سماج کے عملی کرداروں میں اخلاقی تربیت کا فقدان


imran ahmed soomro

دنیا کے قوموں کی شناخت سماجی اخلاقی، ثقافتی، معاشی معیارات اور اقدار سی ہوتی ہے۔ سماج میں افراد کا عمل پیدائش سے شروع ہو کر انسان کی زندگی کے آخری سانس تک ہوتا ہے اور اسی عمل کے ذریعے ثقافتیں آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی ریتی ہیں،

سماج میں افراد کے عملی کردار اجتماعی ہونے کے بجائے انفرادی ہوتے جا رہے ہیں یہ ہی وجہ ہے اخلاقیات و انسانیت کی کوئی اہمیت نظر نہیں آ رہی ہوتی۔ دوسروں کا حق مارنا، چھوٹی موٹی چوریاں کرنا، دوسروں کی تحقیر، غیبت اور بہتان تراشی بہت عام ہوتی جا رہی ہیں۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ جن کی پاس بڑی بڑی ڈگریاں ہیں، وہ بھی بنیادی اخلاقیات سے عاری ہیں۔ جامعات، کالجوں میں زیر تعلیم کے باوجود اخلاقیات سے کوسوں دور نظر آتے ہیں

اس معاشرتی مسئلے کی وجوہات عملی کردار ہے،

عملی کردار یہ ہے کہ ہم روزمرہ کی زندگی میں ہر لحاظ سے یورپی طرز عمل کو اپنانے کو ترجیع دیتے ہیں اور ہمہ وقت فحاشی کے راگ بھی گاتے رہتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہر خاص و عام آدمی یہ باور کراتا رہتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کا نظام اپنایا نہ جائے مگر اسی ہی رائج تعلیمی اور دفتری نظام کا حصہ ہوتے ہوئے اسلامی نظام کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں، اسی وہم و گمان میں کہ ہم سے زیادہ سچا اچھا مسلمان کوئی نہیں، مسجدوں سے نکلتے وقت جلد بازی کرتے ہوئے اخلاقیات کا احترام کرنا بھول جاتے ہیں اور مسجد میں داخل ہوتے وقت تاڑی ہوئی اچھی چپل یا جوتا چوری کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے حصول رزق حلال کے بجائے رشوت، بدعنوانی، دھوکا دہی، منافقت سے روزی کمانے کو فرض اور عبادت سمجھ کر کمائی اور کاروبار میں ترقی کا سبب سمجھتے ہیں، جانے انجانے میں کوئی غلطی ہونے پر اسے تسلیم کرنے اور معذرت کرنے کے بجائے غلط ثابت ہونے پر لڑنے مارنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں،

نوکریوں کے حصول کے لیے ڈگریاں تو حاصل کرتے رہتے ہیں مگر تعلیم و تربیت کو بھول جاتے ہوئے، تعلیمی یافتہ کم اور ڈگری یافت ہونے کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔

گھر اور اسکول جو انسان کی تربیت کے اہم مراکز تصور کیے جاتے ہیں وہاں بھی تربیت کا فقدان نظر آتا ہے۔ گھروں میں انسان سازی پر زور نہیں دیا جاتا ہے۔ اچھی تربیت کو فقط اچھے نمبر حاصل کر کے اچھے اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لینے کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ اور دیسی لہجے میں انگریزی کے جملے بولنے کو ہی بچے کی تربیت کی علامت سمجھا جاتا ہے، دوسری طرف اسکولوں کی حالت بھی ناگفتہ ہے اساتذہ کا سارا زور نمبرز کے حصول پر ہوتا ہے تاکہ ان کا اور ان کے اداروں کا نام روشن ہو، اور شہرت ہو،

جب اپنی ماں، بہن اور بیٹیوں کی عزت کی بات آتی ہے تو بہت بڑے غیرت مند ثابت ہوتے ہیں لیکن دوسروں کی ماں، بیٹی، بہنوں کے لیے سفاک درندہ بن کر احترام اور اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں،

سماج کے قابل احترام کردار، مولوی، علماء، اور ڈاکٹرز جو عوام کے لیے رہبر رہنما اور مسیحا سمجھے جاتے ہیں، وہ ہی دن رات عوام کی تذلیل کرتے نظر آتے رہتے ہیں،

انصاف کا حال یہ ہے کہ منصفین اور عوامی تحفظ کے اداروں کے عمل دار دولت کے ہوس میں خطرناک سے خطرناک مجرم کو با عزت بری کرانے کے چکروں مصروف نظر آتے ہیں اور مظلوم بچارے کورٹ کچہریوں کے ٹھوکریں کھا کھا کر عمر بھر انصاف کے انتظار میں ہی فوت ہو جاتے ہیں،

ذاتی رنجشوں اور انتقامی کارروائیوں میں توہین مذہب کا معاملہ بنا کر مرنے مارنے کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور سچا عاشق رسول ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ قرآن و سنت کی پیروی کرنے میں بدگمانی کا شکار رہتے ہیں۔ ایک طرف نماز کے پابند ہوتے ہیں تو فارغ وقت میں دوسروں کی برائی اور غیبت میں ہی مصروف رہتے ہیں،

سڑک پر آتے جاتے ہوئے پیدل یا گاڑی والوں کو راستہ دینا اپنی بے عزتی محسوس کرتے ہیں لیکن راستہ لینے کی باری آئے تو ہم راستہ ایسے چھین لیتے ہیں جیسے سڑک ذاتی ملکیت ہو، بہت سے ایسے عوامل ہیں جن کو اگر لکھا جائے تو وقت کم پڑ جائے، سماج میں کچھ ایسے افراد بھی موجود ہوتے ہیں جو ایسے عوامل کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں ہاں مگر وہ بھی غیر اخلاقی عمل کرنے والوں کی اکثریت کی وجہ سے زندگی میں مشکلات سے دوچار ہونے کی وجہ سے خاموشی اختیار کیے ہوتے ہیں۔

کیا اس طرح کے غیر اخلاقی عمل آئندہ نسلوں تک منتقل کرتے رہیں گے؟ !

یہ کوئی نہیں سوچتا کہ تعلیمی ادارے کا کام انسان سازی اور کردار کی بلندی کا حصول ہے۔ اس کے علاوہ اخلاقیات کے حوالے سے باقاعدہ کسی مضمون کی عدم موجودگی بھی معاشرتی مسائل کو جنم کا سبب ہے۔ اسلامیات اور دینیات کے نام پر بھی فقط سورتوں اور احادیث کے رٹنے پر زور دیا جاتا اس کی اصل روح سے طلباء کو آشنا نہیں کیا جاتا۔

قرہ ارض کے سب سے مقدس کتاب (قرآن) جس کا عنوان انسان ہے جس میں انسان کو زندگی گزارنے کے رہنما اصول دیے گئے ہیں جو دو حصوں پر مشتمل ہے ایک (حقوق اللہ) اور دوسرا (حقوق العباد) جس میں انسان کے حقوق، محبت اور حسن اخلاق سے پیش آنے پر زور دیا گیا ہے، پر افسوس کہ سماج میں وہ عملی کردار نظر نہیں آتا سماج میں ان تعلیمات کے بدولت ہی انسان کی شخصیت کی صحت مند نشوونما ہوتی ہے، تب ہی سماج صحت مند کہلاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لوگوں کا عملی کردار دن بہ دن غیر اخلاقی ہوتا جا رہا ہے، اس طرح کی سرگرمیوں کی وجہ سے کردار اور اعمال، میں تو جسمانی طور پر صحت مند نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں ذہنی طور پر بیمار ہیں۔

مطلب کہ ایک صحت مند سماج میں ہم بیمار سوچ رکھنے والے افراد ہیں۔ سماج میں بحیثیت ذمہ دار فرد ہم سب کو رول ماڈل کے طور اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہے جس کا بہت بڑا فقدان ہے، اخلاقی عمل کی فطری بنیاد یہ ہے کہ ہر فرد خاندان سے خاندان قبیلے سے، قبیلے ریاست کے ساتھ اور ریاست قوم کے ساتھ تعاون کرے، کیونکہ انسانیت زندگی کے ارتقاء کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔

Facebook Comments HS