پاکستان اسٹڈیز ایک ایسا مضمون ہے جس کا مقصد طلبا کی پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ کے بارے میں معلومات کو بڑھانا اور طلباء کے دلوں میں حب الوطنی کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ ایک اچھے شہری بن سکیں۔ اگرچہ نویں جماعت سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک پاکستان اسٹڈیز ایک لازمی مضمون ہے، لیکن یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ بہت سارے طلباء اہم تاریخی شخصیات اور واقعات سے بے خبر ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ کچھ جانتے ہیں تو، یہ صرف کچھ مشہور شخصیات کے نام ہیں اور ان کی کامیابیوں، زندگی اور کامیابی یا زوال کے اسباب کے بارے میں نہیں۔

مختلف سطح کے پاکستان اسٹڈیز پر کتابیں ان موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں جو ان سب میں دہرائی جاتی ہیں۔ ہر سطح پر ان منتخب موضوعات کے بارے میں پڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ کے اندر اس بات کا شعور اور دلچسپی پیدا کی جائے اور ایسے مزید موضوعات شامل کریں، جو معلوماتی اور فائدہ مند ثابت ہو سکیں۔ تاریخ کے علاوہ، موجودہ مسائل اور پریشانیوں کے عنوانات ہونے چاہئیں جن کا ہمارے ملک کوفی الحال سامنا ہے۔

ہمارے ملک کو درپیش معاشرتی برائیوں اور پریشانیوں کے خاتمے کے لئے انسانی حقوق اور اس کی اہمیت کا درس دینا ہو گا۔ پاکستان سٹڈیز میں ایسے مضامین کو شامل کیا جائے جن کا تعلق انسان کی آنے والی زندگی سے ہو جس کو پڑھ کر طلبا اپنی آنے والی زندگی کو بہتر کرسکیں۔ مزید یہ کہ کتاب میں جو مواد پیش کیا گیا ہے اس میں طلباء کو تنگ نظری اور تعصب پسند نہیں بنانا چاہیے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ماضی کی غلطیوں کو قبول کرنے کے لئے فیکلٹی کھولیں اور غلطیوں کو سدھارنا سیکھیں۔ اس سے طلبا میں روشن خیالی پیدا ہوگی اور وہ ان چیزوں کی حوصلہ افزائی کریں گے جو ان کے باپ دادا نے حاصل نہیں کیے تھے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ درسی کتابیں تعصب اور کسی بھی طرح کی تعصب یا دقیانوسی تصنیف سے پاک ہوں اور انہیں حقائق اور اعداد و شمار دینا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ درسی کتب میں صرف حقائق اور اعداد و شمار شامل ہونے چاہئیں، بلکہ انہیں ایک دلچسپ انداز میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کتابیں سیکھنے اور پڑھنے سے لطف اٹھائیں۔ اس کو موضوع کی طرف دلچسپی پیدا کرنا اور ترقی دینی چاہیے اور ان کے نظریات کو وسیع کرنے اور علم کے نئے نظریات کھولنے میں مدد دینی چاہیے۔ سیکھنے والوں کے لئے طرح طرح کے سوالات کے ساتھ ساتھ سرگرمیاں بھی ہونی چاہئیں تاکہ وہ تفریح کے ساتھ سیکھ سکیں۔

مزید مطالعے کے لیے کتابوں کا مقصد شعور پیدا کرنا ہے ایسے لٹریچر یا ایسی کتاب کا کوئی فائدہ نہیں جو کم ازم کم کسی ایک طالب علم کا ذہن نا بدل سکے۔ ڈاکٹر مبارک علی (تاریخ دان) کے مطابق پاکستان میں جو بھی کتابیں پاکستان بننے کے بعد لکھیں گئی ان میں سوائے فرضی بات کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ جن لوگوں نے پاکستان سٹڈی کی کتابیں لکھیں ان کا تعلق یا تو ملٹری سے تھا یا پھر بیوروکریسی سے جنہوں نے باقاعدہ تاریخ لکھنے کی کوئی ٹرینگ نہیں لی۔ لہذا کتابوں میں حوالہ جات مجھے امید ہے کہ تجاویز کا نفاذ پاکستان اسٹڈیز کی تدریس کے مقاصد کے حصول میں فائدہ مند ثابت ہو گا۔ ایسا لٹریچر دیا جائے جس کے باقاعدہ حوالہ جات موجود ہوں تاکہ جس کو دیکھ کے یہ لگے کہ مصنف نے جو مواد اکٹھا کیا ہے وہ درست ہے من گھڑت یا فرضی نہیں۔

پاکستان سٹڈیز کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس کو پڑھانے والے اساتذہ زیادہ تر کسی اور مضمون کے ہوتے ہیں مثال کے طور پر پولیٹیکل سائنس، اردو، سوشل ورکس ایسے ہی کسی اور مضمون میں ایم کی ڈگری لی ہوتی ہے اور وہ پاکستان سٹڈیز بھی اداروں میں پڑھا رہے ہوتے ہیں۔ اس کی 2 وجوہات ہو سکتی ہیں یا تو ادارہ ذمہ دار ہے جو پیسے بچانے کے چکر میں سبجیکٹ سپیشلسٹ کو باہر نہیں کرنا چاہتا اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کرپشن کا بازار گرم ہے آج کل کے دور میں صرف اسی انسان کو کسی ادارے کے اندر جاب ملتی ہے جس کے پاس کوئی پولیٹیکل سفارش موجود ہو اور جس کے پاس سفارش موجود ہے چاہے وہ کسی بھی مضمون کا ہو اسے جاب پے رکھ لیا جاتا ہے۔

ویسے تو سیاست کو طالبعلموں کے لیے اچھا شگن تصور کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ طلبا کو اور لوگوں کو آپس میں ملاتی ہے اور ان کے درمیان جو دوری ہوتی ہے اسے ختم کرتی ہے اس وجہ سے طلبا کو سیاست سے دور رکھنے والے خوف زدہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہ جانتے ہیں کہ اگر طلبا متحد ہو گئے تو ان کے مفادات کو خطرہ ہو گا۔ مگر یہاں میں اس سیاست کی بات کر رہا ہوں جس میں طلبا بچارے ٹیچرز کی آپسی سیاست میں نقصان اٹھاتے ہیں۔

یہ سب کچھ لکھنے سے میرا مقصد ٹیچر کو ڈی گریڈ کرنا نہیں ہے بلکہ اس غلطی کو دور کرنا ہے جس کا تعلق اس مضمون کی بدحالی سے ہے جس سے اس مضمون کی اہمیت میں اضافہ ہو گا۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہم کیسے اس مضمون کو بہتر سے بہتر کر سکتے ہیں۔ اس کا میرے نزدیک ایک ہی حل ہو سکتا ہے کہ ٹیچر کو آپس کی نفرت کو بھلا کر، آپس کے اختلافات کو بھلا کر مل کے اس ملک کی، اس سبجیکٹ کی فلاح کے لیے، بہتری کے لیے کام کرنا ہو گا کیونکہ جب تک ٹیچرز اپنے اختلاف نہیں بھلائیں گے تب تک اس مضمون کو پڑھنے والے طالبعلم بھی اپنا اچھا کردار ادا نہیں کر سکتے معاشرے میں۔ میں نے بہت سے ایسے طالبعلموں کو دیکھا ہے جو بہت کچھ کر سکتے تھے اگر ان کا ساتھ دیا جاتا، ان کی بہتر راہنمائی کی جاتی، مگر ایسا نہیں ہے، ٹیچرز کی اپنی ذاتی عداوت کی وجہ سے بہت سے سٹوڈنٹس کا کیریر ختم ہو گیا۔ جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔

پاکستان میں پاکستان سٹڈیز کی اہمیت کے حوالے سے دیکھا جائے تو بہت زیادہ اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ آپ کسی بھی ڈیپارٹمنٹ میں جاب کے لیے اپلائی کریں یا چاہیے وہ سول سروسز کا امتحان ہی کیوں نہ ہو ہم اس مضمون کو پڑھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو ٹھیک کیسے کیا جائے۔ پاکستان کے اداروں میں اساتذہ کی کوئی کمی نہیں ہے ہاں مگر ایسے معلم کی ضرور کمی ہے جو یہ بتا سکے کہ تحقیق کیا ہے، جو یہ بتا سکے کہ پاکستان کے کلچر اور اس کی اہمیت کیا ہے بس کتابی باتیں ہیں جو بچوں کو رٹا دی جاتی ہیں ہر کہی دیا جاتا ہے کہ بس یہی آپ کا سلیبس ہے اسی میں اسے پیپر آئے گا کوئی نئی تحقیق نہیں کوئی نئی جستجو نہیں جو بچوں کے اندر یہ شعور پیدا کر سکے اور ان کی دلچسپی بڑھا سکے۔ یہی وہ جہ ہے کہ پاکستان میں تاریخ نویسی کے حوالے سے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔