رابندر ناتھ ٹیگور


”تم محض کھڑے ہو کر دیکھتے ہوئے دریا کو پار نہیں کر سکتے“ ۔ (ٹیگور)

سات مئی برصغیر اور متحدہ ہندوستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ ادیب، شاعر، ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، ہزاروں گیتوں کے خالق کا جنم دن ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور 7 مئی 1861 کو بنگال کے شہر کلکتہ (موجودہ مغربی بنگال، کولکتہ ) میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد دیویندرناتھ بھی ایک فلسفی تھے۔ یوں رابندر نے فلاسفی کا آغاز اپنے گھر سے ہی کیا۔ رابندر نے بچپن میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ آپ نے پہلی نظم 8 سال کی عمر میں کہی۔ جبکہ 17 سال کی عمر میں ان کی پہلی کتاب منظر عام پر آئی۔

ابتدا میں انہوں نے ”بھانو سنگھا“ کے قلمی نام سے شروعات کی تھی۔

1901 میں رابندر نے بولپور میں ”شانتی نکتین“ نامی درس گاہ کی بنیاد رکھی۔ جس کا بنیادی مقصد مشرقی اور مغربی علوم بالخصوص فلسفہ کی تعلیم دینا تھا۔

رابندر ناتھ ٹیگور نے فلسفہ کے علاوہ ڈرامہ نگاری اور ناول نگاری میں بھی اپنے جوہر دکھائے۔ جن میں ان کا سب سے مشہور ناول ”گورا“ ہے۔ رابندر ناتھ کی شاعری کے چھ مجموعہ ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ مشہور ”گیتا نجلی“ وہ شہرہ آفاق ہے جس کو 1913 میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ واضح رہے کہ رابندر ناتھ پہلے ہندوستانی اور پہلے غیر یورپی ہے جنہوں نے ادب کا نوبل انعام حاصل کیا۔ 1915 میں حکومت برطانیہ نے آپ کو ”سر“ کا خطاب دیا۔ لیکن سانحہ جلیانوالہ باغ کے بعد آپ نے یہ خطاب حکومت کو واپس کر دیا۔

رابندر ناتھ کو ”انسانیت کا شاعر“ اور بنگالی زبان کا ”شیکسپیئر“ بھی کہا جاتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سمیت ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا۔

رابندر ناتھ ٹیگور وہ واحد ہندوستانی شخص ہے جس کو دو ملکوں کے قومی ترانہ لکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ جن میں ہندوستان کا قومی ترانہ ”جن گن من“ اور بنگلہ دیش کا قومی ترانہ ”سونار بنگلہ“ ٹیگور کی ہی تخلیق ہے۔

ہندوستان کے عظیم شخص رابندر ناتھ نے 7 اگست 1941 کو کلکتہ میں وفات پائی۔ رابندر کی یوم پیدائش کے موقعہ پر ان کی ایک شہرت یافتہ نظم کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔

”قاری، تم کون ہو جو اب سے سو سال بعد میری نظمیں پڑھ رہے ہو؟
میں تمہیں بہار کی اس دولت سے ایک بھی پھول، اس بادل سے ایک بھی سنہری کرن نہیں بھیج سکتا۔
اپنے دروازے کھولو اور باہر دیکھو۔
اپنے پروان چڑھتے ہوئے باغ سے سو سال قبل مٹ گئے پھولوں کی معطر یادیں جمع کرو۔

اپنے دل کی خوشی میں شاید تم اس زندہ خوشی کو محسوس کر سکو جو ایک بہار کی صبح نغمہ سرا ہوئی، اپنی پر مسرت آواز کو سو برس دور بھیجتے ہوئے۔ ”

Facebook Comments HS