صحرائے تھر کے لوک دانش کے دوہے

تحقیقی تجزیوں کے مطابق لوک ادب اور لوک دانش سے کسی بھی علاقے کے تہذیبی، علمی اور لسانی ورثے کی عکاسی ہوتی ہے۔ صحرا نوردوں کے پاس لوک ادب اور لوک دانش کا بڑا خزانہ ہوتا ہے، جو صدیوں سے نسل در نسل سینہ بہ سینہ سفر کرتا رہا ہے۔ عمومی رائے میں لوک ادب اور لوک دانش کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے، مگر ایسا نہیں ہے، لوک ادب ”سیانوں سگھڑوں“ کی تخلیق اور حساس لوگوں کے جذبات اور احساسات کا ایسا اظہار ہے، جو ادب کا حصہ بن گیا ہے، جب کہ لوک دانش سماجی انتھراپالاجی اور سوشیالاجی کا حصہ ہے۔ یہ خزینہ سیانے لوگوں کے خالص تجربات و مشاہدات کا نتیجہ ہے۔ لوک حکمت و دانائی کے نکات کو بیان کرنے کے لیے لوک ادب کا سہارا لیا جاتا ہے۔
دیومالائی کہانیوں اور لوک داستانوں سے لے کر لوک گیتوں، لوک کہاوتوں اور لوک دوہوں تک لوک دانائی کے نام پر کچھ ایسی کہاوتیں شعر اور کہانیاں بھی ملتی ہیں، جو کسی سوچ و فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ اندھا دھند روایت کی تقلیدی صورت میں وقوع پذیر ہوئی ہیں۔
تھر میں قدرتی آفات کے حوالے سے فطری الارمنگ پیش گوئیاں، مویشیوں کی پرورش، اشجار کے امراض، کاشت کاری، دست کاری، کھوج کاری، اعضا کی جوڑ بندی، امراض کا علاج اور لوک مجلسوں میں ہونے والی گپ شپ کے دوران بات چیت کے طریقۂ کار، پنچائتی فیصلہ کرنے کی صورت اور عادت کی بنیاد پہ نسل کی پہچان کرنا، شگن دیکھنا اور بارش کی پیش گوئی کرنے پر صحرائی لوگوں کو لوک دانش کی مہارت ہے۔ بارش کب ہو گی اور قحط سالی کا کتنا خطرہ ہے کے آثار کو سمجھنے اور شگن دیکھنے کے لیے کسانوں کا تہوار بھی منایا جاتا ہے۔
کسانوں کا تہوار تین دن تک چلتا ہے۔ پہلا دن چیت کے کرشن پکش (کالی راتوں والے 15 دن) کے اماوس (اماس) کا دن ہوتا ہے۔ دوسرا بیساکھ کے شکل پکش (چاندنی راتوں والے دنوں ) میں چاند رات کے دوسرے دن کسانوں کا تہوار (ہارین جو پربھ) اور چاند رات کے تیسرے دن آکھا ٹیج (آکھاٹی) مناتے ہیں۔
ان تین دنوں کی شروعات گھر کے آنگن میں بارانی فصلوں کے علامتی چھوٹے چھوٹے ڈھیر (جس کو کھلیان کہا جاتا ہے ) بنا کر کسان لوگ کھیتوں کی طرف جاتے ہیں۔ راستے میں جنگل کے فطری مناظر کا سینہ بہ سینہ چلتے ہوئے صدری علم کے تحت بہت قریب سے مشاہدہ کرتے ہوئے بارش اور آنے والے سال کے شگن دیکھتے ہیں۔
شگن میں پرندوں کی بولی بھی شامل ہوتی ہے۔ ریگستان میں ایک چھوٹا سا شگن کا پرندہ پایا جاتا ہے جس کو مالہاری کہتے ہیں۔ مالہاری کی بولی سے شگن سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ مالہاری دائیں ہاتھ کی سمت پر بول رہی ہے یا بائیں ہاتھ کی سمت پر کس درخت پر بیٹھی ہے۔
بڑی عمر کے سگھڑ سیانے لوگ مالہاری کے شگن جانتے ہیں۔ مالہاری کے اچھے شگن کو ’سانگونی‘ کہا جاتا ہے۔ کسانوں کے تہوار میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ گھر کے آنگن میں بنائے ہوئے ڈھیر سے چیونٹیاں کون سی فصل کے دانے کس سمت لے کر جاتی ہیں۔
گاؤں کے بچے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ہل بنوا کر میدان میں چلاتے ہیں۔ ہل چلانے کے کھیل میں کوئی بچہ کسان بنتا ہے اور کوئی اونٹ، ان کے دل کی تمنا ہوتی ہے کہ یہ سال اچھا ہو، بچوں کے اس کھیل کا منظر قابل دید ہوتا ہے۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے جنگل سے واپس آ کر گاؤں کی ایک بیٹھک میں یا کسی بڑے درخت کے نیچے جمع ہو جاتے ہیں۔
تہوار کے دن کی کچہری کو ’رہان‘ کہتے ہیں۔ وہاں ہر کسان اپنے اپنے شگن بیان کرتا ہے۔ ’رہان‘ میں ساون رت کے چار مہینوں ہاڑ، ساون، بھادوں اور اسو کے نام پر مٹی کی علامتی ترایاں (تالاب) بنا کر پانی ڈالتے ہیں۔ جس نام کا تالاب پہلے ٹوٹے گا، اس مہینے میں بارش برسنے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ کبھی کبھار ایسے بھی ہوتا ہے کہ کوئی بھی تالاب نہیں ٹوٹتا۔ اس کو قحط کا شگن (بد شگن) تصور کیا جاتا ہے۔
بارش کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت نہ صرف صدیوں سے موجود ہے بلکہ یہ روایت آج تک چلی آ رہی ہے۔ یہ پیش گوئی زیادہ تر مون سون کے مہینوں جون جولائی، اگست، ستمبر اور اکتوبر میں کی جاتی ہے، جس کے لیے وہ ہوا کے رخ، بادل، چاند، سورج، ستاروں، پرندوں، جانوروں اور پودوں وغیرہ سے مدد لیتے ہیں۔ یہ لوک دانش صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔
تھری لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر سندھی مہینے ہاڑ کی دوسری تاریخ کو کہیں دور سے آسمان پر چمک آئے تو اس کا مطلب ہے کہ بارش ہونے والی ہے۔
ساون رت میں جب سورج غروب ہو رہا ہو، اسی وقت وہ بادلوں میں چھپ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اگلے تین دنوں میں بارش ہو گی۔ اسی طرح بادل کس سمت سے آ رہے ہیں، اس سے بھی بارش کے کم یا زیادہ ہونے کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔
تھر میں جب چیونٹیاں بے حساب نکلیں اور اپنی خوراک جمع کرنے لگیں تب بھی کہا جاتا ہے کہ بارشیں معمول سے زیادہ ہوں گی۔ اسی طرح اگر اگست سے نومبر تک درجۂ حرارت میں کمی بیشی زیادہ ہو، تب بھی خیال کیا جاتا ہے کہ بارش کا امکان زیادہ ہو گا۔
چاند کے حجم اور رنگ سے بھی بارش کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ بزرگ چاند کو دیکھ کر آنے والے مہینوں میں قحط سالی کا اندازہ لگا لیا کرتے تھے۔
صحرائے تھر میں اگر چاند اور سورج ایک ہی وقت پر طلوع ہوں تو اس کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ بارش ہو گی۔ اسی طرح اگر چاند کے گرد چار ستارے ظاہر ہوں تو سمجھا جاتا ہے کہ شدید بارشیں ہوں گی۔ لیکن ایک ستارے کا مطلب ہے کہ معمول کے مطابق بارش ہو گی۔
چاند کی طرح تھر کے لوگ ستاروں سے بھی موسم کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ ساون کے مہینے میں اگر سورج کے غروب ہوتے ہی ایک ستارہ آسمان پر چمکے تو سمجھا جاتا ہے کہ شدید بارشیں ہوں گی۔ اسی طرح ایک ستارہ جو ہر چالیس پچاس سال بعد آسمان پر ظاہر ہوتا ہے، جب وہ نظر آئے تو تھر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ اب ایسی بارشیں ہوں گی جو ان کے لیے خوش حالی لے کر آئیں گی۔
تھر میں پرندوں سے بھی موسم کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ ایک پرندہ جسے مقامی زبان میں ’تاڑو‘ کہتے ہیں، جس کا ذکر شاہ عبد الطیف بھٹائی کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔ اس کے سر پر تاج بنا ہوتا ہے اور مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اس کی گردن میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ زمین میں موجود پانی پی نہیں سکتا۔ جب بارش ہوتی ہے تو پانی اس کی گردن سے اندر چلا جاتا ہے۔ جب یہ گنگنانے لگتا ہے تو تھر کے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ بارش آ رہی ہے۔ یہ پرندہ صرف اسی وقت دکھائی دیتا ہے جب بارش پندرہ سے بیس دنوں میں ہونے والی ہو۔ عموماً اس پرندے کی آواز رات دس سے گیارہ بجے کے دوران ہی سنائی دیتی ہے۔ 1
مور تھر کا ایک اہم پرندہ ہے۔ جون کے مہینہ میں اگر اس کی آواز بدلے تو سمجھا جاتا ہے کہ بارش آ رہی ہے۔ اسی طرح تیتر اگر صبح سے شام تک ایک مخصوص آواز میں گائے تب بھی سمجھا جاتا ہے کہ بارشیں آنے والی ہیں۔ کوا بھی ایک ایسا پرندہ ہے جس سے موسم کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ جب کسان کھیتوں میں ہل چلا رہے ہوتے ہیں تو وہ کوے کو کھانا ڈالتے ہیں۔ اگر کوا یہ کھانا کھا لے تو اسے اچھا شگون سمجھا جاتا ہے لیکن اگر وہ کھانا لے کر اڑ جائے تو سمجھا جاتا ہے کہ قحط سالی ہونے والی ہے۔
کوا ساون کے مہینے میں انڈے دیتا ہے، اگر اس نے دو انڈے دیے ہوں تو دو اچھی بارشوں کی پیش گوئی کی جاتی ہے اور اگر اس کا گھونسلا انڈوں سے خالی ہو تو سمجھا جاتا ہے کہ قحط سالی ہو گی۔ پندرہ جون کے بعد اگر کونجیں آسمان پر ایک تکون بنا کر اڑ رہی ہوں تو سمجھا جاتا ہے کہ بارش ہو گی۔
صحرائے تھر میں لوک دانش کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے کہ پانی کے لیے کنواں کس جگہ کھودا جائے۔ ؟ پینے کے لیے میٹھا پانی کہاں مل سکتا ہے۔ ؟ ریت پر گاؤں کہاں اور کیسے آباد کرنا چاہیے۔ ؟
لوک دانش اور لوک ادب میں عورت کے مزاج کے حوالے سے خامیوں، خوبیوں اور حسن کی بنیاد پر عورتوں کی چار اقسام پدمنی، چترنی (چیترنی) شنکنی (سکھنی) ہستنی (ہسنی ) بیان کی گئی ہیں۔
لوک دانش کے دوہوں میں موسم کی پیش گوئی اور شگن کے دوہوں کے ساتھ پند و نصیحت کے دوہے بھی ملتے ہیں۔ صحرائے تھر کے لوگ بڑے خوب صورت انداز میں لوک دانش کے سناتے ہیں۔
ہسنلا نا سرور گھنا، پوپ گھنی بھمریس
سگھڑان مانساں مان گھنو، کیا دیس پردیس
ترجمہ:
جس طرح ہنسوں کے لیے سمندر اور بھنوروں کے لیے گل بہت ہیں اسی طرح سگھڑ لوگوں کے لیے مان مریادہ کی کمی نہیں ہے دیس ہو یا پردیس ہر جگہ پیار ملتا ہے
سونو، سیسو، سگھڑ، گن دھیرا بولنت،
کون سی کتی کبھارجا، کر لاگاں کوکنت۔
ترجمہ:
سونے، سیسے اور سگھڑ انسان کی خوبی یہ ہے کہ ان کی آواز دھیرے سے نکلتی ہے اور کتا، کانسی اور بدچلن ناری ذرا سا ہاتھ لگنے یا معمولی سی بات پر چلا اٹھتے ہیں۔
نگن پوت ناری نلح، کونبھی کھارو نیر،
نکھر میت جسراج کہے، چاروں ڈینت سریر۔
ترجمہ:
کوی جسراج کہتا ہے کہ احسان فراموش بیٹا، بے حیا ناری، اپنے کھدوائے ہوئے کنویں کا کھارا پانی اور بے وقوف دوست، یہ چاروں تکلیف دیتے ہیں۔
راجہ کس کو گوٹھیو، جوگی کس کو میت،
پاتر کس کی استری، تینو میت کمیت۔
ترجمہ
جس طرح راجا کسی ایک گاؤں کا رہائشی نہیں ہوتا اسی طرح جوگی کس کا دوست نہیں ہوتا۔ اسی طرح طوائف کسی کی بھی بیوی نہیں ہوتی، ان تینوں سے اچھی دوستی اور اپنائیت کی امید مت رکھو۔
گھنی بری ہی بات، سدا ستاؤنوں سین نے،
انت اگن اٹھ جات، چندن رگڑیا چکریا۔
عزیز سجنوں کو ہمیشہ تکلیف میں مبتلا کرنا بہت بری بات ہے، کوی چکریا کہتا ہے کہ روز کی گھس گھس سے آخرکار چندن سے بھی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔
کڑوائی سوں کام، ہر کوئی ڈوہورو کرے،
کام ہوئے بن دام، چٹ نرمی سوں چکریا۔
ترجمہ:
تند خوئی سے کوئی بھی کام آسانی سے نہیں ہو پاتا، چکریا! نرم مزاجی سے لیے دیے بغیر کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔
بولے میٹھا بین، متلب رے کارن مڑے،
سمجھوں کڈے نہ سین کپٹی تراد کالیا۔
ترجمہ:
جو اپنی غرض کی وجہ سے ملے اور میٹھی میٹھی باتیں کرے، ایسے شخص کو کالیا کبھی اپنا دوست مت سمجھنا، وہ مکار آدمی ہے، اس سے بچنا چاہیے۔
ڈن اوگھے ڈاتار، یاد کرے ساری ایڑا،
سوما رو سنسار، نام نہ لیوے ناتھیا۔
ترجمہ:
سورج طلوع ہوتے ہی سخی کو ساری دنیا یاد کرتی ہے۔ ناتھیا بخیل کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہوتا۔
راجہ جوگی اگن جل، ائیام ری الٹی ریت،
ڈرتا رہیئی پرسرام، تھوڑی پالی پریت
ترجمہ:
راجا، جوگی، آگ اور پانی کی الٹی ریت ہوتی ہے،
پرسرام! ان سے ہمیشہ ڈرتے رہو یہ تھوڑی سی محبت کر کے خفا ہو جاتے ہیں۔
لاواں تیتر لار، ہر کوئی ہاکا کرے،
پن سنگھاں تنی سکار، کرنو مسکل کشنیا 2
ترجمہ:
جنگل میں تیتروں کے شکار کے لیے ہر کوئی ہانکا کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، مگر جب شیروں کے شکار کی بات ہو تو کشنیا بہت مشکل ہو جاتی ہے، کوئی تیار نہیں ہوتا۔
گاپھل موندھ گنوار، سمے گماوے سیج میں،
جوگی چتر جونجھار، چوکے سمے نہ چکریا
ترجمہ:
غافل سست اور بڑا بے وقوف ہوتا ہے، وہ اپنے روایتی میں وقت کھو دیتا ہے، جوگی، دانا لوگ اور بہادر وقت کا قدر کرتے ہیں۔
آج ہی نہیں اپار کرنو ہے سو کر پرو
راون باتاں چار چت میں لے گیو چکریا
ترجمہ:
جو بھی کرنا ہے سو آج ہی نہیں بلکہ ابھی کر ڈالو، اے چکریا اچھے کام میں دیر کی وجہ سے راون چار باتیں اپنے دل میں لے گیا
سدا نہ سنگ سہلیاں، سدا نہ کاڑا کیس،
سدا نہ جگ جیونو، سدا نہ راجا دیس
ترجمہ:
جس طرح ہمیشہ ہم جولیوں کا ساتھ نہیں رہتا، کہیں نہ کہیں علیحدگی ہو جاتی ہے، انسان کے سر پر ہمیشہ بال کالے نہیں رہتے، اس دنیا میں ہمیشہ کوئی زندہ نہیں رہتا، آخر میں موت ضرور آ جاتی ہے، اسی طرح ہمیشہ ایک راجا کی حاکمیت نہیں رہتی کوئی اور آ جاتا ہے 3۔
سدا نہ پھلے کیتکی، سدا نہ ساون ہوئے،
سدا نہ وپتا رہے سکے، سدا نہ سکھ رہے
ترجمہ:
ہمیشہ کیتکی پھول کھلے نہیں رہتے، ہمیشہ ساون کی رت نہیں رہتی، دکھ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے اور سکھ بھی ہمیشہ نہیں رہتے۔
کویاں کرو قطار، ہڑ کھیڑیو سجسی ہوئے،
لاکھاں بخشنہار، لڈے گیو لاڈوو۔
ترجمہ:
اے چارن شاعرو! اب اونٹوں پر دھان اٹھانے کے لیے قطار بناؤ اور کھیتی باڑی کرنے سے گزر بسر ہو جائے گی۔ لاکھوں کی خیرات کرنے والا لاڈو ناتھ اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔
پدمنی تو پلک چال چلے گینگ چال ہسنی
چیترنی تو لٹک چال چلے دھمک چال سکھنی
ترجمہ: پدمنی عورت سبک چال ہوتی ہے اور ہستنی کا چلنا ہاتھی کی طرح ہوتا ہے، جب کہ چیترنی بڑے ناز نخرے سے اور سنکھنی زمیں پر پاؤں دبا کے چلتی ہے۔ 4
پدمنی تو پھپ کیشان سرڑ کیشان ہسنی
چترنی تو لٹک کیشان اوبھ کیشان سنکھنی
ترجمہ :
پدمنی کے گیسو گل کی طرح ملائم اور حسین ہوتے ہیں، ہسنی کی زلفیں کمر کو چھونے لگتی ہیں۔ چترنی کے بال لٹکے ہوئے ہوتے ہیں اور سنکھنی کے کاکل کھردرے ہوتے ہیں۔
پدمنی تو ہنس چالے گج چالے ہسنی،
مور چالے چترنی اور ڈھور چالے سنکھنی،
ترجمہ :
پدمنی ہنس کی طرح چلتی ہے اور ہسنی گج گامنی ( ہاتھی جیسی چال والی ) ہوتی ہے۔ چترنی مور کی چال چلتی ہے اور سکھنی ڈھور کی مانند چلتی ہے۔
پدمنی تو پون جاگے آہٹ جاگے چترنی،
سڈ جاگے ہسنی، اور سٹ جاگے سنکھنی۔
ترجمہ:
ہدمنی ہوا کے جھونکے پر جاگتی ہے اور آہٹ پر چترنی بیدار ہوتی ہے۔ پکار پر ہسنی جاگ اٹھتی ہے جب کہ سکھنی کو چپت سے اٹھایا جاتا ہے۔
پدمنی تو پانچ برسے، چار برسے چترنی،
ہسنی تو تین برسے، سال جنے سکھنی۔
ترجمہ :
پدمنی تو پانچ برس کے وقفے پر بچے کو جنم دیتی ہے اور چترنی چار برس کے بعد ۔ ہسنی تین سالوں کے بعد جنتی ہے اور سکھنی ہر برس بچہ پیدا کرتی ہے۔
پدمنی تو پلک نندرا پھر نند ہسنی،
ادھ رات جاگے چترنی، سورج جاگے سنکھنی۔
ترجمہ :
پدمنی کی نیند پلک بھر کی ہوتی ہے جب کہ ہسنی ایک پہر تک سوتی رہتی ہے۔ آدھی رات تک چترنی اور سورج نکلنے تک سکھنی نیند کرتی ہے۔
پدمنی تو پان ڈھاپے، مان ڈھاپے ہسنی،
چترنی آدھا پاء، کونڈے ڈھاپے سنکنی۔
ترجمہ :
پدمنی پان کے پتے کے برابر کھاتی ہے، ہسنی صرف عزت چاہتی ہے، عزت ملنے پر ہی پیٹ بھر سا جاتا ہے۔ چترنی پاؤ بھر کھاتی ہے اور سکھنی کو پیٹ بھر کھانے کے لیے پورا کونڈا چاہیے۔
پدمنی تو پانچ تولا، ڈس جیمے ہسنی،
پاؤ جیمے چترنی، ادھ سیر جیمے سمکھنی۔
ترجمہ :
پدمنی کی خوراک پانچ تولے کی ہے، دس تولے ہسنی کھاتی ہے ایک پاؤ چترنی کھا جاتی ہے جب کہ سنکھی آدھا کلو کھاتی ہے۔
میہاں موران، ڈیڈکاں، تینے ایکی راس،
سورج تپے گرمی کرے، تڈ ورسن کی آس۔
ترجمہ:
تاڑو ( پرندہ ) اگر بھور سمے اپنی بولی بولے، مینڈک اپنی آواز کرے، دن میں تپش ہو، تب بارش کی امید ہوتی ہے۔
تترکھرڑی، واڈری، ودوا کاجل ریکھ،
او برسے، او ور کرے، تے میں مین نہ میکھ۔
ترجمہ:
آسمان پر تیتر کے پروں جیسے بادل ہوں، اور ودھوا عورت کی آنکھوں میں کاجل ہو، تب اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ بادل برسیں گے اور عورت اپنا نیا شوہر چنے گی۔
کاری پچھ کرورو، اچھی انت سکار،
جے اگے نرمرو، تو پڑے ڈیس میں ڈکار۔
ترجمہ:۔
آسمان پر کالے بادل نظر آئیں تو جلد بارش ہونے والی ہے، سفید بادل ہیں تو تھوڑی دیر سے اور اگر سورج دھیرے سے طلوع ہو رہا ہے تو دیس میں قحط پڑنے والا ہے۔
آساڑسدھ نوم گھن بادل گھن بیج،
تو نیڑا راکھو بڑدیا، کھوڑے راکھو بیج
ترجمہ:
ہاڑ کی چاندنی نم (نویں تاریخ) پر بادل اور چمکتی بجلی ہے، تو ہل چلانے کے لیے بیل قریب اور گود میں بیج رکھو۔
اب تاں آسروموگھاں تان میہہ،
ساسو تا ساسرو، ساڑا کوڑو نیہہ 5
ترجمہ:
جب تک موسم گرما میں ہوا کے بند ہو جانے سے پیدا ہونے والی امس اور گھٹن موجود ہے، تب تک امید ہے، جب تک خاص قسم کے بادل موجود ہیں تب تک بارش ہے۔
جب تک ساس ہے، تب تک سسرال ہے، سالوں کا جوٹھا پیار ہوتا ہے۔
توسن تانے تنتوا، باؤڑی پن بھار،
ڈنک کھے بھدھرے نا اے ڈکاڑاں را پار،
ترجمہ:
ہنزل کی بیل بڑھنے لگی ہے، اور باؤری (ایک صحرائی درخت) سبز پتوں سے بھرا ہوا ہے، ڈنک نامی سگھڑ اپنے دوست بھڈرے کو کہتا ہے یہ مجھے قحط کے آثار لگتے ہیں۔
اگتے کرے ٹسوڑ، آنتھوتے کرے موگھ،
ڈنک کرے بھڈرے نا، ندئے چڑھسیں گوگھ۔
ترجمہ :
سورج طلوع ہونے کے وقت سورج کرن ترشول کی صورت اختیار کر لے اور تیز روشنی ہو، سورج غروب ہونے کے وقت موگھ کے بادل ہوں، ڈنک نامی سگھڑ اپنے دوست بھڈرے کو کہتا ہے ندیاں پانی سے پلٹیں گی۔
سرامن سدھی ستم ماہیں، سانتی اگے سور،
ڈنک کہے بھڈرے نا، نپجے ساتوئے سوڑ۔
ترجمہ:
ساون کے مہینے میں چاند کی ساتویں تاریخ پر سانتی نکھشتر میں سورج طلوع ہو، تو ڈنک اپنے دوست بھڈرے کو کہتا ہے کہ سات اقسام کے درد پیدا ہوتے ہیں۔
چترا سانیتی ویساکھڑی نو ورسنت
ان لے سنگڑا کرو، ڈونا مول کرنت۔
ترجمہ:
بیساکھی پونم کے دن چترا اور سانیتی نکھشتروں میں بارش ہو تو دھان کا ایک ایک سٹا چن کر کٹھا کر کے رکھو، اچھے دام ملیں گے۔
جیٹھ بیتے پرتھم پڑوا، جے امبرروپ دھرے
آساڑ سرامن کورا کاڈھے، بھدھرے میں بھرے
ترجمہ:
جیٹھ کے مہینے کے ختم ہونے سے پڑوا کے دن چاند کی تیس تاریخ ) پر اگر گرج اور چمک ہو تو ہاڑ اور ساون کے مہینوں میں بارش نہیں ہو گی اور بھادوں میں جل تھل ایک ہو جائے گا۔
جیٹھ ماس امانس رو آنتھوتو سورج جوئے،
بیج رو جوئے جوئے چندرما، ساکھ بھرسے سوئے۔
ترجمہ:
جیٹھ کے مہینے کی آخری تاریخ اماوس کے دن سورج غروب ہوتے ہوئے دیکھنا اور آنے والے نئے مہینے کی دوسری تاریخ کو چاند کو دیکھنا، موسم کے آثار مل جائیں گے ساون کی رت کیسی رہے گی۔
سرامن وڈی ایکادسی میگھ گجے ادھ رات،
تم جاؤ پیا ماڈوئی، تو میں جاؤں گجرات
ترجمہ :
ساون کے مہینے میں چاند کی گیارہویں تاریخ پر آدھی رات کو گرج چمک ہو رہی ہے، اے میرے بالم یہ اچھے شگن نہیں ہیں، تم ماڈوئی کے علاقے میں جاؤ، میں گجرات جاتی ہوں۔
پہلے وسے پارکر بھوڈیسر نا بھرے،
ڈنک کہے بھڈرے نا، جڑ اتوئے ہرے
ترجمہ :
سگھڑ ڈنک اپنے دوست بھڈرے کو کہتا ہے کہ اگر بارش پارکر پر برسے اور بھوڈیسر کو بھر دے تو پھر سمجھ لینا، اس برس بارش کا پانی اتنا ہی تھا۔
کرک بھجے کاکری شہینی بھجے راس،
ڈنک کہے بھڈرے نا، بھجے چارے ماس
ترجمہ :
سگھڑ ڈنک اپنے دوست بھڈرے کو کہتا ہے کہ برج سرطان میں بارش زمین کے اوپری حصے پر برسے گی، برج اسد کی بارش اچھا شگن ہے، اس سے ساون رت کے چاروں مہینوں میں بارش ہوتی رہے گی۔
آکھاتری کرکت کرورو، روہنی انت سکاڑ
ڈنک کہے بھڈرے نا، مگسر میں ڈیس ڈکاڑ
ترجمہ:
سگھڑ ڈنک اپنے دوست بھڈرے کو کہتا ہے کہ کرکت نکھشتر میں آکھشا تیج آئے تو، بارش درمیانی، روہنی نکھشتر میں بارش برسے تو سال اچھا رہے گا، مگسر نکشتر میں بارش ہوئی تو دیس میں قحط کی صورت حال ہو گی۔
سومے آن سکرے روی کونڈا ہوئے،
ڈنک کہے بھڈرے نا، سرمر بھریا جوئے
ترجمہ:
سگھڑ ڈنک اپنے دوست بھڈرے کو کہتا ہے کہ سوموار اور جمعے کے دن سورج طلوع ہونے کے وقت سورج کے گرد ہالہ ہو تو بارش تالاب بھر دے گی، تم دیکھ لینا۔
سومے گرے، شکرے، رویت کونڈا ہوئے،
ٹیجے چوتھے پانچمے نیر جھرنتا جوئے
ترجمہ :
سوموار کے دن سورج کے گرد ہالہ ہو تو تیسرے دن، جمعرات کے دن ہو تو چوتھے دن اور جمعے کے دن ہو تو پانچویں دن بارش کی رم جھم ہو گی۔
صبح کرے سکھری ورانڈھ لگائے واء،
ساسوہ کہے بہوئاری نا، توں پیہرئے جاء۔
ترجمہ :
صبح کے وقت بادلوں کے ساتھ بہت خوب صورت مناظر ہوں بارش ہونے کے، اور شام کو ہوائیں چلیں تو ساس اپنے بیٹے کی بیوی کو کہتی ہے، یہ آثار قحط کے ہیں، تم اپنے سسرال جاؤ۔
کیتھ کاسی، کیتھ کسمیر، کیتھ کھراسان گجرات،
دانوں پانی پرسرام، ہاتھ پکڑ لے جات،
ترجمہ :
کہاں کاشی کہاں کشمیر، کہاں خراسان اور گجرات ہیں،
اے پرسرام! دانہ پانی انسان کا ہاتھ پکڑ لے جاتا ہے۔
مایا توں سلچھنی، نام ہویو جگ رام،
ان آنگینے پھرگیو، دھریو جھونکیو نام
ترجمہ:
اے دولت تیرے لچھن بہت عمدہ ہیں، تو آئی تو میرا نام جگ رام بن گیا، حالانکہ اسی ہی آنگن میں میرا نام جھونکیا پڑا تھا۔










