ایک اسکول ٹرپ کی روداد

بدھ کے روز نویں جماعت کے اسلامیات کے لیکچر کے بعد ڈائریکٹر صاحب خوش گوار موڈ میں بولے : ”امتحانات اور سخت پڑھائی کے بعد اب آپ لوگوں کی تھوڑی انٹرٹینمنٹ ہونی چاہیے۔ ہم اسکول کا ٹرپ لے کر فورٹ منرو جا رہے ہیں۔ آپ لوگ کل ایک ایک ہزار روپے جمع کرا دیں۔“ یہ سن کر طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ مقررہ دن کا بے صبری سے انتظار کرنے لگے۔
ہفتے کی صبح ویگن فورٹ منرو جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ گاڑی میں موجود لڑکے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اسی اثنا میں ڈائریکٹر صاحب اسکول کے گیٹ سے نکلے اور ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر آ کر بیٹھ گئے۔ جب کہ پرنسپل صاحب دروازے کے ساتھ والی سیٹ پر طلبہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ گاڑی ہمارے چھوٹے سے شہر کی سڑکوں سے گزرتی ہوئی کچھ ہی لمحوں میں نیشنل ہائی وے پر دوڑنے لگی۔
اب باقاعدہ شعر و شاعری اور گلوکاری کے مقابلے شروع ہو گئے۔ سب جھوم رہے تھے، سب گا رہے تھے۔ پرنسپل صاحب ہنس مکھ آدمی تھے، ہماری ہر سرگرمی میں حصہ لے رہے تھے۔ جبکہ ڈائریکٹر صاحب سنجیدہ شخص تھے۔ خاموشی سے سامنے روڈ کی طرف دیکھ رہے تھے۔
میں حسب عادت کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ اندر کے ماحول سے محظوظ ہو رہا تھا اور باہر کے نظاروں سے لطف اندوز۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی لیکن موسم خوش گوار تھا۔ ویگن تیزی سے کھیتوں، نہروں اور فیکٹریوں کو پار کر رہی تھی۔ اب پہاڑی علاقے کے آثار شروع ہونے لگے۔
چٹانوں کے بیچوں بیچ بل کھاتی ہوئی سڑک پر ایک جگہ ویگن رک گئی۔ ڈرائیور گاڑی سے اتر کر معائنہ کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد پرنسپل اتر گئے۔ تھوڑی دیر بعد ڈائریکٹر بھی اتر گئے۔ تب جا کر طلبہ کو ہوش آیا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ مگر پھر اپنی موج مستی میں کھو گئے۔ یہاں تک کے ڈائریکٹر صاحب نے سب طلبہ کو ویگن سے اترنے کا بولا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ویگن کے ساتھ کچھ فنی خرابی ہے جسے ڈرائیور دیکھ رہا ہے۔ کچھ طلبہ وہیں رک گئے۔
میں لڑکوں کے اس گروپ کا حصہ تھا جنہوں نے آگے کی طرف پیدل مارچ شروع کر دیا۔ ہم اسی دھن میں ہنستے، بولتے جا رہے تھے۔ کچھ جوشیلے لڑکے پہاڑی ٹیلوں پر چڑھنا شروع ہو گئے۔ گویا وہ اسی کوہ پیمائی میں فورٹ منرو پہنچ جائیں گے۔ چڑھائی تو دور کی بات صرف ڈھلوانی روڈ پر چلنا ہی دشوار ہو رہا تھا۔ کچھ دیر میں سب ہانپنے لگے۔
ویگن کیوں نہیں آ رہی؟ ہم نے پہلی بار بے چینی محسوس کی۔ دوپہر کی گرمی میں ہم سست روی سے آگے بڑھ رہے تھے۔ اور ہماری نظریں برابر پیچھے کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کوئی گاڑی گزر جاتی۔ مگر ان میں کوئی بھی ہماری ویگن نہ تھی۔ پھر ایک اجنبی ویگن ہمارے پاس آ کر رکی۔ اس میں ہمارا ایک شناسا چہرہ تھا۔ اس نے تیز تیز آواز میں ہمیں اندر بیٹھنے کا بولا۔ مگر ہم مصر تھے کہ اپنی ہی ویگن میں بیٹھیں گے۔
کچھ دیر بعد ایک اور ویگن ہمارے پاس سے گزری۔ اب ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ مگر وہ مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ بس ہمیں پہاڑوں میں گونجتی ہوئی ایک آواز سنائی دی: ”ڈائریکٹر صاحب نے بولا ہے کہ آپ کو جو بھی گاڑی ملے اس میں بیٹھ کر فورٹ منرو پہنچیں۔“ ہم تھکن سے بری طرح چور تھے۔ اور بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے۔
ہمارے چلنے کی ہمت جواب دے گئی۔ ویسے بھی اب مزید چلنا بیکار تھا۔ تیز دھوپ، ویران بل کھاتی سڑک، ہیبت ناک چٹانیں۔ ہمیں دور سے ایک ٹرک آتا دکھائی دیا۔ ہم نے تقریباً روتے ہوئے اس کو روکنے کی کوشش کی۔ وہ رکا نہیں لیکن آہستہ ہو گیا۔ جب وہ ہمارے پاس سے گزرا تو اس کے پیچھے ہمارا ایک ہم جماعت لٹکا ہوا تھا۔ اس نے بازو کی مسلسل حرکت سے ہمیں ٹرک پر چڑھنے کا اشارہ کیا۔ حکم عدولی کا سوال ہی نہیں تھا۔
ہم ٹرک کے اوپر چڑھ گئے۔ یہ بجری کا ٹرک تھا۔ تیز دھوپ میں جھلستی بجری۔ ہم اس پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ پیاس سے گلے خشک، آوازیں رندھی ہوئی۔ لاچار ٹرک کو پکڑ کر کھڑے رہے۔ پہلے سے موجود دوست نے بتایا کہ پرنسپل اور ڈرائیور ویگن لے کر واپس شہر چلے گئے ہیں۔ ٹرک چڑھائی پر خراماں خراماں آگے بڑھ رہا تھا۔ ٹرک ڈرائیور غالباً عطاء اللہ خان عیسوی کا کوئی گیت سن رہا تھا۔ ہم کس عذاب میں مبتلا تھے اس سے بالکل بے خبر اور بے فکر۔
ہم یکسر مایوسی کی حالت میں ٹرک کی چھت پر جھول رہے تھے کہ ایک بڑی سی بس نے ہمیں کراس کیا۔ کنڈکٹر جو ایک شناسا معلوم ہوتا تھا ہاتھ ہلا ہلا کر سواریوں کو بلا رہا تھا۔ مگر یہاں تو ہمارے علاوہ کوئی نہیں تھا! او ہو، یہ تو ہمارے ڈائریکٹر صاحب تھے۔ جو ہمیں بس میں بیٹھنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ اب ہم بھی ٹرک رکوانے کے لیے چلانے لگے۔ مگر ڈرائیور اپنی دھن میں گم تھا۔ بس نے اس کا راستہ روک کر بریک لگوائی۔
بس میں اکٹھے ہو کر ہمیں کچھ حوصلہ ہوا۔ لیکن ابھی عشق کے امتحاں اور بھی تھے! تھوڑی دیر بعد خطرناک موڑ اور سخت چڑھائی شروع ہو گئی۔ ہماری بس ایک ٹریفک جام میں بری طرح پھنس گئی۔ دوسری گاڑیوں کو راستہ دینے کے لیے بس سڑک کے کنارے کی طرف بڑھی۔ بس اب یہ کھائی میں گری! چھت پر بیٹھے مسافروں نے چھلانگ لگا دی۔ یہ ڈرائیور بریک کیوں نہیں لگا رہا؟ بس کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں؟ کیا ڈرائیور کو معلوم ہے کہ آگے کھائی ہے؟ مسافروں نے کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا۔ شاید ہمارا اتنا ہی وقت لکھا تھا! ڈرائیور نے عین اس موقع پر بریک لگائی کہ اس کے بعد ایک ثانیے کی تاخیر بھی ہمیں میلوں گہری کھائی میں بھیج سکتی تھی۔
اللہ اللہ کر کے ہم فورٹ منرو پہنچ گئے۔ ایک جگہ ہمیں پانی کے ڈرم نظر آئے۔ جی چاہا کہ ان کے اندر چھلانگ لگا کر بیٹھ جائیں اور پانی پیتے رہیں۔ کچھ دیر بعد ہم سعود کے گھر پہنچ گئے۔ سعود کے ابو جو ڈائریکٹر صاحب کے دوست تھے نے اپنے گھر کے دروازے ہمارے لیے کھول دیے تھے۔ گھر کیا تھا، ایک چھوٹا سا کمرہ جس میں دریاں بچھی ہوئی تھیں اور ایک بڑا سا صحن۔ ہم کمرے میں دبک کر بیٹھ گئے۔ مسعود ملنگی نے خاموشی توڑنے کے لیے اپنے کچھ تازہ اشعار ارشاد فرمائے۔ اتنے کٹھن سفر کے بعد بھی وہ تازہ دم تھا۔ وہ سرگوشی کی آواز میں بول کم اور مسکرا زیادہ رہا تھا۔ آنکھیں ایسے اوپر کی طرف اٹھاتا گویا ہم پر ستاروں کے راز افشا کر رہا ہو۔ اس کی لوریاں سن کر ہم کچھ دیر سو گئے۔
شام کو مارکیٹ جانے کا پروگرام بنا۔ ایک کریانے کی دکان پر پہنچ کر ہم سب نے پیپسی کا آرڈر دیا۔ وہاں کیبل پر بولی وڈ کی اس مووی کا گانا چل رہا تھا: ”مجھے پینے کا شوق نہیں، پیتا ہوں غم بھلانے کو۔“ امیر جو ہم میں سب سے قد آور لڑکا تھا لے میں بوتل اوپر اٹھا کر شراب کی طرح پینے لگا۔ کوئی بعید نہیں کہ اس پر نشہ بھی طاری ہو رہا ہو۔
واپس سعود کے گھر آ گئے۔ رات کے وقت سردی بہت بڑھ گئی۔ ہم افراد زیادہ تھے اور کمبل کم۔ ایک کمبل میں تین تین لڑکے لیٹے ہوئے تھے۔ کمرے میں محفل کا سماں بندھا ہوا تھا۔ صرف ایک کمبل میں دو افراد تھے : ڈائریکٹر صاحب اور مسعود ملنگی۔ دونوں کے بیچ صحن میں خراٹوں کا مقابلہ چل رہا تھا۔
صبح سب ہاتھ منہ دھو کر گھر کے سامنے والے احاطے میں اکٹھے ہو گئے۔ ڈائریکٹر صاحب چولہے کے پاس بیٹھے بڑے سے پتیلے میں کچھ پکا رہے تھے۔ لیجیے ناشتہ آ گیا: ڈبل روٹی، جام اور آلو کا سالن۔ سالن کیا تھا، پانی کی طرح پتلا سا شوربہ اور چھلکوں سمیت آلو۔ ایک لڑکے نے ڈائریکٹر صاحب سے شکایت کی تو وہ بولے : ”گاڑی کی خرابی اور متبادل سواری کی وجہ سے خرچہ بہت ہو گیا ہے۔ سو ہمیں کفایت شعاری سے کام لینا چاہیے۔“
ناشتے کے بعد ہم شہر گھومنے نکلے۔ ایک مشہور مقام ”پیالہ“ پہنچے جہاں پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ جھیلوں کے پاس سے گزرے جو خشک ہو چکی تھیں۔ پھر ایک پارک نما احاطے میں پہنچے جہاں بہت سی فیملیاں اکٹھی ہوئی ہوئی تھیں۔ عید کا سا سماں تھا۔ ہر لڑکے نے من پسند چیز خرید کر کھائی۔ مسعود ملنگی دوڑتا ہوا ہمارے پاس پہنچا کہ ڈائریکٹر صاحب بلا رہے ہیں، واپسی کے لیے نکلنا ہے۔ امیر اپنی گرج دار آواز میں بولا: ”ڈائریکٹر کی تو!“
گاڑی برق رفتاری سے سڑکوں پر جھولتی ہوئی واپسی کے سفر پر گامزن تھی۔ شام کا وقت تھا۔ اب ہر شے فرحت بخش معلوم ہو رہی تھی: پہاڑ، ندی نالے اور کھائیاں۔ ہم جو معرکہ سر کر کے آئے تھے اب ہلکا محسوس کر رہے تھے اور سیٹوں پر سستا رہے تھے۔ ڈائریکٹر صاحب خاموشی سے کھڑکی سے باہر مناظر کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کبھی ہماری طرف دیکھ کر پھیکا سا مسکرا دیتے۔ گویا کہہ رہے ہوں : ”آپ لوگوں کی اچھی انٹرٹینمنٹ ہو گئی ہے!“

