ہیلی کاپٹر نہیں دیکھا ہو گا۔ استاد رشید کا معیار بہت کڑا تھا۔ ہر ایرے غیرے کو شرف پرواز عطا نہیں کرتے۔ یہ اعزاز صرف اس طالب علم کو حاصل ہوتا جو ایک مدت سے اسکول میں رونق افروز نہ ہوا ہو اور پھر ایک سہانی صبح کو نصیب دشمناں، وہ لوٹ کر اسکول آیا ہو۔

استاد رشید اس طالب علم کا شاندار استقبال کرتے تھے۔ اس روزان کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ سب سے پہلے وہ اس لڑکے کے قدم لیتے تھے اور ٹانگ اڑا کر اسے زمین بوس کر دیتے تھے۔ ایسے موقعوں پر نیک دل طلبہ تو منہ کے بل گر کے ’ھو اللہ احد‘ کہتے تھے لیکن کچھ لڑکے ناحق شوروغل کرتے تھے۔ اگلے مرحلے میں استاد صاحب چار معاون ہوا بازوں کو طلب کرتے تھے۔ یہ معاون ہوا باز، کلاس کے سب سے ہٹے کٹے لڑکے تھے جو اپنے کام کے ماہر تھے۔

وہ آتے ہی نہایت مضبوطی سے اوندھے منہ گرے ہوئے لڑکے کے دست و پا پکڑ لیتے تھے۔ یہ چار لڑکے، ایک ایک بازو اور ایک ایک ٹانگ، الگ الگ مضبوطی سے تھام کر اسے دھیرے دھیرے چار فٹ تک بلند کر کے ”منہ ول زمین شریف“ ہوا میں معلق کر لیتے تھے۔ یہاں سے استاد رشید کے معجزۂ فن کی نمود شروع ہوتی تھی۔ وہ اپنے عصا کو بغل میں سے نکالتے تھے اور عامل کامل کی طرح اپنے معمول کی کمر وغیرہ پر برسانا شروع کر دیتے تھے۔ یہ مشق ناز خاصی مشقت طلب تھی مگر استاد صاحب کے دست استقلال میں لغزش نہ آتی تھی۔

ادھر معمول کو اس عمل سے شاید گدگدی محسوس ہوتی تھی کیوں کہ وہ نہ صرف اونچے سروں میں قہقہہ نما آوازیں بلند کرتا تھا بلکہ تیزی سے ہاتھ پاؤں بھی مارتا تھا۔ ہاتھ پاؤں کی یہ گردش اتنی بلاخیز ہوتی کہ گمان ہوتا کہ فضا میں کوئی ہیلی کاپٹر محو پرواز ہے۔ یہ انسانی ہیلی کاپٹر، استاد رشید کی خالص ذاتی ایجاد تھی۔ افسوس کی بات ہے کہ کبھی حکومتی سطح پر ان کی اس ایجاد کی پذیرائی نہ ہوئی۔

یادش بخیر، آج اسکول کا زمانہ بے حساب یاد آیا ہے اور خدا بخشے، استاد رشید ملک خد بخش کی یاد نے سینے میں ایک تیر اور ہاتھ پر ایک بید ایسا مارا ہے کہ ہائے ہائے۔ دل دھڑکنے اور ہتھیلی پر کھجلی ہونے کا سبب یہ ہے کہ ترکی سے ایک باتصویر خبر آئی ہے کہ ارطغرل نامی ایک اداکار نے اپنے بچپن کے اسکول کو خرید کر اسے نقش کہن کی طرح مٹا دیا ہے۔ ترک اداکار نے مسمار شدہ عمارت کے ساتھ اپنی تصویر بنا کے اسے دنیا میں عام کیا ہے۔

اسے یہ رنج تھا کہ ماضی میں اسکول کے اساتذہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ان تلخ یادوں کو بھلانے کے لیے اس نے انتقام کا یہ انداز اختیار کیا ہے۔ ارے میاں ارطغرل، تم بہت تھڑ دلے نکلے، دو چار تھپڑوں اور ڈنڈوں ہی میں ڈھیر ہو گئے، اپنے نام ہی کی لاج رکھی ہوتی، اے ننگ اسلاف۔ ہمارا نہیں خیال کہ تمہارا کوئی استاد، ملک خدا بخش کی ٹکر کا ہو گا، نہ تم نے زندگی میں کبھی انسانی ہیلی کاپٹر دیکھا ہو گا اور نہ تم خود کبھی اس عظیم انسانی تجربے سے بہرہ مند ہوئے ہو گے۔

ہم نے استاد رشید کے زیر سایہ (ڈنڈوں کی چھاؤں میں ) پانچ سال پڑھائی کی ہے لیکن ہمیں کوئی سلطنت بھی دے اور ملک کا نگران وزیراعظم ہی کیوں نہ بنا دے تو بھی ہم اس کے بدلے میں اپنا اسکول ہرگز نہیں دیں گے۔ ہم اپنے اسکول کی جانب بڑھنے والے ہر ہاتھ پر ڈنڈے برسائیں گے اور اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑ دیں گے۔ ہمیں تو اپنا اسکول بہت عزیز ہے اور استاد رشید عزیز تر۔ موقع ملا تو ہم اسکول میں استاد رشید، ملک خدا بخش کی یاد میں انسانی ہیلی کاپٹر کا ایک مجسمہ ضرور نصب کرائیں گے۔

Facebook Comments HS