سوشل میڈیا پر موجودگی کا جواز


ہماری ہر جگہ موجودگی ممکن نہیں ہے۔ مختلف جگہوں پر موجودگی کا اصرار بھی بے معنی ہے۔ ہمیں انتخاب کرنا پڑتا ہے اور اس اس انتخاب میں بسا اوقات غلطی کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ جہاں ہم موجودگی کی خواہش رکھتے ہیں وہاں ہماری موجودگی توقع پر پورا نہیں اترتی ہے۔ یہ الگ بات کہ جہاں ہم موجود نہیں ہیں وہاں ہمارا انتظار ہو رہا ہے۔ ترجیحات کا تعین پسند، جذبے، خواہش اور مفاد کے تابع ہوتا ہے۔ کبھی کبھی خسارے کا سودا کرنا پڑتا ہے۔

اس خسارے میں اطمینان ہو نہ ہو ذہن ضرور شامل ہوتا ہے۔ انسان کو نئی جگہوں کی جستجو بے چین رکھتی ہے اور وہ آمادۂ سفر رہتا ہے۔ اکثر اوقات اسے لوٹنا پڑتا ہے لیکن کبھی کبھی نئی جگہوں کی گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ اس جگہ کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ بعض جگہیں پڑاؤ کے لیے ہوتی ہیں۔ جز وقتی قیام کے بعد رخت سفر باندھنا پڑتا ہے۔ تا دیر قیام کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ پڑاؤ کو قیام گاہ سمجھنا ہرگز دانش مندی نہیں بے۔ دن، مہینے، سال ہماری عارضی قیام گاہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہم مستقل ان میں اپنی موجودگی برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں۔

ہمیں فردا سے آئندہ کا سفر کرنا پڑے گا۔ ہم اسے روک نہیں سکتے ہیں۔ کیا اس دوران میں حرف و صوت، رنگ و شکل کی صورت میں کہیں موجودگی کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے یا عمر کا ایک حصہ رائیگاں چلا گیا ہے۔ ہماری یہاں موجودگی پہلی اور آخری بار ہے۔ اس موجودگی کو آئندہ کے لیے محفوظ بنانا از حد ضروری ہے۔ اربوں لوگ آئے اور چلے گئے ہیں مگر ان کی موجودگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ اتفاق سے ہم اس عہد میں موجود ہیں جہاں اپنی موجودگی کو محفوظ رکھنا زیادہ آسان ہو گیا ہے۔

سوشل میڈیا اور خصوصاً فیس بک پر ہماری موجودگی بے معنی نہیں ہے۔ یہاں ہماری آواز، تصویر اور تخلیق محفوظ رہتی ہے۔ ہم صدیوں بعد بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔ اگر آپ فنون لطیفہ سے وابستہ ہیں۔ آپ گنگناتے ہیں، تصویر بناتے ہیں، لفظوں کو شعروں میں ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں، پتھر سے مجسمہ نکال سکتے ہیں، راگ چھیڑنا جانتے ہیں تو گمان یہی ہے کہ آپ کہیں ازلی ابدی محفوظ ہو گئے ہیں۔

سوشل میڈیا محض رابطے کا ذریعہ نہیں ہے۔ یہ ہماری زندگیوں کا ریکارڈ مرتب کر رہا ہے۔ فیس بک میں سبز رنگ کا جلتا ہوا بلب ہمیں ایک دوسرے کی موجودگی کا پتا دیتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کون کتنی دیر پہلے آن لائن تھا اور کتنے دن سے کوئی مسلسل آف لائن ہے۔ کچھ بلب مسلسل جلتے بجھتے رہتے ہیں اور وقفے وقفے سے اپنے ہونے کی خبر دیتے ہیں۔ کئی بلب آپ کے ساتھ آن لائن ہوتے ہیں اور جب آپ آف لائن ہوتے ہیں تو وہ آف لائن ہو جاتے ہیں۔

زندگی کا راز موجود و عدم میں پنہاں ہیں۔ کچھ موجود ہو کر بھی موجود نہیں ہیں اور کچھ عدم موجودگی کے باوجود اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم کس حیثیت سے موجود ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم موجود ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں ہیں اور کسی کو ہماری کوئی خبر نہیں ہے۔ کروڑوں لوگوں کے فیس بک یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہی موجود نہیں ہیں۔ اس زمانے میں ان کی موجودگی کا جواز کیا ہے؟ جلد یا بدیر دنیا کے ہر شخص کا اکاؤنٹ موجود ہو گا۔ وہ لوگ اداروں کی نظر سے بچ جائیں گے جن کا کوئی اکاؤنٹ نہیں ہو گا۔ ان کی ہر سرگرمی نگاہ سے اوجھل رہے گی۔ اس سے قطع نظر بہرحال یہ ضروری ہے کہ اکاؤنٹ کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلائیں تا کہ ہماری عدم موجودگی میں ہماری موجودگی کا پتا چلتا رہے۔

 

Facebook Comments HS