نو مئی، غیر منطقی جنگ کا متوقع انجام
پاکستان میں اس وقت بظاہر ایک سیاسی جماعت اور ملک کا ایک مقتدر ادارہ آمنے سامنے ہیں، دونوں جانب سے الزامات، دلائل اور جوابی دلائل کا ایک تسلسل جاری ہے۔ ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ اس طرح ایک سیاسی جماعت اور ایک مرکزی دفاعی ادارہ مدمقابل ہوں اور ایسا ہوتا رہے، یہ بھی ممکن نہیں۔
سیاسی جماعتوں کا تو کام ہی آئین، قانون اور حقوق کی بات کرنا اور اس کی جنگ لڑنا ہے سو یہاں بھی اس تنازع سے مذکورہ جماعت کو کوئی نقصان نہیں بلکہ بہت زیادہ فائدہ ہو گا جو ایک سال سے ہوتا نظر بھی آ رہا۔ البتہ ادارے کا یہ کام ہرگز نہیں اس لیے وہ جتنا اس معاملے پر بات کرے، اسے اجاگر کرنے کی بلاواسطہ یا بالواسطہ کوشش کرے یا دیگر ذرائع سے اپنے حق میں بات کروائے، اسے اس سب کا نقصان ہی ہو گا۔
صد افسوس کہ وہ نقصان بھی ایک سال سے پورے تسلسل کے ساتھ بلا کم کاست ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کوئی جواز نہیں تھا کہ مذکورہ معاملے کو ایک سال مکمل ہونے پر اس پر ادارے کی جانب سے پریس کانفرنس کر کے دوسروں کو لب کشائی کا ”نادر موقع“ فراہم کیا جاتا۔
یہ نقصان صرف اس ایک ادارے کا ہی نہیں بلکہ اس کی غیر معمولی حیثیت کی وجہ سے بالواسطہ ملک کا نقصان ہے۔ ادارے سے وابستہ ہر سطح کے افراد اس معاملہ کی وجہ سے ناخوشگوار عوامی ردعمل پر قدرتی طور پر ناخوش تو ہیں ہی لیکن اس سے ان کا مورال بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے جس کا اظہار اور تاثر نجی محفلوں میں عام ہے بلکہ اس کی ویڈیوز بھی اب سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی ہیں جو نوشہ دیوار ہیں۔
بہ نظر غائر اگر اس معاملے کو دیکھا جائے تو مذکورہ واقعہ میں سیاسی جماعت کے غلط طرز عمل کے باوجود اس کے مطالبات غلط قرار نہیں دیے جا سکتے۔ دوسری طرف ادارے کا طرز عمل چاہے نیک نیتی پر ہی مبنی ہو لیکن بہت حد تک یک طرفہ اور ماورا قانون رہا جس وجہ سے سیاسی جماعت کے لیے ہمدردی کا تاثر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا، لامحالہ جس کا بھرپور فائدہ اسے انتخابات میں ہوا۔
بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ سیاسی جماعت اور اس کے ہمدردوں نے سوشل میڈیا اور ادارے نے مین اسٹریم میڈیا کے مورچے ایک دوسرے کے خلاف سنبھال لیے جو دونوں ہی غلط طرز ہیں جبکہ یہ طرز ادارے کی حیثیت اور اہمیت سے بالکل متضاد اور اس کے دائرے کار اور آئینی کردار کے بالکل منافی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس طرح ادارے کی ساکھ مزید متاثر ہو رہی ہے جبکہ عوام کا وہ طبقہ جس کا اس سیاسی جماعت سے تو کیا سیاست سے بھی کوئی تعلق نہ تھا، اب اس سیاسی جماعت کے ساتھ ہے جس میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے بلکہ جتنا ادارے کی جانب سے اس معاملے پر بات کی جاتی ہے اتنا ہی عوامی حمایت کا رخ اس سیاسی جماعت کی طرف ہو جاتا ہے۔
اب تک یہ معاملہ سیاسی جماعت کے ہی حق میں جا رہا ہے جو دباؤ کے باعث اس جماعت میں شکست و ریخت کے باوجود مزید اسی کے حق میں ہی جائے گا چاہے اس کا سربراہ رہے یا نہ رہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر یک طرفہ کارروائی کا مزید تاثر اور سخت بیانات کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس ”جنگ“ میں سیاسی جماعت کا کھل کے ساتھ دے سکتی ہیں۔
تادم تحریر بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور دیگر کچھ جماعتیں اس سیاسی جماعت کے ساتھ ہیں جبکہ جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جو سیاسی طور پر اس جماعت کے مخالف رہے ہیں اب اس کے حق میں کھل کر بات کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ادارے کے آئینی کردار اور ماورا آئین طرز عمل پر شدید الفاظ میں سخت سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔
اس معاملے کو اگر فوری طور پر اصولی طریقے کے مطابق حل نہیں کیا گیا یعنی آزاد ذرائع سے معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کروا کربلا تخصیص تمام ذمہ داران کے خلاف غیر جانب دارانہ قانونی کارروائی نہ کی گئی اور اسی طرح دونوں جانب سے اسے اپنے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش جاری رہی تو اس کا انجام بہت ہی بھیانک ہو سکتا ہے۔ یہ ملک جن بد ترین حالات سے گزر رہا ہے کسی کو بھی کسی قسم کی خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ آزاد ذرائع سے تحقیقات اب لازمی ہیں کیونکہ جو طرز عمل ادارے کی جانب سے اس معاملے میں اختیار کیا گیا وہ اسے فریق بنا چکا ہے۔ یا تو ادارہ اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر کے صرف قانونی راستے پر ہی اکتفا کرے یا پھر اسے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ اس معاملے کا فریق ہے۔ اب اس معاملے کو محض ”قومی معاملہ“ گردان کر بری ذمہ نہیں ہوا جاسکتا۔


