”جٙون“ کا کراچی

آزادی کے خواب کی تعبیر سجائے روشن مستقبل کی امنگ میں ”علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت“ کا واضح اعلان کرنے والا جٙون ایلیا آج شدت سے یاد آ رہا ہے جون کے محبتی الفاظ اور ان کے ”جانی“ کہنے کی شیرینی اپنی تمام تر یادوں کے ساتھ چمٹ کر ان محافل اور بیٹھکوں کی یاد دلا رہی ہے جہاں ہم نے روز و شب بتائے، میرے کتابوں سے بھرے ترتیب شدہ کمرے میں آرٹسٹ لیاقت حسین، کمیونسٹ رہنما ڈاکٹر مظہر حیدر اور کمال کے شاعر جمال احسانی شریک محفل رہا کرتے تھے۔
جہاں عارف امام، اسرار شاکی ایسے جواں فکر شاعر محفل یاراں کا نہ صرف حصہ بلکہ اپنے سینیئرز سے سیکھنے کی تمنا لئے ہمیشہ اپنی تہذیب کو برتتے تھے۔ ایسے تخلیقی ماحول میں ”پینے کی لگن“ میں یوسف علی لائق کی یاد ہمیشہ رہا کرتی کہ وہی پرانی اور جواں نسل کے ”ساقی و مددگار“ ٹھہرتے، چاہے وہ جون ہوں، جاوید صبا ہوں، جمال احسانی ہوں یا عارف امام، ہم تمام احباب زمانہ یا اہل خانہ اپنی تنگ دامنی کی وجہ سے ”جون ایلیا“ کی حیثیت و مرتبے کو رگیدنا بھی چاہیں تو وہ اس میں ناکام۔ ہی رہیں گے کہ ادب و فن اور علم کے مرتبے کا تخلیق کار ”جٙون ایلیا“ ان کی حماقتوں سے زمانے اور خصوصی طور سے آج کی نسل کا وہ ترجمان بن چکا ہے جس کے شعری آہنگ سے جدید نسل اپنا اظہاریہ بنا رہی ہے جو کہ اس ابتلا اور بے ہنگم دور میں ایک نیک شگون ہے۔
کراچی کے تہذیب و ادب کی ”پٙو پھوڑنے“ میں ناظم آباد، لالو کھیت، ملیر، کورنگی، ڈرگ روڈ اور پیر الہی بخش کالونی مصروف رہا کرتے تھے اور جہاں ادب، مصوری اور تہذیب کے زاویوں پر بیٹھکیں ہوا کرتی تھیں، ناظم آباد کے ”کیفے الحسن“ سے ملکی سیاست میں ترتیب اور اسے ترقی پسند فکر کی جلا دینے کی بحثیں سوچ و فکر کے نئے زاویئے تلاش کرتی تھیں، وطن کے عوام کو محرومیوں سے نکالنے کی سبیلیں ہوا کرتی تھیں، کراچی کو ادب کے اعلی معیار دینے اور تخلیق کے نئے رخ مہیا کرنے کی فکر میں شاعری، افسانے، تھیٹر اور آرٹ کے مختلف خیال سے کراچی کو سنوارنے اور آرٹ کے فن کو توانا کرنے کی لگن میں مگن رہا کرتے تھے۔
عالمی شہرت کے صادقین اپنے فن مصوری سے عوام کے دکھوں کی نشاندہی برش اور رنگ سے کر رہے تھے۔ گل جی اور اقبال مہدی اپنے منفرد انداز سے عالمی سطح کے مصوروں میں شامل تھے۔ لکھنؤ اسکول آف آرٹ کے افسر مدد نقوی اپنی انگلیوں کی مہارت اور سنگ تراشی سے کبھی ”اسٹار گیٹ“ کا ”شش تارہ“ بنانے میں مگن ہوتے تھے تو کبھی افسر مدد نقوی کی سنگ تراشی کراچی کے حسن کو دوبالا کرنے کے لئے میٹرو پول سے متصل ”ولیج ریسٹرونٹ“ کی دیواروں پر مونومینٹ بنانے اور ”ولیج ریسٹورنٹ“ کی موسیقی میں سر دھننے میں مصروف رہا کرتی تھی۔
فیض احمد فیض ہوں، سجاد ظہیر ہوں، کیفی اعظمی ہوں، سبط حسن ہوں، عزیز حامد مدنی ہوں، قمر جمیل ہوں، ”مکتبہ دانیال“ سے چھپنے والی کوئی کتاب سجاد حسین کے شاگرد آرٹسٹ لیاقت کے ”سر ورق“ کے بغیر نہیں چھپ سکتی تھی۔ اردو بازار کی تنگ و تاریک کٹھیا میں بیٹھے ”صہبا لکھنوی“ کا رسالہ ”افکار“ پاکستان کے ادب کی علیمت اور پہچان بنا کرتا تھا۔ نئی نسل کے طلبہ علم کی جستجو میں لالٹین اور میونسپلٹی کی لائٹس میں اپنا علم حاصل کرنے کا شوق پورا کیا کرتے تھے۔
طلبہ کے سیاسی شعور کو سیقل کرنے میں ”ڈی جے سائنس کالج اور گورنمنٹ کالج ناظم آباد اہم کردار کے حامل تھے۔ طلبہ علم کی تگ و دو میں تعلیم کی مفت اور آسان فراہمی کے لئے جڑ کر“ کیفے الحسن ”اور کیفے جہاں“ بسایا کرتے تھے۔ ترقی پسند سیاسی فکر نے جمہوری آزادی کا شعور دیا تو طلبہ تحاریک کراچی سے اٹھیں اور کشمیر تک طلبہ میں سیاسی اور روشن خیال سوچ پیدا کی، اہل صحافت نے اظہار کی آزادی دلانے والے منہاج برنا ایسے رہنما اور طلبہ سیاست نے ڈاکٹر سرور، علی مختار رضوی اور معراج محمد خان پیدا کیے۔
کراچی میں آزادانہ مسافت کے لئے ٹرام وے، پبلک بسیں سبک رفتار سے سب کو منزل پر بروقت پہنچایا کرتی تھیں، جبکہ آزادانہ فکری ماحول جہاں رات نائٹ کلب کی رنگینیاں ہوا کرتی تھیں تو وہیں لسبیلہ کے ایک لق دق گھر میں رئیس امروہوی، سید محمد تقی اور جٙون ایلیا اہل فکر سے ادب و تہذیب کے گوشوں پر گفتگو کیا کرتے تھے اور چلمن سے شعر و ادب کے سخن ور اپنی تخلیقات میں مست و مگن رہا کرتے تھے۔ ہر گلی کے نکڑ پر میونسپلٹی کے بلب سب کو راستہ دکھانے میں مستعد رہا کرتے، اسٹریٹ لائٹس کے بلب ہر پندرہ روز بعد تبدیل ہوا کرتے تھے کہ کہیں کسی طالب علم کی پڑھائی میں رکاوٹ نہ آ جائے، تانگے بان اور ریڑھی بان کو رات میں روشنی کا اہتمام کرنے کی میونسپلٹی کی تاکید ہوا کرتی تھیں، آبادیوں میں شاپنگ سینٹر بنانے کی ممانعت تھی البتہ محلے کی آسانی کے لئے پرچون کی دکان میونسپلٹی کی اجازت سے لائسنس بنا نہیں کھولی جا سکتی تھی۔
جہاں ہر پندھڑواڑے ناپ تول کے ”بانٹ“ میونسپلٹی کے ذمہ داران چیک کیا کرتے تھے۔ شہر میں ٹھیلوں کے نمبر الاٹ کیے جاتے تھے۔ شہر کی خوبصورتی اور آب و ہوا کے تحفظ کے لئے ”ایک مالہ“ مکان سے زائد منزل بنانے کی ممانعت تھی جس پر شہر کی عمارتوں کے محکمے کڑی نگاہ رکھا کرتے تھے۔ محلوں سے دور مارکیٹ ہوا کرتی تھیں تاکہ پیدل جاکر خریداری کی جا سکے، جگہ جگہ نہ دکان نہ کوئی بڑا اسٹور۔ گویا کراچی میں اداروں اور قانون کی پاسداری کا ایک مضبوط اور متحرک نظام ہوا کرتا تھا۔ مجال کہ شہر میں گٹر ابلیں اور گھر عمارت کی منزلوں میں تبدیل ہو جائیں۔
کراچی کے اس مربوط اور خوبصورت نظام کو بہت منصوبہ بندی سے وطن کے غیر جمہوری آمر جنرل ایوب نے ہنگامے کروا کر، جداگانہ مطلب پرستی کا ماحول پیدا کر کے اور اداروں کی تباہی میں ”رشوت“ اور ناجائز کمائی کا تڑکہ ڈال کر زہر آلود کیا، جس میں آمر جنرل ضیا اور آمر مشرف نے اضافہ کیا جو آج تک کراچی کی تہذیب و ادب اور ترتیب کو چبا رہا ہے۔ یہ شاید بھورے خان کے خانوادے کا قصور تھا کہ کراچی میں ”دلی کی نہاری“ کی شناخت کروائی، اسی خاندان کی جواں نسل نے اپنے پرکھوں کی نشانی سلامت رکھنے کے لئے قانون کے تحت گلشن اقبال میں اپنے وطن کی نہاری کی لاج رکھی، مگر آج کے رشوت خور بلڈنگز کے افسران مختلف بہانوں سے ڈرا دھمکا کر ”اس روایت“ کو ناجائز دولت کمانے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ غیر قانونی اقدام بتایا جائے تو سوائے ڈھٹائی کے کچھ نہیں، جبکہ دوسری جانب شہر کے سیوریج نظام کو تباہ و برباد کرنے کے لئے آبادیوں کے گھروں کو ”اپارٹمنٹ“ میں منتقل کرنے کی غیر قانونی اجازت رشوت کے عیوض دھڑلے سے دی جا رہی ہے۔
سوچتا ہوں کہ کولاچی کو کراچی بنانے کا خواب دیکھنے والی وہ ہجرت زدہ مگر تہذیب و شائستگی سے مرصع نسل کی بے چین روحیں آج بھی اپنے خواب ”کراچی“ کے چوبارے، جھونپڑ پٹی اور نیم تاریک ادھڑی ہوئے روڈ رستوں پر اپنی فراٹے بڑھتی نسل کو تعلیم، تہذیب، آرٹ اور علم و ادب سے مزین کرنا چاہتی ہے۔ تڑپ ہی رہی ہوں گی؟ برسہا برس کی ریاضت و مشقت کے بعد بھی روشنی کا شہر کہلائے جانے والا ”کراچی“ آخر کار کیوں محفل نما بیٹھکوں اور فن کاروں کی قدر اور ترتیب سے ناآشنا کر دیا گیا ہے۔
اس کی کئی وجوہات بیان کرنے کے باوجود کراچی کے ادب اور آرٹ کے دکھ سے رستی ہوئی نا قدری چیخ چیخ کر اپنی رسوائی اور بربادی پر اب تک گھٹ سی رہی ہے جب کراچی کے شعر و سخن اور آرٹ و فن کے تخلیقی آہنگ کی بربادی پر آب پارہ کے پروردہ غلام شاہ راج کرنے لگیں تو ادب مصوری و تخلیق دکھی ہی رہے گی پھر مین پوری اور گٹکے کی نسل ہی پروان چڑھے گی۔ بقول جٙون ایلیا۔
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت۔
غور کرنے پہ یاد آتی ہے۔
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا۔
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں۔



