صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 6 : دعوت اسلام


”اپنے پڑوسی کے خلاف برائی نہ سوچو، جو تمہارے پاس اعتماد سے رہتا ہے۔“ امثال 3 : 29

غریب آباد کی بستی اسم با مسمیٰ تھی۔ جھگیوں کی اس بستی میں کچھ کچے پکے مکانات بھی تھے۔ ایک روز شام کو میں وہاں سے گزر رہا تھا کہ اچانک پادری پال سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ سامنے سے سائیکل پر آرہے تھے۔ مجھے دیکھا تو اتر گئے۔

”آؤ میرے ساتھ، میں نے تمہارے لیے ایک کتاب رکھی ہے،“ وہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے۔
”مگر کہاں؟“
”میرے گھر تک، وہ سامنے گلی میں ہے۔“
”مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ غریب آباد میں رہتے ہیں۔“
”تو تم سمجھتے ہو کہ مجھے امیر آباد میں رہنا چاہیے؟“ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔

وہ میرے ساتھ ساتھ سائیکل کا ہینڈل پکڑے ہوئے چلتے رہے۔ اگلی گلی میں بائیں جانب چوتھا مکان ان کا تھا بلکہ آخری مکان تھا کیوں کہ اس گلی میں دونوں جانب چار چار مکان تھے۔ آگے گلی بند تھی اور نکڑ پر ایک صاحب کرسی بچھائے بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ ان کے برابر ایک خالی کرسی تھی اور سامنے ایک چھوٹی سی میز تھی جس پر چائے کی پیالی رکھی ہوئی تھی۔ پیالی کی تہہ میں تھوڑی سی بچی ہوئی چائے تھی اور شاید اس لیے چھوڑ دی گئی تھی کہ نیچے بیٹھی ہوئی چائے کی پتی منہ میں نہ آ جائے۔ چوں کہ ان کے چہرے کے سامنے اخبار تھا لہٰذا میں ان کی شکل نہ دیکھ سکا۔

”آداب، صدیقی صاحب،“ پادری پال نے انہیں سلام کیا۔

”اخاہ، آداب عرض ریورنڈ،“ انہوں نے اخبار ایک طرف رکھا اور بھوئیں اچکا کر اپنی ناک کے سرے پر رکھے ہوئے چشمے کے اوپر سے دیکھ کر کہا۔

میری نظر سب سے پہلے ان کی داڑھی پر پڑی جس کی لمبائی سر سید کی داڑھی سے دو ایک انگل اگلی ہی ہوگی۔ موٹاپے میں البتہ سر سید سے کہیں آگے تھے۔ سرخ سفید رنگ تھا اور سر پر ایک بال بھی نہیں تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ سر کے سارے بال نیچے بھوؤں پر جمع ہو گئے تھے۔ ان کے چہرے کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی گھنی بھوئیں تھیں۔ چوں کہ پستہ قد تھے لہٰذا کرسی پر بیٹھے ہوئے گول مٹول ہمپٹی ڈمپٹی لگتے تھے۔

پادری پال نے ان سے میرا تعارف اپنے ایک دوست کی حیثیت سے کرایا۔ صدیقی صاحب ان کے سامنے والے مکان میں رہتے تھے۔

”میرا نام نعیم صدیقی ہے اور آپ مجھے ریورنڈ پال کا چوکی دار سمجھ لیں،“ انہوں نے منہ کھول کر قہقہہ لگایا تو پتا چلا کہ ان کا منہ دانتوں سے خالی تھا۔ وہ منہ پھاڑ کر خاموش ہنسی ہنسے تھے اور پورا جسم تھلتھلا رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ کسی ربڑ کے گڈے کو گدگدی کردی ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ان کے ہلتے ہوئے پیٹ پر انگلی رکھ کر دبائی جاتی تو پوری انگلی گڑ جاتی۔

صدیقی صاحب اگر اسی کے نہیں تو ستر پچھتر کے تو ضرور رہے ہوں گے۔ پیشانی پر بے شمار جھریاں تھیں جو ان کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک سے چھپ جاتی تھیں۔ معلوم ہوا کہ وہ پادری پال کے بہت پرانے پڑوسی ہیں۔ نیشنل بینک میں کافی سینئر پوسٹ پر تھے مگر جب تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کی تو سود کی حرمت کے پیش نظر ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے منیجر نے بہتیرا سمجھایا کہ ان کی ریٹائرمنٹ میں صرف دو سال رہ گئے ہیں مگر انہوں نے یہ کہہ کر اپنا فیصلہ سنا دیا کہ ان کے نزدیک بینک کی پنشن بھی اتنی ہی حرام ہے جتنی بینک کی تنخواہ۔

پانچ سال پہلے فالج کا ہلکا سا دورہ پڑا تھا جس سے ایک پیر میں لنگڑاہٹ آ گئی تھی مگر چھڑی کے سہارے چل لیتے تھے۔ صبح ناشتے کے بعد ان کا بیٹا باہر ایک میز اور دو کرسیاں بچھا دیتا تھا اور وہ صبح شام وہاں بیٹھ کر اخبار پڑھتے تھے۔ کوئی گزرتے ہوئے ان کا حال چال پوچھنے کے لیے رک جاتا تو اسے خالی کرسی پیش کر دیتے۔

”صدیقی صاحب بڑے اچھے شاعر ہیں،“ پادری پال نے کہا۔
”ارے نہیں ریورنڈ، بس کچھ تک بندی کر لیتا ہوں۔“

”لیکن تمہیں ادھر سے گزرتے ہوئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ صدیقی صاحب صرف ان لوگوں کو اپنا کلام سناتے ہیں جو فرمائش کرتے ہیں،“ صدیقی صاحب صرف سر ہلا کر رہ گئے۔

”میں بڑی دیر سے دیکھ رہا ہوں کہ تم مستقل مسکرائے جا رہے ہو،“ پادری پال نے میری طرف انگلی اٹھا کر کہا۔

”میں سوچ رہا ہوں کہ ایک پادری اور ایک تبلیغی جماعت کا ممبر آمنے سامنے رہ رہے ہیں۔ اصولاً تو انہیں ایک دوسرے کی زندگی اجیرن کر دینی چاہیے تھی،“ میں نے جواب دیا۔

”نہیں بھئی، عرصہ ہوا جب ہم دونوں نے معاہدہ کر لیا تھا کہ ایک دوسرے کو تبلیغ نہیں کریں گے،“ صدیقی صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے ناک پر بیٹھی ہوئی مکھی اڑاتے ہوئے ایک خاموش قہقہہ لگایا اور ان کا پورا جسم ہلنے لگا۔

”اور ویسے بھی تبلیغی جماعت والے صرف مسلمانوں میں تبلیغ کرتے ہیں، دوسروں کو نہیں چھیڑتے، لہٰذا میں ان کی کمپنی میں خود کو محفوظ سمجھتا ہوں،“ پادری پال نے قہقہہ لگا کر کہا۔

”مگر آپ بھول رہے ہیں ریورنڈ، کہ میں نے جب تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی تو آپ کو دعوت اسلام دی تھی،“ صدیقی صاحب نے کہا۔

”ہاں بھئی خوب یاد دلایا۔ اس وقت یہ نئے نئے تبلیغی جماعت میں گئے تھے اور کچھ بونس پوائنٹ کی تلاش میں تھے،“ پادری پال نے مجھے مخاطب کر کے کہا۔

”تو پھر آپ نے صدیقی صاحب کی دعوت قبول نہیں کی؟“ میں نے پوچھا۔
”بالکل قبول کی مگر میں نے ان سے کہا کہ میں مسلمان ہو جاؤں گا بشرطیکہ وہ بپتسمہ لے لیں۔“

”دراصل ہم نے اپنی دوستی کے کچھ اصول بنا لیے ہیں،“ صدیقی صاحب نے ہنستے ہوئے کہا، ”پہلی بات تو یہ کہ ہم پچھلے چالیس سال سے آمنے سامنے رہ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے گہرے سے گہرے راز بتا چکے ہیں یہاں تک کہ ایک دوسرے کے جوانی کے عشقوں کے بارے میں بھی جانتے ہیں مگر ہمیشہ ایک دوسرے کو آپ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ کبھی ایک دوسرے کو گندا لطیفہ نہیں سنایا،“ صدیقی صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔

”اور تیسری بات یہ کہ اگر میں ان سے کچھ کرنے کو کہوں اور یہ انکار کر دیں تو میں کبھی دوبارہ نہیں کہوں گا،“ پادری پال نے کہا، ”اور ان کا بھی یہی اصول ہے۔“

صدیقی صاحب نے تائید میں سر ہلایا۔ ان کی گود میں ایک رنگ برنگا رومال رکھا ہوا تھا جسے بار بار اٹھا کر کبھی اپنی باچھوں سے بہتی ہوئی رال پونچھتے اور کبھی اپنا چشمہ اٹھا کر آنکھیں پونچھتے۔

”بھئی یہ بڑھاپا قطعی واہیات چیز ہے،“ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ”بڑھاپے میں پورا جسم رسنے لگتا ہے۔ باچھیں بھی رستی ہیں، آنکھوں سے بھی پانی نکلتا رہتا ہے اور ناک بھی خواہ مخواہ بہتی رہتی ہے۔“

”صدیقی صاحب، آپ کو تین رومال رکھنے کی ضرورت ہے،“ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

”نہیں بھئی، یہ رومال کثیر المقاصد ہے،“ انہوں نے رومال اپنی گود میں پھیلاتے ہوئے کہا، ”اس کے ہر کونے پر ایک پھول بنا ہوا ہے۔ میں گلاب والا کونا آنکھیں پونچھنے کے لیے استعمال کرتا ہوں، گیندا باچھوں کے لیے ہے اور نیلوفر ناک صاف کرنے کے لیے ہے۔“

”اس کا مطلب ہے کہ سورج مکھی ابھی دستیاب ہے،“ میں نے کہا۔

”نہیں میاں، پچھلے دو تین روز سے میرا بایاں کان بہنا شروع ہو گیا ہے لہٰذا سورج مکھی بھی برسرروزگار ہو گئی ہے،“ انہوں نے پھر قہقہہ لگانے کے لیے منہ کھولا اور ان کا جسم تھلتھلانے لگا۔

جب پادری پال چلنے کے لیے مڑے تو صدیقی صاحب بولے، ”بھئی ریورنڈ، سسٹر کا شکریہ ادا کر دینا۔ انہوں نے پرسوں جو حلوہ بھیجا تھا اس کا ذائقہ ابھی تک زبان پر محسوس کر رہا ہوں۔“

”میں بتا دوں گا۔ وہ بہت خوش ہوں گی۔ اگر کوئی ان کے پکوان کی تعریف کردے تو پھولی نہیں سماتیں،“ پادری پال نے جواب دیا۔

Facebook Comments HS